کوئٹہ: کمشنر کوئٹہ ڈویژن شاہزیب خان کاکڑ کی زیرِ صدارت ضلع قلعہ عبداللہ اور چمن میں امن و امان کی مجموعی صورتحال کے حوالے سے ایک اجلاس منعقد ہوا۔
اجلاس میں ڈپٹی کمشنر کوئٹہ مہر اللہ بادینی، ڈائریکٹر ڈوپلیمنٹ کوئٹہ ڈویژن ظہور احمد، اسسٹنٹ کمشنر پولیٹیکل کوئٹہ ڈویژن سید محمد کلیم، ڈی آئی جی ژوب جبکہ ڈپٹی کمشنر چمن، ڈپٹی کمشنر قلعہ عبداللہ، ایس پی چمن اور ایس پی قلعہ عبداللہ نے آن لائن شرکت کی۔
اجلاس میں ضلع قلعہ عبداللہ اور چمن میں امن و امان کی مجموعی صورتحال، جرائم پیشہ عناصر کے خلاف کارروائیوں، قومی شاہراہوں پر پٹرولنگ، منشیات کے خلاف اقدامات اور پوست کی کاشت کے تدارک کے حوالے سے تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ قومی شاہراہوں پر امن و امان کی صورتحال کو برقرار رکھنے کے لیے ضلعی انتظامیہ، پولیس، ایف سی اور موٹروے پولیس مشترکہ طور پر اسنیپ چیکنگ اور جوائنٹ پٹرولنگ کریں گی تاکہ قومی شاہراہوں پر گاڑیوں اور مسافروں کے تحفظ کو یقینی بنایا جا سکے۔اس موقع پر فورتھ شیڈول کو اپ ڈیٹ کرنے کے اقدامات کا بھی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ پوست کی کاشت کے مکمل خاتمے کے لیے تمام متعلقہ ادارے باہمی تعاون سے فیصلوں پر عملدرآمد یقینی بنائیں گے۔
کمشنر کوئٹہ ڈویژن نے ہدایت کی کہ پوست کی کاشت کے خلاف ضلعی انتظامیہ، پولیس، ایف سی اور اینٹی نارکوٹکس فورس (اے این ایف) مشترکہ طور پر روزانہ کی بنیاد پر کارروائیاں کریں۔ این ایف کے پلان کے مطابق ٹیوب ویلز اور سولر پلیٹس ضبط کی جائیں جبکہ پوست کی کاشت میں ملوث ذمہ دار افراد اور کسانوں کے خلاف ایف آئی آر درج کر کے گرفتاریاں عمل میں لائی جائیں۔
اجلاس میں ڈپٹی کمشنرز اور پولیس حکام نے اپنے اپنے اضلاع میں امن و امان کی صورتحال اور پوست کی کاشت کے خلاف جاری کارروائیوں پر کمشنر کو تفصیلی بریفنگ دی۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کمشنر کوئٹہ ڈویژن شاہزیب خان کاکڑ نے کہا کہ کوئٹہ ڈویژن میں امن و امان کی صورتحال کو بہتر بنانے کے لیے تمام متعلقہ ادارے باہمی تعاون اور مربوط حکمت عملی کے تحت کام کریں۔
قومی شاہراہوں پر جوائنٹ پٹرولنگ اور اسنیپ چیکنگ کے عمل کو مزید تیز کیا جائے اور اجلاس میں کیے گئے فیصلوں پر مؤثر عملدرآمد کو ہر صورت یقینی بنایا جائے۔
کمشنر کوئٹہ ڈویژن شاہزیب خان کاکڑ کی زیرِ صدارت کوئٹہ واٹر سیکیورٹی اینڈ ریسورسز ایکشن پلان کے حوالے سے اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں ڈویژنل ڈائریکٹر ڈویلپمنٹ ظہور احمد، پروجیکٹ ڈائریکٹر کیو ڈی پی رفیق بلوچ، محکمہ واسا، محکمہ ایریگیشن، بیوٹمز، یونیورسٹی آف بلوچستان کے ماہرین، متعلقہ ایکسپرٹس اور انجینیئرز نے شرکت کی۔اجلاس میں کوئٹہ شہر میں زیرِ زمین پانی کے ذخائر کو محفوظ بنانے، پانی کے غیر ضروری اور غیر قانونی استعمال کی روک تھام اور مستقبل میں پانی کی دستیابی کو یقینی بنانے سے متعلق مختلف امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
