بلوچستان کا شمار ملک کے دیگر صوبوں کے مقابلے میں ایک پسماندہ صوبہ کے طور پر کیا جاتاہے لیکن اب صوبائی حکومت کی کاوشوں سے صوبے میں ترقیاتی کاموں کا جال بچھایا جارہا ہے جس کا مقصد ترقی یافتہ، خوشحال اور مستحکم بلوچستان بنانا ہے۔
بلوچستان میں جاری منصوبوں کے تحت کمیونیکیشن انفراسٹرکچر، ڈیموں کی تعمیر، پانی کی قلت کو دور کرنے سمیت دیگرپر کام جاری ہے۔ بلوچستان کے تمام اضلاع میں یکساں ترقی پر زور دیا جارہا ہے ۔
مفاد عامہ سے جڑے منصوبوں پر ترجیحی بنیادوں پر کام کیا جارہا ہے، صحت، تعلیم، شاہراہوں کی تعمیر، موصلات، قلت آب، سیوریج کا بہتر نظام، جدید سفری سہولیات سمیت روزگار کے مواقع پیدا کرنے جیسے بڑے منصوبے جاری ہیں۔
وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی صوبے کی ترقی و خوشحالی کیلئے پر عزم ہیں۔ وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ حکومت بلوچستان عوام کو معیاری انفراسٹرکچر کی فراہمی اور ترقیاتی منصوبوں کی بروقت تکمیل کے لیے پرعزم ہے، اور محدود وسائل کے باوجود شفافیت، رفتار اور معیار کو یقینی بنایا جا رہا ہے۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روز چمن پھاٹک تا کوئلہ پھاٹک بلیک ٹاپ روڈ کے منصوبے کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔
اس موقع پر سیکرٹری مواصلات و تعمیرات بابر خان نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ 1.02 کلومیٹر طویل سڑک محض 76 دنوں میں مکمل کی گئی۔
انہوں نے کہا کہ منصوبے کی مجموعی لاگت 33 کروڑ 83 لاکھ 60 ہزار روپے مقرر کی گئی تھی جبکہ اس پر 30 کروڑ 86 لاکھ 30 ہزار روپے خرچ ہوئے، یوں منصوبے میں 2 کروڑ 97 لاکھ 30 ہزار روپے کی بچت بھی حاصل کی گئی۔
بریفنگ میں بتایا گیا کہ اس منصوبے سے ایئرپورٹ روڈ، شہباز ٹاؤن، ماڈل ٹاؤن اور دیگر ملحقہ علاقوں کے ہزاروں شہری مستفید ہوں گے اور شہر میں ٹریفک کے دباؤ میں واضح کمی آئے گی، منصوبہ جدید معیار کے مطابق مکمل کیا گیا ہے جس سے شہریوں کو محفوظ اور بہتر سفری سہولت میسر آئے گی۔
وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ محض 76 دنوں میں اس اہم شاہراہ کی تکمیل حکومت کی مؤثر حکمت عملی اور ادارہ جاتی کارکردگی کا واضح ثبوت ہے۔
انہوں نے کہا کہ منصوبے میں لاگت کی بچت شفافیت اور وسائل کے دانشمندانہ استعمال کی بہترین مثال ہے جبکہ اس سڑک کی تعمیر سے آمدورفت میں نمایاں بہتری آئے گی اور شہریوں کو ٹریفک مسائل سے ریلیف ملے گا ۔
وزیر اعلیٰ بلوچستان نے کوئلہ پھاٹک تا چمن پھاٹک روڈ کو ڈبل کرنے کا بھی اعلان کیا اور کہا کہ شہریوں کی بڑھتی ہوئی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے انفراسٹرکچر کو مزید وسعت دی جائے گی ۔
روڈ کے افتتاح کے بعد میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا ماڈل ٹاؤن سے متصل دہشت گردی کے ایک حملے کے باعث سڑک بند رہی تاہم حکومت کی کوشش ہے کہ تعمیراتی کام جلد از جلد مکمل کیے جائیں تاکہ بند شاہراہ کھولی جاسکے ۔
انہوں نے کہا کہ کوئلہ پھاٹک تا چمن پھاٹک سڑک کا افتتاح کر دیا گیا ہے جبکہ ملحقہ سڑک کو بھی 70 دنوں میں مکمل کرکے افتتاح کیا جائے گا۔
انہوں نے محکمہ مواصلات و تعمیرات کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ سی اینڈ ڈبلیو نے محدود وقت میں بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے۔
وزیر اعلیٰ نے واضح کیا کہ عوام کا پیسہ کسی صورت ضائع نہیں ہونے دیا جائے گا اور تمام منصوبوں میں شفافیت کو یقینی بنایا جائے گا۔
وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ عوام کی امانت ایک ایک پائی عوام کی بہبود پر خرچ کی جائے گی ،گزشتہ مالی سال بھی بجٹ میں مختص ترقیاتی وسائل کا بروقت استعمال یقینی بنایا گیا تھا اور رواں سال بھی یہ تسلسل برقرار رکھیں گے ۔
بلوچستان کے عام آدمی کی بہبود کیلئے فلاحی منصوبوں کا تسلسل جاری رکھا جائے گا۔
بہرحال کوئٹہ سمیت دیگر اضلاع میں ترقیاتی منصوبوں پر کام زمین پر دکھائی دے رہاہے ، محض فائلوں اور دعوئوں تک یہ محدود نہیں۔
بلوچستان کئی دہائیوں سے مسائل سے دوچار ہے، کرپشن ،بدعنوانی، بیڈ گورننس کی وجہ سے صوبہ پسماندگی و محرومیوں کا شکار رہا ہے۔
اب بلوچستان میں مثبت تبدیلی نظر آرہی ہے صوبائی حکومت کی جانب سے ترقیاتی منصوبوں پر ہنگامی بنیادوں پر کام کیا جارہا ہے جن سے عوام مزید مستفید ہونگے،دیرینہ مسائل حل ہونے کے ساتھ صوبہ ترقی و خوشحالی کی جانب گامزن ہوگا۔
بلوچستان حکومت کا ترقی یافتہ، خوشحال و مستحکم بلوچستان کا وژن، صوبے کی پسماندگی و خاتمے کیلئے اہم اقدامات!
![]()
وقتِ اشاعت : 1 hour پہلے
Leave a Reply