کوئٹہ : عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی ترجمان ولی داد میانی نے ضلع ہرنائی میں ضلعی انتظامیہ کی جانب سے کول مائنز اونرز اور ٹھیکیداروں کو مائنز لیبر مشینری اور مائننگ کے تحفظ کے لیے پرائیویٹ مسلح لشکر تشکیل دینے کے احکامات کو غیر آئینی غیر قانونی اور انتہائی تشویش ناک قرار دیا ہے
ترجمان نے حکومتِ بلوچستان اور اعلی انتظامی حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ان غیر قانونی احکامات کا فوری نوٹس لے کر انہیں واپس لیں انہوں نے کہا کہ ملکی آئین اور قانون کے مطابق کول مائنز مزدوروں تاجروں اور عوام کی جان و مال کی حفاظت ریاست حکومت اور سکیورٹی اداروں کی بنیادی ذمہ داری ہے
اور اسی مقصد کے لیے عوام کے ٹیکسوں سے سالانہ کھربوں روپے مختص کیے جاتے ہیں ضلع ہرنائی کی کول مائننگ سے ہر سال اربوں روپے کی مد میں انکم ٹیکس سیلز ٹیکس اور رائلٹی صوبائی و وفاقی حکومتوں کو جمع ہوتی ہے ترجمان کے مطابق ڈپٹی کمشنر کی جانب سے مائنز اونرز اور ٹھیکیداروں کو مسلح گروہ بنانے کی ہدایات دراصل ریاست حکومت اور ضلعی انتظامیہ کی اپنی آئینی ذمہ داریوں سے دستبرداری کے مترادف ہیں
پرائیویٹ لشکروں اور مسلح جھتوں کے قیام سے کلاشنکوف کلچر بدامنی اور لاقانونیت کو مزید فروغ ملے گا جو ضلع ہرنائی کے خلاف جاری سازشوں اور منفی عزائم کا حصہ محسوس ہوتا ہیبیان میں خبردار کیا گیا ہے کہ اگر حکومت اور اعلی حکام نے فوری طور پر نوٹس نہ لیا اور ڈپٹی کمشنر نے قانون و مینڈیٹ سے تجاوز کرتے ہوئے جاری کیے گئے
احکامات واپس نہ لیے تو کول مائنز اونرز ٹھیکیدار اور عوام سیاسی جماعتوں کی قیادت میں احتجاج اور عدالتی چارہ جوئی پر مجبور ہوں گے ترجمان نے تمام جمہوری سیاسی پارٹیوں سے بھی اپیل کی ہے کہ وہ اس خطرناک منصوبے کے خلاف متحدہ جمہوری آواز بلند کریں اور مشترکہ احتجاج پر غور کریں ضلع ہرنائی میں بھتہ خوری اور اغوا برائے تاوان معمول بن چکا ہے
جبکہ حکومت اور سکیورٹی ادارے خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں عوام شدید تشویش میں مبتلا ہیں کہ ضلع ہرنائی میں رٹ آف دی گورنمنٹ کہیں نظر نہیں آتا اور شہریوں کو بھتہ خور اور اغوا کار مافیا کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا ہے جو نہ صرف افسوسناک بلکہ خطرناک صورتحال ہے۔