|

وقتِ اشاعت :   November 12 – 2025

بی بی سی اردو میں شائع ہونے والی خبر کے مطابق افغانستان کے نائب وزیر اعظم برائے اقتصادی امور مولوی عبدالغنی برادر نے افغان صنعتکاروں اور تاجروں سے کہا ہے کہ وہ پاکستان کی بجائے دیگر ممالک سے تجارت کے راستے تلاش کریں اور اگر کوئی تاجر اس پر عمل درآمد نہیں کرتا تو اس کے لیے پھر افغان حکومت کسی قسم کی مدد نہیں کر سکے گی۔

یہ اعلان انھوں نے افغانستان میں ایک کانفرنس سے خطاب میں کیا ہے اور یہ فیصلہ ایک ایسے وقت میں ہوا ہے جب دونوں ممالک کے درمیان حالات انتہائی کشیدہ ہیں اور دونوں حالات بحال کرنے کے لیے دیگر ممالک جیسے ترکی اور قطر کی کوششیں جاری ہیں۔

پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحد ہر قسم کی تجارت کے لیے 32 روز سے بند ہے اور اس وقت سرحد پر بڑی تعداد میں تجارتی سامان سے لدی ہوئی گاڑیاں کھڑی ہیں۔

ملا برادر نے کہا کہ اب افغانستان پاکستان کے ساتھ تجارتی لین دین بند کرے گا اور تاجر برادری کو ہدایت دیں کہ وہ متبادل راستے تلاش کریں۔

ملا برادر نے کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت پاکستان کے ساتھ تجارت کا بڑا حصہ ادویات کی درآمد پر مشتمل ہے، اور پاکستانی ادویات درآمد کرنے والے تاجروں کو تین ماہ کی مہلت دی گئی ہے کہ وہ اپنے مالی معاملات مکمل کر لیں۔

تین ماہ بعد افغان وزارتِ خزانہ پاکستان سے ادویات کی درآمد پر نہ محصول لے گی اور نہ ہی اجازت دے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسی اطلاعات ہیں کہ پاکستان سے درآمد کی جانے والی ادویات غیر مؤثر رہی ہیں۔

انھوں نے ساتھ یہ بھی کہا ہے کہ کوئی بھی ملک انفرادی طور پر اپنی تمام ضروریات پوری نہیں کر سکتا اس لیے ایک دوسرے پر انحصار کرنا پڑتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ بد قسمتی سے بعض ممالک سے تجارت میں رکاوٹیں اور اقتصادی بندش اور سیاسی طور پر دباؤ کی وجہ سے مشکلات بڑھ جاتی ہیں۔

پاک-افغان مشترکہ چیمبر کے رہنما خان جان الکوزئی نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ اس اجلاس میں شریک تھے اور اس میں انھوں نے کہا ہے کہ امارت اسلامی افغانستان کا مؤقف یہ تھا کہ پاک افغان سرحد سال میں اکثر بند کر دی جاتی ہے جس سے تاجروں کا نقصان ہو رہا ہے اور اس نقصان سے بچانے کے لیے انھوں نے تجویز دی ہے کہ تجارت کے متبادل راستے تلاش کریں جو مشکل ضرور ہوں گے لیکن ناممکن کچھ نہیں ہے۔

انھوں نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ پاکستان سے تجارت میں آسانیاں ہیں، کم خرچ ہے اور مال وقت پر پہنچ جاتا ہے جیسے اگر لاہور سے ٹرک صبح کے وقت روانہ ہو تو شام تک جلال آباد میں ہوتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ دیگر ممالک کے ساتھ اگر تجارت ہوگی تو اس میں مشکل یہ ہے کہ ایک تو اس پر خرچہ زیادہ آئے گا اور دوسرا اس میں وقت زیادہ لگ سکتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کے چین کا سامان قازقستان کے راستے پہنچ رہا ہے لیکن اس میں وقت زیادہ لگ جاتا ہے۔

پاکستان میں چیمبر آف کامرس کے سابق صدر اور پاک افغان چیمر کے رکن فیض محمد نے بی بی سی کو بتایا کہ جب سے افغانستان میں نئی حکومت آئی ہے پاکستان اور افغانستان کے درمیان تجارت کا حجم کافی حد تک کم ہوا ہے۔

انھوں نے کہا کہ تجارت کی بندش سے دونوں ممالک کے تاجروں کو نقصان ہوگا کیونکہ پاکستان سے سیمنٹ، چاول، ادویات موسمی سبزیاں اور پھلوں کے علاوہ چکن وغیرہ افغانستان جاتا ہے اسی طرح افغانستان سے پھل اور سبزیاں پاکستان آتی ہیں اور اس سے تجارت سے وابستہ ہر طبقے کا فائدہ ہوتا ہے۔

خان جان الکوزئی نے کہا کہ افغانستان میں تاجروں کا مشکل وقت تو گزر گیا ہے کیونکہ انار، انگور اور سیب کا موسم لگ بھگ ختم ہو گیا ہے اور اب پاکستان کے پھلوں کی باری ہے جیسے کیلا، امرود، مالٹا، کینو اور دیگر پھل آئیں گے اور سرحد کی بندش سے پاکستان کے کسانوں اور تاجروں کا نقصان ہو سکتا ہے۔

طورخم سرحد پر موجود کسٹم کلیئرنگ ایجنٹ ایسوسی ایشن کے رہنما مجیب شنواری کا کہنا تھا کہ اس بندش سے زیادہ نقصان افغانستان کا ہوگا کیونکہ باقی کوئی ایسے متبادل راستے نہیں ہیں جہاں سے افغانستان تجارت کر سکے، مثال کے طور پر ایران پر پہلے سے عالمی سطح پر پابندیاں ہیں۔ اس کے علاوہ وسطی ایشیائی مالک افغانستان سے دور پڑتے ہیں اور وہاں سے تجارت پر زیادہ اخراجات آ سکتے ہیں جس سے مقامی سطح پر مہنگائی ہوگی یا قلت ہو سکتی ہے۔