|

وقتِ اشاعت :   February 26 – 2026

میر سرفراز بگٹی کی زیر صدارت پارلیمانی اراکین اور آبپاشی حکام کا اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں نصیر آباد ڈویژن میں آبپاشی کے شعبے میں جاری ترقیاتی و بحالی منصوبوں کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں دریائی ذرائع کی بہتر منصوبہ بندی اور نہروں کی تنظیمِ نو کی منظوری دی گئی جبکہ آبپاشی منصوبوں کی مؤثر نگرانی اور انتظام کے لیے جدید ٹیکنالوجی کے استعمال پر زور دیا گیا۔

اجلاس میں ضلع صحبت پور میں پانچ ارب روپے کی لاگت سے جاری حیر دین ڈرینج منصوبے کو جلد مکمل کرنے پر اتفاق کیا گیا۔ اس کے علاوہ مانجھوٹی اور اوچ کینال کی بحالی کے منصوبوں کو آئندہ مالی سال کے بجٹ میں شامل کرنے کا فیصلہ بھی کیا گیا۔ وزیر اعلیٰ نے ہدایت کی کہ تمام نہروں اور ڈرینج سسٹم کی تنظیمِ نو مرحلہ وار مکمل کی جائے اور پروجیکٹ ڈائریکٹرز ترجیحاً متعلقہ محکموں سے تعینات کیے جائیں تاکہ جوابدہی کا مؤثر نظام قائم ہو اور ترقیاتی منصوبوں کا معیار دیرپا بنایا جا سکے۔

وزیر اعلیٰ نے کہا کہ آبپاشی کے منصوبے زرعی ترقی اور معاشی استحکام کے بنیادی ستون ہیں۔ نصیر آباد ڈویژن صوبے کا گرین بیلٹ اور فروٹ باسکٹ ہے، لہٰذا زرعی پیداوار والے علاقوں میں آبپاشی نظام کو جدید خطوط پر استوار کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ زرعی شعبے سے وابستہ ہزاروں خاندانوں کی سہولت کے لیے جامع اقدامات کیے جائیں گے جس سے مقامی معیشت مضبوط ہوگی اور روزگار کے مواقع میں اضافہ ہوگا۔

اجلاس میں پاکستان پیپلز پارٹی کے پارلیمانی لیڈر میر محمد صادق عمرانی، پاکستان مسلم لیگ (ن) کے پارلیمانی لیڈر میر سلیم خان کھوسہ، جماعت اسلامی کے پارلیمانی لیڈر عبدالمجید بادینی، صوبائی وزیر نوابزادہ میر طارق خان مگسی، پارلیمانی سیکرٹری حاجی محمد خان لہڑی، چیف سیکرٹری بلوچستان شکیل قادر خان، ایڈیشنل چیف سیکرٹری ترقیات زاہد سلیم، سیکرٹری آبپاشی سہیل الرحمٰن اور متعلقہ حکام نے شرکت کی۔