|

وقتِ اشاعت :   February 18 – 2026

فواد حسین چودھری نے اپنے سوشل میڈیا ایکس اکاؤنٹ پر کہا ہے کہ بلوچستان میں جبری گمشدگیوں کا مسئلہ پیچیدہ ہے، خانہ جنگی میں ایسا ہی ہوتا ہے جب نفرت ایک حد سے بڑہ جائے تو انصاف پیچھے رہ جاتا ہے، جب فوج کے لوگوں کو بے دردی سے شھید کیا جاتا ہے تو بدلے میں دوسری طرف کے کئ ایسے لوگ بھی نشانہ بنتے ہیں جو براہ راست Conflict میں شامل نہیں ہوتے، مکتی باھنی ، IRA اور کئ Conflicts کی کہانی ایسی ہی پیچیدہ ہے

 

 اس کا حل یہ ہے کہ سیاسی لوگ آگے ہوں اور سیکیورٹی فورسز ان کے پیچھے پہلے صوبے کو اصل شکل میں بحال کریں یعنی تین حصوں میں ایڈمنسٹریٹو کنٹرول دیں ، ان گروپس کا خاتمہ کیا جائے جو باہر سے چل رہے ہیں اس کے ساتھ بیانئے کی جنگ اہم ہے ظاہر ہے بلوچستان کی بیس پچیس لاکھ کی آبادی ملک نہیں بنا سکتی یہ آئیڈیا ہی واہیات ہے جس کا عملی طور پر ہونا ہی ناممکن ہے، تین جصوں میں صوبے کی تقسیم اور منصفانہ الیکشن امن کی طرف جانے کے انتظامی راستے ہیں ، لیکن سیکیورٹی فورسز کا اصل چیلنج مسلح گروپوں کو غیر مسلح کرنا ہے جس کیلئے مقامی انتظامی نیٹورک چاھیے! برطانوی حکمرانوں نے کیسے گورننس کے نظام بائے اس پر بہت کتابیں ہیں Men Who Ruled India پڑھیں اس میں کئ سبق ہیں! انگریزوں سے اچھی لوکل ایڈمنسٹریشن کسی نے نہیں کی اسے بحال کر لیں!!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *