کوئٹہ: بلوچستان اسمبلی میں گیس لوڈ شیڈنگ کے خاتمے،صوبائی اسمبلی سے منظور شدہ قراردادوں پر عملدرآمد کی بابت مانیٹرنگ میکانزم قائم کرنے، کلی علیزئی ضلع پشین کو سب تحصیل کا درجہ دینے اور صنعتی ٹرانس فیٹس پر ملکی اور بین الاقوامی صحت کے معیارات کے مطابق کل چربی کے 2 فیصد سے زائد مقدار رکھنے والی غذاؤں کی پیداوار، فروخت اور استعمال پر پابندی عائد کرنے سے متعلق چار قراردادیں متفقہ طور پر منظور کرلی گئیں۔
بلوچستان اسمبلی کا اجلاس جمعہ کو 40 منٹ کی تاخیر سے اسپیکر کیپٹن (ر) عبدالخاق اچکزئی کی زیر صدارت شروع ہوا، اجلاس میں جمعیت علماء اسلام کے رکن اصغر علی ترین نے اپنی قرارداد پیش کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان کے تمام اضلاع میں سخت سرد موسم میں گیس لوڈشیڈنگ اور سخت گرم موسم میں بجلی کی لوڈشیڈنگ نے صوبے کے عوام کی زندگی اجیرن بنادی ہے اس صورتحال کے پیش نظر متعدد بار جی ایم سوئی سدرن گیس کمپنی اور چیف ایگزیکٹو آفیسر کیسکو کی جانب سے اراکین بلوچستان اسمبلی کو اپنے بریفنگ کے دوران صوبہ کے لوگوں کو گیس اور بجلی کی فراہمی کی بابت یقین دہانیوں کے باوجود تاحال خاطر خواہ اقدامات نہیں اٹھائے جارہے ہیں جس کی وجہ لوگوں کو سخت مشکلات کا سامنا ہے،
لہذا یہ ایوان صوبائی حکومت سے سفارش کرتا ہے کہ وہ وفاقی حکومت سے رجوع کرے کہ بلوچستان کے وہ علاقے جن میں سخت سردی پڑتی ہے وہاں گیس لوڈ شیڈنگ فوری طور پر ختم اور جن علاقوں میں سخت گرمی پڑتی ہے وہاں بجلی کی لوڈشیڈنگ ختم کرنے کو یقینی بنائے۔
قرارداد کی موزونیت پر بات کرتے ہوئے اصغر ترین نے کہا کہ ہم ہر سال سردی میں گیس اور گرمی میں بجلی کی لوڈشیڈنگ کا رونا روتے رہتے ہیں، زرعی فیڈروں کے سولر پر منتقل ہونے کے بعد بھی بجلی کی لوڈشیڈنگ کی جارہی ہے، پشین میں لکڑی دو ہزار روپے من فروخت ہورہی ہے،
انہوں نے کہا کہ بجلی اور گیس کے بغیر ہمارے لوگ زندگی نہیں گزارسکتے اب تک سردی کی شدت میں اضافہ نہیں ہوا اس سے پہلے اس مسئلہ کو حل کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ ایوان میں پاکستان پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کے اراکین اسمبلی موجود ہیں وفاق میں بھی ان کی اتحادی حکومت ہے وہ بجلی اور گیس کے مسئلہ پر وزیراعظم سے بات کریں، ہم بھی ساتھ جانے کو تیار ہیں حکومتی اراکین گورنر سے مل کر انہیں بتائیں کہ وہ اس مسلے کیلئے وفاق سے بات کریں تاکہ سردیوں کے ایام لوگ سکون سے گزار سکیں۔ صوبائی وزیر خزانہ میر شعیب نوشیروانی نے کہا کہ بلوچستان میں گیس اور بجلی کی لوڈشیڈنگ کا مسئلہ سنگین ہوتا جارہا ہے، انہوں نے اسپیکر سے استدعا کی کہ وہ ایک کمیٹی بنائیں جو اسلام آباد جاکر اس مسلے پر بات کرے۔
صوبائی وزیر میر عاصم کرد گیلو نے کہا کہ بلوچستان اسمبلی سے ہزاروں قراردادیں منظور ہوئی ہیں
مگر ان پر عمل نہیں ہوتا، سرد علاقوں میں لوگ گیس نہ ہونے کے باعث قیمتی جنگلات کاٹ کر متبادل ایندھن کے طور پر استعمال کررہے ہیں۔ ضلع کچھی کا دس فیصد علاقہ سوئی سدرن گیس سے منسلک ہے ان کو بھی گیس نہیں دی جارہی جس پر اسپیکر نے کہا کہ آپ حکومت کا حصہ ہیں
عملدرآمد کرنا آپکا کام ہے، اسپیکر نے رولنگ دیتے ہوئے کہا کہ گزشتہ اجلاس میں وزیراعلیٰ بلوچستان نے کہا کہ ایک پارلیمانی کمیٹی بناکر وفاق کے پاس جائیں گے اس قرار داد کو بھی اس کمیٹی کے ایجنڈے کا حصہ بناکر وزیراعظم سے ملاقات میں اس مسئلہ پر بات کی جائے۔ پارلیمانی سیکرٹری نوابزادہ زرین مگسی نے کہا کہ حب اور لسبیلہ کو کے الیکٹرک بجلی سپلائی کرتی ہے
وہاں بھی لوڈشیڈنگ ہورہی ہے اس مسلے کے حل کے لئے میں خود چار سے پانچ مرتبہ کے الیکٹر ک کے دفتر گیا ہوں، انہوں نے اسپیکر سے استدعا کی کہ کے الیکٹرک سے بات کرنے کے والے سے کوئی حکمت عملی بنائی جائے، وزیراعلیٰ کی سربراہی میں جو کمیٹی وفاق میں بلوچستان کے ایشوز پر بات کرنے جارہی ہے وہ کے الیکٹرک کے حوالے سے بھی وزیراعظم سے بات کرے۔ پیپلز پارٹی کے رکن حاجی میر علی مدد جتک نے کہا کہ بلوچستان میں گیس دستیاب ہے مگر صارفین کو فراہم نہیں کیا جاتی ہے لیکن صارفین کو ہزاروں روپے کے بل ارسال کئے جارہے ہیں۔پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رکن زرک مندوخیل نے کہا کہ اس موسم میں بھی بجلی کی آٹھ آٹھ گھنٹے لوڈشیڈنگ کی جارہی ہے، اسپیکر بلوچستان اسمبلی، وزیراعلیٰ بلوچستان اور گورنر بلوچستان نے بارہا سوئی سدرن گیس حکام کو بلاکر مسئلہ حل کرنے کا کہا ہے تاہم پیشرفت نہیں ہوتی ہے، انہوں نے کہا کہ صارفین سے صرف بل وصول کرنا مذکورہ کمپنی کی ذمہ داری ہے حکومت نے کبھی سوئی سدرن گیس حکام کو بل وصول کرنے سے نہیں روکا۔ گیس کی لوڈشیڈنگ سے حادثات انسانی جانیں ضائع ہورہی ہیں انہوں نے اسپیکر سے استدعا کی کہ حکومتی اتحادی اور اپوزیشن اراکین پر مشتمل کمیٹی بناکر وزیراعظم سے بات کریں۔
جمعیت علماء اسلام کے رکن سید ظفر علی آغا نے بھی اسپیکر سے کمیٹی بنانے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ ایک کمیٹی بنائی جائے جو بجلی اور گیس کے معاملے کو مسلسل دیکھے، انہوں نے کہا کہ منفی درجہ حرارت میں بھی بلوچستان کے لوگ بغیر گیس کے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ جمعیت علماء اسلام کے رکن زابد علی ریکی نے کہا کہ بلوچستان میں گیس اور بجلی کی لوڈشیڈنگ کا مسئلہ سنگین ہوتا جارہا ہے، وفاق میں مسلم لیگ (ن) کی حکومت ہے (ن) لیگ کے اراکین اسمبلی یہاں ایوان میں باتیں کرنے کی بجائے اپنے وزیراعظم سے ملاقات کرکے یہ مسئلہ حل کرائیں۔
بعد ازاں ایوان نے قرارداد کو ایوان کی مشترکہ قرارداد کے طور پر متفقہ منظور کرلیا۔ اجلاس میں جمعیت علماء اسلام کے سید ظفر علی آغا نے قرارداد پیش کرتے ہوئے کہا کہ کلی علیزئی ضلع پشین تقریباً 60 ہزار نفوس پر مشتمل علاقہ ہے اور اس کی آبادی دن بدن بڑھ رہی ہے واضح رہے کہ کلی عیلزئی میں اس وقت آر ایچ سی، بجلی گرڈ اسٹیشن اور پولیس تھانہ بھی موجود ہے اس کے باوجود کلی علیزئی کو سب تحصیل کا درجہ نہیں دیا گیا ہے۔ لہذا یہ ایوان صوبائی حکومت سے سفارش کرتا ہے کہ کلی علیزئی ضلع پشین کو سب تحصیل کا درجہ دینے کی بابت عملی اقدامات اٹھانے کو یقینی بنائے تاکہ وہاں کے عوام کا درینہ مطالبہ حل ہو اور انہیں زندگی کی تمام بنیادی سہولیات میسر آسکیں،
