|

وقتِ اشاعت :   November 29 – 2025

کوئٹہ: بلوچ اسٹوڈنٹس ایکشن کمیٹی، بلوچ لٹریسی کمپین کے تحت بلوچستان میں بند، غیر فعال اور جزوی طور پر فعال سکولوں کے حوالے سے ایک جامع اور اہم دو سالہ سروے رپورٹ پیش کرتا ہے۔

یہ رپورٹ بلوچستان میں تعلیمی بحران کی نقاب کشائی کرے گی جس میں 250 سے زائد سکولوں کا ایک جامع مطالعہ (کیس اسٹڈی) بھی دکھایا گیا ہے۔

رپورٹ کئی حصوں پر مشتمل ہے جن میںبلوچ لٹریسی کمپین کا مختصر تعارف ، سروے رپورٹ کا ایک جائزہ، سکولوں کی ایک جھلک (سنیپ شاٹ)۔ بلوچستان میں تعلیم کے لیے چیلنجز اور رکاوٹیں ،بلوچستان کے سکولوں کی مشکلات پر ایک نظر، بلوچ قوم پر تعلیمی محرومی کے اثرات سروے رپورٹ میں شامل علاقے شامل ہیںجن میں پنجگور ریجن، خضدار ریجن ، گریشاگ ریجن ، کیچ ریجن، لسبیلہ ریجن ، کچھی بولان ریجن،مستونگ ریجن، بارکھان ریجن، ڈیرہ بگٹی ریجن، نصیر آباد ریجن، آواران ریجن، قلات ریجن، کوئٹہ، سریاب ریجن ہیں رپوٹ میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ بلوچستان کے تعلیمی نظام میں فوری اصلاحات کی ضرورت، تعلیمی عدم مساوات کو دور کرنے کے لیے فوری کارروائی کا مطالبہ،بلوچ قوم کے لیے تعلیم کو بہتر بنانے کی جدوجہد بساک بلوچ عوام کے تعلیمی حقوق کی وکالت کرنے کے اپنے عزم پر قائم ہے۔

یہ سروے بساک کی وسیع تر کوششوں کا صرف ایک حصہ ہے تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ ہر بلوچ بچے کو ان کے جغرافیائی محل وقوع یا سماجی و اقتصادی حیثیت سے قطع نظر معیاری تعلیم تک رسائی حاصل ہو۔ بساک کا وکالتی کام، بلوچ لٹریسی کمپین جیسے اقدامات کے ساتھ مل کر، بلوچستان میں تعلیمی اصلاحات کی فوری ضرورت کی طرف توجہ دلانے اور بلوچ قوم کو اس تبدیلی کا مطالبہ کرنے کے لیے بااختیار بنانے کا مقصد رکھتا ہے جس کے وہ مستحق ہیں۔