|

وقتِ اشاعت :   December 21 – 2025

ماما قدیر کی انتھک استقامت اور جہدِ تسلسل کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہیں، بساک
کوئٹہ: بلوچ اسٹوڈنٹس ایکشن کمیٹی کے مرکزی ترجمان نے اپنے جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ ہم انسانی حقوق کے سرگرم رہنما اور ‘وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز’ کے وائس چیئرمین ماما قدیر بلوچ کے انتقال پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہیں۔ اور سمجھتے ہیں کہ ماما قدیر بلوچ کی رْحلت انسانی حقوق کی جدوجہد کے ایک عہد کا خاتمہ ہے۔ ماما قدیر انسانی حقوق کے ایک توانا علمبردار اور جبری گمشدگیوں کا شکار ہونے والے بلوچ عوام کی ایک مضبوط آواز تھے۔ وہ انصاف کی راہ میں امید اور حوصلے کا مینار تھے۔ انہوں نے دو دہائیوں تک جبری گمشدگیوں اور غیر قانونی حراست کے خلاف نہایت پرامن اور صبر آزما جدوجہد کی۔ ماما کہ جدوجہد میں ان کی کوئٹہ سی اسلام آباد کی طویل لانگ مارچ اور بلوچ جبری گمشدگیوں کے خلاف توانا آواز جو کہ چھ ہزار چونتیس دنوں سے قائم کیمپ بھی شامل ہیں۔
ان کی ذات انسانی حقوق اور انسانی وقار کی تحریک میں ایک پورے عہد کی حیثیت رکھتی تھی۔ انسانی حقوق کے لیے ان کی غیر متزلزل وابستگی اور لازوال قربانیاں ان کی ہمت اور استقامت کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔ ان کا بچھڑنا انسانی حقوق کی تحریک اور انصاف کی امیدوں کے لیے ایک عظیم المیہ ہے۔ہم ان کے لواحقین سے دلی تعزیت کا اظہار کرتے ہیں اور امید کرتے ہیں کہ ان کا چھوڑا ہوا مشن اور انسانیت پسندی کا ورثہ ہمیشہ زندہ رہے گا۔