|

وقتِ اشاعت :   1 hour پہلے

اسلام آباد: یرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی پاکستان پہنچ گئے ہیں، جہاں سے انہوں نے اپنے اہم علاقائی سفارتی دورے کا آغاز کیا ہے،

جس میں اسلام آباد، مسقط اور ماسکو کے دورے شامل ہیں۔عراقچی کا یہ دورہ معمول کی سفارت کاری نہیں بلکہ ایک نہایت اہم مشاورتی سلسلہ ہے،

جس میں دوطرفہ تعلقات، تیزی سے بدلتی علاقائی صورتحال اور ایران کے بقول “امریکہ اور اسرائیلی حکومت کی جانب سے مسلط کردہ جنگ” سے متعلق تازہ حالات پر غور کیا جائے گا۔

یہ دورہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب خطے میں جغرافیائی سیاسی کشیدگی میں اضافہ ہو رہا ہے اور پس پردہ سفارتی سرگرمیاں بھی تیز ہو چکی ہیں۔

یہ دورہ اس وقت سامنے آیا جب عراقچی کی جانب سے براہ راست رابطہ کیا گیا، جس کے بعد نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے فوری طور پر وزیراعظم کو آگاہ کیا اور ایرانی وزیر خارجہ سے اپنی گفتگو پر بریفنگ دی۔بعد ازاں، شہباز شریف اور اسحاق ڈار کے درمیان اعلیٰ سطحی مشاورت ہوئی، جس میں بڑھتی ہوئی علاقائی کشیدگی، سیکیورٹی خدشات اور ایران-امریکہ مذاکرات کے دوسرے مرحلے پر تفصیلی غور کیا گیا۔

پاکستان دونوں ممالک کو دوبارہ مذاکرات کی میز پر لانے کے لیے فعال کردار ادا کر رہا ہے۔وزیراعظم شہباز شریف نے امن، استحکام اور کشیدگی میں کمی کے لیے فوری پالیسی اور سفارتی ہدایات جاری کی ہیں، جبکہ اعلیٰ سطحی سفارتی روابط کو مزید تیز کرنے اور مسلسل مشاورت جاری رکھنے کا حکم بھی دیا ہے،

کیونکہ اسلام آباد خود کو ثالثی کی کوششوں کے مرکز کے طور پر پیش کر رہا ہے۔اہم مذاکرات، متعدد وفود اور عالمی سطح کی نمایاں شخصیات کی آمد کے باعث اسلام آباد عالمی سفارتی سرگرمیوں کا مرکز بن چکا ہے۔ پاکستان اس دوران مذاکرات، اعتماد سازی اور پرامن حل کی کوششوں کو فروغ دینے پر زور دے رہا ہے جبکہ خطے میں کشیدگی بدستور خطرناک حد تک برقرار ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *