|

وقتِ اشاعت :   December 16 – 2025

کوئٹہ: بلوچستان اسمبلی کے ارکان نے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر بلوچستان لیکس نامی پیج پر ارکان اسمبلی کی کردار کشی پرمبنیٰ کرپشن کے الزامات کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ ذمہ داروں کے خلاف کاروائی کی جائے ،

اسپیکر بلوچستان اسمبلی نے این سی سی آئی اے کے مقامی سربراہ کو اسمبلی طلب اور صوبائی وزیر سردار عبدالرحمن کھیتران کی سربراہی میںکمیٹی قائم کردی ۔ منگل کو بلوچستان اسمبلی کا اجلاس 45منٹ کی تاخیر سے اسپیکر کیپٹن(ر) عبدالخالق اچکزئی کی زیر صدارت شروع ہوا۔ اجلاس میں نقطہ اعتراض پر قائد حزب اختلاف میر یونس عزیز زہری نے کہا کہ گزشتہ کچھ دنوں سے بلوچستان لیکس کے نام سے ایک سوشل میڈیا پیج پر ارکان اسمبلی کے خلاف پروپگنڈا کیا جارہا ہے ،

سوشل میڈیا پر غلط معلومات اور فیک نیوز پھیلا کر ارکان اسمبلی کی پگڑیاں اچھالی جارہی ہیں یہ سب کچھ ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت ارکان اسمبلی اور سیاستدانوں کو بد نام کرنے کے لیے کیا جارہا ہے ۔

انہوں نے کہا کہ اس معاملے کی تحقیقات کر کے ذمہ داروں کو قرار واقعی سزا دی جائے ۔ انہوں نے کہا کہ جہاں سے اس معاملے کی ڈوریں کھینچی جارہی ہیں

انہیں بھی بتانا چاہتے کہ وہ اپنے مقاصد میں کامیا ب نہیں ہونگے ۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ معاملے کی سائبر کرائمز ایجنسی سے تحقیقات کروائی جائیں ۔

صوبائی وزیر سردار عبدالرحمن کھیتران نے کہا کہ بلوچستان لیکس کے تانے بانے جہاں جارہے ہیں وہ بھی ہمیں معلوم ہے سوچے سمجھے منصوبے کے تحت بات کرنے والے ارکان اسمبلی کی کردار کشی کی جارہی ہے ۔

انہوں نے کہا کہ میرے حلقے سے متعلق جو اعداد وشمار پیش کیے گئے ہیں اگر اتنے فنڈز جاری کردئیے جائیں تو میں ہر قسم کی سزا بھگتنے کو تیار ہوں ۔ انہوں نے کہا کہ سوشل میڈیا پر کچھ ویڈیوز شیئر کی جارہی ہیں جن میں کہا گیا ہے کہ میں نے ڈیرہ غازی خان سے تعلق رکھنے والے اور ایک بگٹی شخص کو اغواء کر کے نجی جیل میں رکھا ہے میں یہ بتانا چاہتاہوں کہ 8سال قبل میں خود جیل میں تھا یہ سب الزامات بے بنیاد ہیں اگر 5فیصد الزامات بھی ثابت ہو جائیں تو میں خود استعفیٰ دے دونگا ۔

وزیراعلیٰ میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ پہلے دن سے کہہ رہا ہوں جس کا دل کرتا ہے وہ سوشل میڈیا پر پگڑیاں اچھالنا شروع کردیتا ہے میں خود اس کردار کشی کا شکار ہوں ہمیں ہتک عزت کے قوانین بنانے کے ساتھ ساتھ انہیں سختی سے نافذ کرنے کی ضرورت ہے ۔انہوں نے کہا کہ صوبائی وزیر سردار عبدالرحمن کھیتران کے خلاف ایک شخص نے اپنی آئی ڈی سے پوسٹ کی ہے ہم اس شخص تک پہنچ چکے ہیں انہیں چاہیے کہ وہ اس کے خلاف قانونی چارہ جوئی کریں تاکہ ہم کچھ لوگوں کو مثال بنائیں تاکہ دیگر لوگ باز رہیں ۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان لیکس کی معلومات درست بھی ہیں تو پانچ سال بعد ہمارا احتساب عوام نے کرنا ہے اگر جھوٹ پر مبنیٰ معلومات پھیلائی جارہی ہیں تو یہ کردار کشی ہے ۔

انہوں نے کہا کہ ہم احتساب سے نہیں ڈرتے لیکن اپنی کردار کشی برداشت نہیں کریں گے ۔ ایک کمیٹی بنائی جائے جو اس معاملے کی تحقیقات کرے ۔

انہوں نے کہا کہ مجھ سے ایسی باتیں بھی منسوب کی جاتی ہیں میرے فرشتوں کو بھی معلوم نہیں ہوتا۔

اس موقع پر اسپیکر نے رولنگ دی کہ نیشنل سائبر کرائم ایجنسی کے مقامی سربراہ کو اسمبلی طلب کیاجائے ۔ انہوں نے رولنگ دی کہ صوبائی وزیر سردار عبدالرحمن کھیتران کی سربراہی میں کمیٹی قائم کی جائیگی جس میں وہ تمام ارکان شامل ہونگے جنہیں بلوچستان لیکس میں کردار کشی کا سامنا کرنا پڑ ا ہو یہ کمیٹی اس مسئلے کو حل کریگی ۔