کوئٹہ: امیرجماعت اسلامی بلوچستان ایم پی اے مولانا ہدایت الرحمن بلوچ نے کہا کہ بلوچستان کے عوام کومسائل مشکلات پریشانی میں دھکیل کرلڑاووحکومت کی پالیسی کسی صورت قبول نہیں کیا جائے گا
وسائل سے مالامال بلوچستان مقتدرقوتوں واسلام آبادکے طاقتورطبقات کی لوٹ ماروبے حسی اورغفلت کی وجہ سے امن وروزگارکوترس رہے ہیں
بلوچستان میں سول حکومت کے دیانتدارلوگ ہوتے تومسائل ختم ہوجاتے آج طاقت نفرت ڈنڈے کی زبردستی کی حکمرانی ہیں۔ان خیالات کااظہارانہوں نے کوئٹہ میں اجلاس اوروفودسے ملاقات کے دوران گفتگو میں کیاانہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی اہل بلوچستان کے مسائل کواجاگراوران کے حل کیلئے ہرفورم پرآوازاٹھاتی رہے گی بلوچستان کے سلگتے اجتماعی مسائل پرسب کوعملی اقدامات کیلئے آوازاٹھاناچاہیے۔
جماعت اسلامی حقوق کے حصول کیلئے احتجاج دھرنے سمیت اسمبلی کے اندرآوازاٹھاتی رہے گی۔حقوق بلوچستان لانگ مارچ کوئٹہ سے اسلام آباد کیابلوچستان کے مسائل کواجاگر اوران کے حل کیلئے حقوق بلوچستان کے تحت کوئٹہ میں سیاسی جماعتوں،
علمائے کرام، نوجوانوں کاجرگے سیمینارمنعقدکیے۔بلوچستان کے سیندک ریکوڈک سی پیک کے ثمرات بلوچستان کے عوام کو ملناچاہیے اگر بلوچستان کے وسائل یہاں کے عوام کی حالت بدلنے مسائل کے حل کیلئے خرچ کیے جاتے توآج حالات یکسرتبدیل اورمسائل حل ہوتے جماعت اسلامی کامطالبہ ہے کہ بلوچستان کے وسائل یہاں کے عوام پرخرچ کیے جائے
تاکہ غربت بے روزگاری ختم ہوجائے بارڈرزکھول دیے جائے لاپتہ افراد بازیاب کیے جائے بجلی گیس لوڈشیڈنگ ختم کیے جائیں شاہراہوں کی بندش کے بجائے عوام کے مسائل کے حل کیلئے عملی فوری اقدامات اٹھائے جائے۔