کوئٹہ: وزیراعلیٰ بلوچستان میرسرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ خاران میں بینکوں کو لوٹنے والے دہشت گردوںکے خلاف آپریشن کے دران 12دہشت گردوں کو ہلاک کردیا گیا جبکہ آپریشن کے دوران سیکورٹی فورسز کے کرنل اور میجر زخمی ہوگئے،
3 ارب روپے سے بلوچستان کے تمام سرکاری سکول، کالجز، یونیورسٹیوں اور اسپتالوں میں فائبر انٹرنیٹ فراہم کریں گے۔
یہ بات انہو ں نے جمعہ کی شام وزیراعلیٰ سیکرٹریٹ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہی۔ وزیراعلیٰ بلوچستان میرسرفراز بگٹی نے کہا کہ گزشتہ روز خاران شہر میں 20 کے قریب دہشت گردمختلف راستوں سے داخل ہوئے دہشتگردوں کا مقصد بینکوں کو لوٹنا تھا۔انہوں نے کہا کہ سیکورٹی فورسز نے کرنل ودان کی قیادت میں بروقت کاروائی کرتے ہوئے بینک لوٹنے کی کوشش ناکام بنا دیاآپریشن کے دوران کرنل ودان اور میجر عاصم زخمی ہوگئے جبکہ آپریشن کے دوران 12دہشت گردوں کو ہلاک کردیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ میں سیکورٹی فورسز کے شیر جوانوں کو سلام پیش کرتا ہوں سیکورٹی فورسز اور پاک فوج کے جوانوں کے خون کے قدر کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ بلوچ نوجوانوں کو پروپیگنڈہ ڈول کے ذریعے استعمال کیا جارہا ہے،
خاران کے لوگوں نے ان دہشت گردوں کو مسترد کردیااور دہشتگردوں کا سوشل مونور کا چیپٹر بند کردیا۔میرسرفراز بگٹی نے بتایا کہ دہشتگرد 34 لاکھ روپے نیشنل بینک پاکستان کے اپنے ساتھ لے کر گئے۔انہوں نے کہا کہ خاران میں کلیئرنس آپریشن جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ سال بلوچستان میں 900دہشت گردوں کو ہلاک کیا گیا ۔انہوں نے کہا کہ ہتھیار ڈالنے کے لیے ریاست کے دروازے کھولے ہیں، 30 سال تک ہم انہیں حقوق کے جنگ کا نام دے رہے تھے۔
انہوں نے کہا کہ بولان قومی شاہراہ ترقیاتی کام کے سلسلے میں رات کے وقت بند کرتے ہیں۔وزیراعلیٰ نے کہا کہ 3 ارب روپے سے بلوچستان کے تمام سرکاری سکول، کالجز، یونیورسٹیوں اور اسپتالوں میں فائبر انٹرنیٹ فراہم کریں گے۔انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں میرٹ کے بنیاد پر تعیناتیاں کی گئی ہیں اور صوبے میں آن لائن ٹیسٹ سسٹم متعارف کروا رہے ہیں۔
ؔ