کوئٹہ: نواب زادہ حاجی میر لشکری رئیسانی کی نیشنل پارٹی کے مرکزی سیکریٹرٹ وفد کے ساتھ آمد ،نیشنل پارٹی کے مرکزی سیکرٹری جنرل میر کبیر احمد محمد شہی نے وفد کو بلوچستان کے انتہائی اہم مسئلہ پر گفتگو اور حکمت عملی بانے پر خوش آمدید کہا۔
اس موقع پر مرکزی نائب صدر ڈاکٹر اسحاق بلوچ،صوبائی صدر اسلم بلوچ،صوبائی جنرل سیکرٹری ایڈوکیٹ چنگیز حئی بلوچ،چیئرمین محراب بلوچ، مشکور انور بلوچ ،عبدالستار لانگو اور دیگر قائدین موجود تھے۔اس موقع پر نیشنل پارٹی کے مرکزی سیکرٹری جنرل میر کبیر احمد محمد شہی نے گفتگو کرتے ہوے کہا کہ نیشنل پارٹی نے ہمشیہ بلوچستان کے ساحل اور وسائل کی بات کی ہے اور ہم سمجھتے ہیں موجودہ سیاسی عدم استحکام ،معا شی عدم استحکام کی سب سے بڑی وجہ آئین پر عمل درآمدنہیں ہے۔
انہوں کہا کہ بلوچستان اس وقت امیر ترین قومی وحدت ہوتے مسائل اور مشکلات کا شکار ہے سی پیک کے نام پر 60 ارب ڈالر آئے لیکن گوادر کے عوام کو صاف پانی دستیاب نہیں۔منرل ایکٹ صوبے کے اختیارات اور دسترس پر قبضہ کرنے کے مترادف ہے ہمارے وکلا ونگ نے پارٹی کے سربراہ ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ کے نام سے پٹیشن داخل کی ہے۔انہوں نے کہا ایک اچھا عمل ہے کہ تمام سیاسی جماعتیں اپنی مشترکہ مسودہ قانون ایکٹ میں ترمیم کے لئے جمع کر دیئے ہم حاجی لشکری رئیسانی کی کاوشوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہماری ہمیشہ یہ کوشش رہی ہے اورہمیشہ رہے گی
کہ بلوچستان کے مسائل اور مشکلات پر سیاسی جماعتوں کا ایک ہی موقف ہو۔
اس موقع پر حاجی میر لشکری رئیسانی نے نیشنل پارٹی کو خراج تحسین پیش کیا اور کہا کہ بلوچستان کے ایک فرزند اور اس دھرتی کے بیحثیت وارث ہم اپنے قومی حقوق کے لئے آواز بلند کرتے رہیں گے پیلے مرحلے پر ہم نیشنل پارٹی کے دوستوں سے مشاورت کی اور اپنے اس رابطے مہم کو جاری رکھتے ہوئے دیگر سیاسی
جماعتوں اور مائنگ ایسوسی ایشن سے ملاقات کرکے ایک مشترکہ ترمیمی مسودہ حکومت کو پیش کرینگے اور عنقریب مشترکہ اجلاس بلایا جائے گا۔