اجلاس کے شرکاء کو بتایا گیا کہ کوئٹہ میں پانی کی صورتحال انتہائی تشویشناک حد تک پہنچ چکی ہے اور اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو آئندہ چند سالوں میں شہریوں کو پینے کے صاف پانی کی شدید قلت کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔کمشنر کوئٹہ ڈویژن شاہزیب خان کاکڑ نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ واٹر ایمرجنسی ایکشن پلان پر مؤثر اور فوری عملدرآمد وقت کی اہم ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ غیر قانونی ٹیوب ویلز، زرعی اور کمرشل مقاصد کے لیے بے دریغ پانی کے استعمال کے باعث زیرِ زمین پانی کی سطح تیزی سے گر رہی ہے، جو مستقبل کے لیے ایک بڑا خطرہ ہے۔
اجلاس میں اس بات پر زور دیا گیا کہ زیرِ زمین پانی کی سطح کو مزید گرنے سے بچانے کے لیے سخت اور عملی فیصلے ناگزیر ہیں۔
اس سلسلے میں ایک جامع ایمرجنسی ایکشن پلان مرتب کرنے، نئے پانی کے ذخائر کی تلاش، واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹس کی تنصیب، کار واشز اور دیگر کمرشل یونٹس کو متبادل پانی فراہم کرنے کی پالیسی بنانے پر اتفاق کیا گیا۔اجلاس میں زرعی شعبے میں پانی کے زیادہ استعمال کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا گیا کہ چونکہ سب سے زیادہ پانی زراعت اور باغات میں استعمال ہوتا ہے، اس لیے زرعی زمینوں کے لیے اسپرنکلر اور ڈرپ ایریگیشن سسٹم متعارف کروانا ناگزیر ہے تاکہ کم سے کم پانی کے استعمال سے زیادہ پیداوار حاصل کی جا سکے۔اجلاس میں اس بات پر بھی زور دیا کہ زیرِ زمین پانی میں توازن برقرار رکھنے کے لیے ایک مؤثر مانیٹرنگ سسٹم متعارف کرایا جائے تاکہ استمعال اور ریچارج کے عمل میں توازن پیدا ہو سکے۔
اس حوالے سے قلیل اور طویل المدتی پالیسیوں پر تسلسل کے ساتھ عملدرآمد کو یقینی بنایا جائے۔
اجلاس میں سروس اسٹیشنز، زرعی استعمال اور دیگر متبادل مقاصد کے لیے پانی کے متبادل ذرائع تلاش کرنے، بارش کے پانی کو محفوظ بنانے کے لیے رین واٹر ہارویسٹنگ سسٹم کو لازمی قرار دینے کی تجویز دی گئی۔
شرکاء کو آگاہ کیا گیا کہ اگر پانی کے ضیاع کو نہ روکا گیا اور ریچارج پوائنٹس نہ بنایا گیا تو آئندہ پانچ سے دس سال کے دوران کوئٹہ کو پانی کے شدید بحران کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
اجلاس میں یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ گھروں اور سرکاری عمارتوں میں چھوٹے ریچارج پوائنٹس قائم کیے جائیں تاکہ بارش کے پانی کو محفوظ بنا کر زیرِ زمین پانی کی سطح میں اضافہ کیا جا سکے۔
اس مقصد کے لیے واضح اور قابلِ عمل پالیسی مرتب کریں۔آخر میں کمشنر کوئٹہ ڈویژن نے تمام متعلقہ محکموں کو ہدایت کی کہ وہ باہمی تعاون سے جلد از جلد واٹر سیکیورٹی اینڈ ریسورسز ایکشن پلان کو مرتب کریں تاکہ کوئٹہ شہر کو مستقبل کے پانی کے سنگین بحران سے بچایا جا سکے۔