|

وقتِ اشاعت :   December 16 – 2025

راولپنڈی پولیس نے اڈیالہ جیل جانے والا راستہ بند کردیا ہے اور عمران خان کی بہنوں کو کارکنان کے ہمراہ فیکٹری ناکے پر روک لیا۔ جس کے بعد پی ٹی آئی کارکنان نے دھرنا دے دیا ہے۔

راولپنڈی میں اڈیالہ جیل میں بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کے دن کے موقع پر پولیس کی جانب سے سیکیورٹی انتظامات کے تحت جیل جانے والا راستہ بند کر دیا گیا ہے۔ پولیس کی ناکہ بندی کے باعث عمران خان کی بہنیں علیمہ خان، نورین خان اور عظمیٰ خان کارکنان کے ساتھ فیکٹری ناکے پر پہنچیں جہاں انہیں پولیس نے روک دیا۔

پولیس کی جانب سے روکے جانے کے بعد عمران خان کی بہنیں اور پی ٹی آئی کارکنان نے فیکٹری ناکے پر دھرنا دے دیا، جس میں کارکنوں کی بڑی تعداد شریک ہے۔ مظاہرین کا کہنا ہے کہ بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کی اجازت ملنے تک دھرنا جاری رہے گا۔

انتظامیہ کی جانب سے اڈیالہ جیل کے اطراف میں آج سیکیورٹی ہائی الرٹ اور دفعہ 144 نافذ ہے۔ اڈیالہ جیل جانے والے راستوں پرپولیس کی بھاری نفری تعینات اور قیدی وین بھی موجود ہے۔

پولیس کی جانب سے گورکھپور کے مقام پر اینٹی رائٹس والز لگائی گئی ہیں جبکہ اڈیالہ جیل گیٹ نمبر 5 کے باہر واٹرکینن بھی پہنچا دی گئی ہے۔

اڈیالہ جیل انتظامیہ کو گزشتہ روز عمران خان سے ملاقات کے لیے پی ٹی آئی رہنماؤں کی فہرست پہنچا دی گئی تھی۔ ذرائع کے مطابق فہرست میں بیرسٹر گوہر سمیت 6 پی ٹی آئی رہنماؤں کے نام شامل تھے۔

پی ٹی آئی کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ بھی اڈیالہ جیل کے باہر پہنچ گئے ہیں۔ فیکٹری ناکے پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہاں آنا صرف ارکان اسمبلی کاکام نہیں، عمران خان کی بہنوں سےاظہارِ یکجہتی کیلئےسب کوآناچاہئے۔

انہوں نے کہا کہ سانحہ اے پی ایس کا واقعہ افسوس ناک ہے، دہشت گردی آئے روزبڑھ رہی ہے۔ قبائلی علاقوں کےانضمام کےبعدوعدےپورےنہیں ہوئے۔

اس سے قبل اپوزیشن اتحاد کے وفد نے قومی وطن پارٹی کے سربراہ آفتاب شیرپاؤ سے ان کی رہائش گاہ پر ملاقات کی۔ وفد میں اسد قیصر، مصطفی نواز کھوکھر، شہرام خان ترکئی شامل تھے۔

اپوزیشن اتحاد نےآفتاب شیر پاؤ کو 20 اور 21 دسمبر کو ہونے والی قومی کانفرنس کی دعوت دی۔ ملاقات کے بعد مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے پی ٹی آئی رہنما اسد قیصر نے کہا کہ قومی کانفرنس کا مقصد ملک میں جمہوریت، آئین اور ووٹ کے حق کی موجودہ صورتحال پر بحث کرنا ہے۔

انہوں نے کہا کہ کانفرنس خیبرپختونخوا ہاؤس میں ہوگی، امید کرتے ہیں حکومت جمہوریت کی بالادستی برقرار رکھتے ہوئے ہماری کانفرنس میں رکاوٹیں نہیں کھڑی کرے گی۔

آفتاب شیرپاؤ نے اپوزیشن وفد کی جانب سے کانفرنس میں شرکت کی دعوت قبول کرتے ہوئے کہا کہ سیاسی استحکام کے بغیر ملک ترقی نہیں کر سکتا اور تمام سیاسی جماعتوں کو مل کر کام کرنا ہوگا۔

مصطفی نواز کھوکھر نے کہا کہ 26 ویں اور 27 ویں آئینی ترامیم کے بعد حکومت 28 ویں ترمیم لانے کی باتیں کر رہی ہے، جس سے عدلیہ مزید کمزور ہوگی اور ملک کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