|

وقتِ اشاعت :   November 27 – 2025

کوئٹہ+پسنی:  بلوچستان نیشنل پارٹی (عوامی)کے مرکزی اور صوبائی رہنماؤں ڈاکٹر ناشنا س لہڑی، رشید بلوچ، الہی بخش بلوچ، ڈاکٹر عبید اللہ، ڈاکٹر یاسر نصیر، عبدالوکیل مینگل، فاروق ناشناس، ملک محمد صادق بنگلزئی و دیگر نے کہا ہے کہ تمام سیاسی و مذہبی جماعتوں کو ایک پلیٹ فارم پر متحد ہوکر بلوچستان کے حقوق کے حصول اور دسترس کیلئے جدوجہد کرنا ہوگی

حکومت فوری طور پر اس سال الاٹ کی گئی مائنز کو منسوخ کرکے تمام اسٹیک ہولڈر کی مشاورت سے صوبے کے مفاد کو مد نظر رکھتے ہوئے نئی قانون سازی کو یقینی بنائیں جس میں بلوچستان کے حقوق کے حصول کا دفاع موجود ہوں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے پارٹی کے زیر اہتمام جمعرات کو کوئٹہ پریس کلب میں مائنز اینڈ منرل ایکٹ کے عنوان سے منعقدہ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

مقررین نے کہا کہ بلوچستان نیشنل پارٹی عوامی کے سربراہ سابق صوبائی وزیر رکن صوبائی اسمبلی راجی راہشون واجہ میر اسد اللہ بلوچ کے وژن پر عمل پیرا ہو کر عوام کی آسودگی کیلئے جدوجہد کر رہی ہے۔

اور اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ بلوچستان کی سرزمین سے نکلنے والے معدنیات اور قدرتی وسائل پر سب سے پہلا حق بلوچستان کے عوام کا ہے۔ اس لئے 2025میں جو مائنز لیز الاٹمنٹ کی گئی انہیں فی الفور منسوخ کیاجائے۔

مقررین نے کہا کہ بلوچستان کے وسائل پر سب سے پہلا حق یہاں کے عوام کا ہے بلوچستان نیشنل پارٹی (عوامی) ایسی کسی ترمیم کو قبول نہیں کرتی جس میں بلوچستان کے عوام کے حقوق محفوظ نہ ہوں کیونکہ جس طرح عجلت میں پارلیمان سے مائنز منرلز ایکٹ منظور کرکے تمام اختیارات اور وسائل وفاق کو منتقل کئے گئے جس کے بعد بلوچستان نیشنل پارٹی (عوامی) اور دیگر جماعتوں نے اس پر شور مچایا جس پر حکومت ایک بار پھر مائنز اینڈ منرلز ایکٹ کا ازسرنو جائزہ لیکر تمام جماعتوں اور پارلیمنٹ میں موجود اور باہر جماعتوں کے رہنماؤں کی مشاورت سے نئی قانون سا زی کا عندیہ دے چکی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہماری جماعت بلوچستان ک لوگوں کے حقوق کے حصول پر دسترس کے لئے اپنا کردار ادا کرتی رہے گی۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے وسائل کے حوالے سے تمام سیاسی و مذہبی جماعتوں کو ایک پلیٹ فارم پر متحد ہو کر جدوجہد کرنا ہوگی اور معاشرے کے ہر طبقہ فکر کے لوگوں کو آگے آنا ہوگا خاص کر ادیب و دانشور، قلمکار، جرنلسٹ، وکلا سمیت سب کو اس حوالے سے اپنی تجاویز دیتے ہوئے اپنا کردار ادا کرنا ہوگاتاکہ مائنز اینڈ منرلز کے حوالے سے اگر کوئی قانون بنتا ہے تو اس میں بلوچستان کے عوام کے حقوق سلب نہ ہوں۔تقریب میں پیش کی جانے والی 8 قرار دادوں کو شرکاء نے منظور کرلیا۔

قرار دادوں میں کہا گیا کہ مائنز اینڈ منرلز ایکٹ 2025کا نفاذ 18ویں ترمیم۔ مائنز اینڈ منرلز ایکٹ 2025آئین کے آرٹیکل 172کلاس 3کیخلاف ہے۔

استحصال ظلم و جبر نا انصافی نا منظور۔بلوچستان میں جو بھی قومی دولت سرزمین کے سینے میں دفن ہیں ان پر پہلا حق بلوچستان کے عوام کا ہے مائنز اینڈ منرلز ایکٹ 2002کو بحال کیا جائے۔

مائنز اینڈ منرلز ایکٹ 2025کے بعد جو بھی لیز بلوچستان سے باہر کی کمپنیوں کو الاٹ کی گئی ہیں ان کو فوری پر طوری پر منسوخ کیا جائے۔مائنز اینڈ منرلز کے حوالے سے آنیو الے وقت میں بھی اگر کوئی ایکٹ بنتا ہے تو جس علاقے میں معدنیات نکلتی ہیں اس ضلع کے شیئر ہولڈرز سے ان کے تجاویز لے کر ایکٹ میں شامل کیا جائے۔جہاں کہیں صوبے سے باہر کی کمپنی کو کوئی لیز الاٹ کی جاتی ہے تو اس کمپنی میں مقامی لوگوں کو شیئرہولڈرز بنانا ضروری قرار دیا جائے تاکہ بلوچستان کے وسائل اور لوگوں کے حقوق کے حصول ممکن بنایا جاسکے۔ دریں اثناء بی این پی عوامی کے زیرِ اہتمام مائنز اینڈ منرلز ایکٹ 2025 کے خلاف پسنی پریس کلب میں ایک سیمینار منعقد کیا گیا، جس میں بی این پی عوامی ضلع گوادر کی خاتون آرگنائزر مریم صاحب خان، تحصیل آرگنائزر محمد علی سنگھور اور پسنی کے کارکنان لعل بخش سراج، گیابانی سرمگ سمیت راشدیاد خواتین کارکنان نے شرکت کی۔

سیمینار سے محمد علی سنگھور اور مریم صاحب خان نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان کے قومی وسائل پر کسی بھی قسم کی سودے بازی قبول نہیں کی جائے گی۔

انہوں نے کہا کہ جب بھی صوبے سے باہر کی کسی کمپنی کو لیز الاٹ کی جاتی ہے تو اس کمپنی میں مقامی لوگوں کو شیئر ہولڈرز بنانا لازمی قرار دیا جاتا ہے۔ سیمینار میں قرارداد بھی پیش کی گئی، جس میں کہا گیا کہ مائنز اینڈ منرلز ایکٹ 2025، آئین کے آرٹیکل 172 کلاز 3 کے خلاف ہے، اور بلوچستان کی سرزمین میں دفن قومی دولت پر پہلا حق بلوچستان کے عوام کا ہے۔

مقررین نے مطالبہ کیا کہ مائنز اینڈ منرلز ایکٹ 2002 کو بحال کیا جائے اور ایکٹ 2025 کے بعد بلوچستان سے باہر کی جن کمپنیوں کو لیز الاٹ کی گئی ہے، انہیں فوری طور پر منسوخ کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ مائنز اینڈ منرلز سے متعلق مستقبل میں اگر کوئی نیا ایکٹ بنایا جاتا ہے تو جس علاقے سے معدنیات نکالی جاتی ہیں، اْس ضلع کے شیئر ہولڈرز کی سفارشات اور تجاویز کو شامل کرنا لازمی قرار دیا جائے۔