کوئٹہ: جامعہ بلوچستان میں مخصوص عناصر کو تحفظ دینے اور طلبہ کی تخلیقی و تحقیقی سرگرمیوں پر پابندی عائد کرنے کے اقدامات نے ادارے کی تعلیمی ساکھ کو غیر مستحکم کر دیا ہے بی ایس او شال زون۔
بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن شال زون کے ترجمان نے اپنے جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ جامعہ بلوچستان کو مخصوص لوگوں میں ڈگریاں بانٹنے کا ادارہ بنا کر عام اسٹوڈنٹس کی تخلیق و تحقیق پر قدغن لگائی گئی ہے۔
طلباء تنظیموں کی سرگرمیوں کو بزورِ طاقت روکنے والے عناصر درپردہ کرپشن کو ہوا دے رہے ہیں۔ جامعہ بلوچستان ہراسگی اسکینڈل کے ملزمان کو تحفظ دے کر دوبارہ مختلف اختیاری کمیٹیوں میں شامل کیا گیا ہے، بلکہ اب تو معاملہ یہاں تک پہنچ گیا ہے کہ افیلی ایشن کمیٹی سمیت اہم فیصلوں کی جگہوں پر وہی چہرے بٹھائے گئے ہیں
جن میں سے ایک مائیکرو بائیولوجی کا سابقہ سربراہ بھی ہے جو پچھلے اسکینڈل میں براہِ راست شامل تھا۔
دوسری جانب حالات کا بہانہ بنا کر آرٹس ایگزیبیشن کو بغیر کسی نوٹس کے ختم کروایا گیا جس کا مقصد بلوچ طلباء و طالبات کی تخلیقی صلاحیتوں سے گھبرانا ہے۔
فائن آرٹس کی ایگزیبیشن کو روک دینا بذاتِ خود ایک سنگین سوالیہ نشان ہے، اور اسے اچانک ختم کرنا انتظامیہ کی نااہلی کا واضح ثبوت ہے
جو یہ بتاتا ہے کہ جامعہ طلبہ کی تخلیقی و تحقیقی سرگرمیوں پر منظم پابندی لگانے کے راستے پر گامزن ہے۔
بلوچستان یونیورسٹی کے فائن آرٹس ڈپارٹمنٹ میں اپنے چار سالہ تھیسز ورک کی ایگزیبیشن میں مکران کی طالبات نے کیا کمال کے آئیڈیاز پیش کیے۔ کیچ کی طالبہ نے گوادر کی پیاس کو آرٹسٹک شکل دی، ایک اور نے کم عمری اور جبری شادی کے جبر کو آرٹ کا حصہ بنایا اور کسی طالبہ نے ٹرانس جینڈر جیسے موضوع کو چُنا جس پر بلوچ سماج میں بات بھی نہیں ہوتی۔
ظاہر ہے یہ ’’خوفناک‘‘ موضوعات انتظامیہ کے برداشت سے باہر تھے، سو سکیورٹی کا بہانہ بنا کر ایگزیبیشن اچانک بند کر دی گئی اور طالبات کو فوراً سامان سمیٹنے کا حکم دے دیا۔ کیا غضب ہے کہ ہمارے مسائل حل ہونا تو دور کی بات، ہم ان پر بات بھی نہیں کر سکتے، ان کی عکس گری بھی نہیں کر سکتے۔
اسی طرح ایم فل کے امتحانات، جن کو محض نقل کلچر کو دوام دینے کے لیے یونیورسٹی آف بلوچستان سے شفٹ کرکے لاء کالج منتقل کیا گیا، تاکہ منظورِ نظر افراد کو غیر قانونی طریقوں سے نوازا جاسکے۔ اب تو صورتحال یہ ہے کہ ایم فل کے امتحانات کو منسوخ کرنے تک کی نوبت لائی جارہی ہے اور مخصوص من پسند افراد کو فائدہ پہنچانے کے لئے الگ سینٹرز الاٹ کرنے کی تیاری بھی کی جارہی ہے تاکہ ایک ہی امتحانی نظام کے اندر بھی دو الگ دنیائیں بنا دی جائیں۔
جب کلاسز جامعہ بلوچستان کے اندر منعقد ہوسکتی ہیں تو امتحانات کو یہاں سے ملتوی کرکے لاء کالج کیوں منتقل کیے گئے؟ دراصل جامعہ بلوچستان اب ریوڑیوں کی طرح ڈگریاں بانٹنے اور فیسیں لینے کا مرکز بن چکی ہے، جہاں تنقید، تحقیق اور بحث و مباحثے پر پابندی ہے۔
تعلیمی سیمینارز کی جگہ اداروں کو سیلفیاں بنانے اور ذہنی عیاشی کا مرکز بنانا مقصد ہے۔ اداروں کو مکمل طور پر اپاہج کرکے نوآبادیاتی منصوبوں کو پایۂ تکمیل تک پہنچانے کی کوشش کی جارہی ہے۔
یہ تمام فیصلے اس بات کے پچھلے شواہد کا تسلسل ہیں کہ جامعہ بلوچستان میں تخلیقی سوچ، تنقید، تحقیق اور اسٹوڈنٹس کی آواز کو مسلسل دبایا جا رہا ہے۔
بی ایس او ایسی سازشوں کو کسی صورت قبول نہیں کرے گی
جامعہ بلوچستان کے فائن آرٹس ڈپارٹمنٹ میں نمائش پر پاپندی قبول نہیں، بی ایس او
![]()
وقتِ اشاعت : November 27 – 2025