جمعیت علماء اسلام کے رکن اسمبلی اصغر علی ترین نے کہا کہ پشین کی کلی علیزئی تین اضلاع سے منسلک ہے وہاں امن وامان سنگین مسئلہ ہے امن وامان کو بہتر بنانے کیلئے کلی علیزئی کو تحصیل کا درجہ دیا جائے۔ بعد ازاں اسمبلی نے کلی علیزئی کو تحصیل کا درجہ دینے کی قرارداد منظور کرلی۔عوامی نیشنل پارٹی کی رکن سلمیٰ بی بی نے اپنی، ڈپٹی اسپیکر غزالہ گولہ اور اراکین اسمبلی شاہدہ روف، فرح عظیم شاہ اور صفیہ بی بی کی مشترکہ قرارداد ایوان میں پیش کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان اسمبلی میں اراکین کی جانب سے متعدد عوامی فلاح و بہبود کی بابت قرار دادیں منظور کی جاتی ہیں اور باقاعدہ طور پر حکومت کو علمدرآمد کے لئے ارسال کی جاتی ہیں لیکن ان قرار دادوں پر موثر عمل درآمد نہ ہونے کے برابر ہے، لہذا یہ ایوان صوبائی حکومت سے سفارش کرتا ہے کہ حکومت بلوچستان اسمبلی سے منظور شدہ قراردادوں پر عملدرآمد کی بابت ایک مانیٹرنگ میکانزم قائم کرے جو تمام محکموں میں اسمبلی کی منظور شدہ قرار دادوں پر پیش رفت کی نگرانی اور عملدآمد میں درپیش رکاوٹوں کو دور کرے۔
قرارداد کی موزنیت پر بات کرتے ہوئے شاہد روف نے کہا کہ ہمیشہ یہ گلہ رہتا ہے کہ بلوچستان اسمبلی سے منظور ہونے والی قراردادوں پر عملدرامد نہیں ہوتا، لہذا قراردادوں پر عملدرآمد کیلئے حکمت علی بنائی جائے تاکہ ان قراردادں وں پر عملدرآمد ہو۔ اسپیکر نے کہا کہ قرارداد ایک سفارش ہوتی ہے اس پر عمل کرنا نہ کرنا حکومت کا کام ہوتا ہے۔ صوبائی وزیر خزانہ میر شعیب نوشیروانی نے کہا کہ قراردادوں پر عمل ہونا اچھی بات ہے، سیکرٹری اسمبلی اس حوالے سے لسٹ تیار کرکے دیں ہم اس پر عمل درآمد کرنے کی کوشش کریں گے۔ رکن اسمبلی فرح عظیم شاہ نے کہا کہ اسمبلی میں اکثریت سے منظور ہونے کے بعد یہ قراردادیں کہاں جاتی ہیں سمجھ نہیں آتا، قرار دادوں پر عملدرآمد نہ ہونا سنگین مسئلہ ہے۔
بعد ازاں ایوان نے قرارداد متفقہ طور پر منظور کرلی۔اجلاس میں پیپلز پارٹی کی رکن ڈپٹی اسپیکر بلوچستان اسمبلی غزالہ گولہ نے اپنی اور اراکین اسمبلی شاہدہ رؤف، فرح عظیم شاہ، سلمیٰ بی بی اور ام کلثوم کی مشترکہ قرارداد پیش کرتے ہوئے کہا کہ صنعتی طریقے سے تیار کردہ ٹرانس فیٹی ایسڈ اور جزوی طور پر ہائیڈرو جینٹڈ آئلز جس کو عام زبان میں پی ایچ او بھی کہا جاتا ہے جو دل کی بیماری، ذیابطیس، اسٹروک اور دیگر خطرناک غیرمتعدی امراض کی بڑی وجہ ہے چونکہ صارفین کی اکثریت پیک شدہ اور پراسیس شدہ غذاؤں میں موجود ان دونوں چیزوں کے مضر صحت ہونے کے بارے میں آگاہ نہیں ہوتے لہذا مذکورہ بالا حقائق کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ ایوان صوبائی حکومت سے سفارش کرتا ہے کہ صنعتی ٹرانس فیٹس پر ملکی اور بین الاقوامی صحت کے معیار کے مطابق کل چربی کے 2 فیصد سے زائد مقدار رکھنے والی غذاؤں کی پیداوار، فروخت اور استعمال پر سخت پابندیاں عائد کی جائیں اور صوبہ میں جزوی طور پر ہائیڈرو جینٹڈ آئل کی تیاری، تقسیم اور درآمد پر مرحلہ وار پابندی عائد کرنے کے لئے فی الفور قانون سازی کی اور اس کا فوری اطلاق کیا جائے۔
بعد ازاں قرارداد متفقہ طور پر منظوری کرلی گئی۔ اس موقع پر اسپیکر نے صوبے میں رجسٹرڈ اور ان رجسٹرڈ آئل بنانے والی فیکٹریوں کی تفصیلات طلب کرتے ہوئے اسمبلی کا اجلاس 10 دسمبر تک ملتوی کردیا۔