|

وقتِ اشاعت :   December 4 – 2025

راولپنڈی:وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کا کہنا ہے کہ خیبرپختونخوا کے سوا تین صوبوں کو ان کا حق دیا جارہا ہے مگر افسوس ہمارا صوبہ اس حق سے محروم ہے، بیرسٹر گوہر کے ہاتھ میں ہوتا تو میری ملاقات پہلے ہوجاتی اور بانی پی ٹی آئی بھی ایک ماہ قید تنہائی میں نہ رہتے۔

اڈیالہ جیل کے قریب داہگل ناکے پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر اعلی کے پی کے سہیل آفریدی کا مزید کہنا تھا کہ این ایف سی میٹنگ کے بعد اب یہاں آیا ہوں، میٹنگ میں اپنا مدعا رکھا ہے، 25ویں ترمیم کے بعد قبائلی اضلاع کو کے پی میں ضم کر دیا گیا تھا باوجود اس کے قبائلی اضلاع کو ان کا شیئر نہیں دیا جا رہا، میٹنگ میں کہا کہ یہ غیر آئینی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ اصولی طور پر شرکاء اس بات پر متفق ہوگئے ہیں اور فیصلہ ہوا ہے کہ آئندہ بدھ تک سب کمیٹی بنے گی، 8 جنوری تک اپنی سفارشات رکھیں گے، این ایف سی کی آئندہ میٹنگ جنوری میں ہوگی۔

ان کا کہنا تھا کہ کے پی عوام نے دہشت گردی کی جنگ میں بے پناہ قربانیاں دی ہیں، انفرا اسٹرکچر تباہ ہوا ہے، بدقسمتی سے ہمیں ہمارا حق نہیں دیا گیا اب یقین دہانی کرائی گئی کہ ہمیں ہمارا حق دیا جائے گا، بانی پی ٹی آئی ہمارے دل میں ہیں۔

ایک سوال کے جواب میں سہیل آفریدی نے کہا کہ دہشت گردوں کی سہولت کاری کے پی حکومت نہیں وہ کررہے ہیں جنھوں نے اس جرائم پیشہ افغانی کے الیکشن کمیشن میں کاغذات نامزدگی منظور کروائے، پہلے گڈ طالبان اور بیڈ طالبان تھے اب گڈ افغانی اور بیڈ افغانی ہیں، جو جرائم پیشہ ہیں ان کو پارلیمنٹ کا حصہ بنایا جا رہا ہے۔