|

وقتِ اشاعت :   November 28 – 2025

اسلام آباد : جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے کہا ہے کہ لاہور ہائیکورٹ راولپنڈی بینچ کی جانب سے توہین رسالت کے مرتکب پانچ مجرمان کی سزائے موت کو کالعدم قرار دینے کا فیصلہ قابلِ تشویش ہے۔

لمحہ فکریہ ہے کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان میں ناموس رسالتؐ کے تحفظ کے لئے بھی مطالبے کرنے پڑتے ہیں۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے تحریک تحفظ ناموس رسالتؐ پاکستان کے وفد سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔تفصیلات کے مطابق مرکزی صدر تحریک تحفظ رسالتؐ پاکستان علامہ قاری نوید مسعود ہاشمی،مفتی مجیب الرحمٰن اور جنرل سیکریٹری حافظ احتشام احمد نے گزشتہ روز جمیعت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن سے ان کی رہائش گاہ پر تفصیلی ملاقات کی۔

ملاقات میں سوشل میڈیا پر مقدس ہستیوں بالخصوص حضورﷺ کی توہین پر مبنی گستاخانہ مواد کی تشہیر میں ملوث ملزمان کے خلاف جاری قانونی کاروائی سمیت دیگر اہم امور پر گفتگو کی گئی۔

مولانا فضل الرحمٰن نے مذکورہ وفد سے گفتگو کرتے ہوئے مزید کہا کہ”حالیہ دنوں میں پارلیمنٹ کی جانب سے کی جانے والی متنازع قانون سازیوں سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ پاکستان کو سیکولر ریاست بنانے کی کوشش کی جارہی ہے۔ہم مقدس ہستیوں کی عزت و ناموس اور پاکستان کے اسلامی تشخص کا تحفظ کریں گے”۔علامہ قاری نوید مسعود ہاشمی نے سربراہ جے یو آئی کو کامیاب دورہ بنگہ دیش کی مبارک باد دیتے ہوئے کہا کہ”اللّٰہ آپ کی برکت سے پاکستان میں اسلامی نظام کے عملی نفاذ کو ممکن بنائے۔آپ پاکستان میں اہل حق کے نمائندہ ہیں۔

آپ کا وجود پاکستان کے لئے خیر کا باعث ہے”.وفد نے دوران ملاقات مولانا فضل الرحمٰن کو گستاخانہ مواد کی تشہیر میں ملوث ملزمان کو تحفظ فراہم کرنے کے لئے ہونے والی سازشوں سے بھی آگاہ کیا۔