ریاض :وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ عالمی سطح پر سرکاری قرضے تاریخی بلند ترین سطح پر ہیں، اصل پالیسی چیلنج صرف قرض کے حجم کو سنبھالنا نہیں ہے، یہ بھی یقینی بنانا ہے کہ وقتی مالی دباؤ، دیوالیہ پن کے بحران میں تبدیل نہ ہو۔سعودی عرب میں منعقدہ العلا کانفرنس میں اظہار خیال کرتے ہوئے وزیر خزانہ پاکستان نے کہا کہ عالمی سطح پر سرکاری قرضے تاریخی بلند ترین سطح پر ہیں، ترقی پذیر معیشتیں بلند قرض جاتی ادائیگیوں، سخت مالی حالات سامنا کر رہی ہیں۔
انہوںنے کہا کہ اصل پالیسی چیلنج صرف قرض کے حجم کو سنبھالنا نہیں ہے، یہ بھی یقینی بنانا ہے کہ وقتی مالی دباؤ، دیوالیہ پن کے بحران میں تبدیل نہ ہو جبکہ ترقیاتی اور سماجی اخراجات کا تحفظ بھی برقرار رہے۔ وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا کہ معاشی استحکام ترقی کا دشمن نہیں بلکہ پائیدار اور دیرپا اقتصادی نمو کی بنیاد ہے، پاکستان کا حالیہ تجربہ اس حقیقت کی بھرپور تصدیق کرتا ہے، پاکستان نے معاشی استحکام کی بحالی کی جانب بامعنی پیش رفت کی ہے۔
وزیر خزانہ نے کہا کہ پاکستان نے عوامی قرض قابو میں رکھنے اور بہتر انداز میں منظم کرنے میں کامیابی حاصل کی ہے،تین برسوں کے دوران قرضہ جی ڈی پی تناسب تقریبا 74 فیصد سے کم ہو کر 70 فیصد کے قریب آ گیا ہے، پاکستان کا بیرونی قرضہ جی ڈی پی تناسب مستحکم رہا، سودی اخراجات میں بچت، قرض ادائیگیوں میں توازن اور ری فنانسنگ کے خطرات میں کمی آئی ہے۔
وزیر خزانہ نے کہا کہ قرض دہندگان کے ساتھ مؤثر رابطہ اور مالیاتی منڈیوں کے اعتماد میں اضافہ ہوا ہے،پاکستان کا ٹیکس ٹو جی ڈی پی بڑھ کر تقریبا 12 فیصد تک پہنچ گیا ہے، قرضہ جاتی نظم و نسق کو ماحولیاتی اور ترقیاتی اہداف سے ہم آہنگ کر رہے ہیں، جن میں گرین سکوک کا اجرا اور خودمختار سسٹین ایبل فنانسنگ فریم ورک کا قیام شامل ہے۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ خودمختار قرض کے خطرات سے نمٹنے کے لیے بروقت اقدامات ناگزیر ہیں۔