مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر وزیراعظم شہبازشریف کی زیر صدارت پارلیمانی جماعتوں کے رہنماؤں اور نمائندگان کے اجلاس میں بتایا گیا کہ پاکستان نے تنازع کی شدت میں کمی لانے کیلئے ہر ممکن کوشش کی۔
وزیراعظم ہائوس میں پارلیمانی رہنمائوں کو پاکستان افغانستان صورتحال، ایران، مشرق و سطیٰ وخلیج میں کشیدگی پر ان کیمرہ بریفنگ دی گئی جبکہ اجلاس کو پاکستان کی سفارتی کوششوں کے حوالے سے بھی ان کیمرہ بریفنگ دی گئی۔
اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ اجلاس میں شریک سیاسی جماعتوں کے پارلیمانی رہنماؤں نے اپنے خیالات کا کھل کراظہار کیا، شرکاء نے موجودہ حالات میں ملی اتحاد،اتفاق و یگانگت کی ضرورت پر زور دیا۔
شرکاء نے خطے میں امن کے لیے پاکستان کی جانب سے سفارتی کوششوں کو سراہا اور سفارتی کوششیں مزید تیز کرنے کی ضرورت پر زور دیا نیز آئندہ کے لائحہ عمل پر تجاویز پیش کیں۔
پاکستان نے تنازع کی شدت میں کمی لانے کیلئے ہر ممکن کوشش کی ، ایران اور خلیجی ممالک کے درمیان کشیدگی میں کمی پاکستان کی اولین ترجیح ہے۔
بریفنگ میں پیپلز پارٹی،جے یو آئی ف، متحدہ قومی موومنٹ پاکستان اور بلوچستان عوامی پارٹی کے اراکین شریک ہوئے تاہم ان کیمرا بریفنگ میں اپوزیشن جماعت پاکستان تحریک انصاف کا کوئی رکن شریک نہیں ہوا۔
واضح رہے کہ پاکستان تحریک انصاف نے گزشتہ روز فیصلہ کیا تھا کہ بانی پی ٹی آئی سے ملاقات تک کسی حکومتی میٹنگ میں شریک نہیں ہوں گے۔
وزیراعظم کی زیر صدارت منعقدہ اجلاس ایک اچھی کاوش ہے ،ملکی سلامتی اور خطے میں بدلتی صورتحال اور کشیدگی کے اثرات سے نمٹنے کیلئے جامع پالیسی مرتب کی جائے ۔
پاکستان کی پوزیشن موجودہ صورتحال میں واضح ہے اور اس نے ایران پر ہونے والے حملوں کی شدید مذمت کی ہے جبکہ خلیجی ممالک پر حملوں کو بھی خطے خاص کر مسلم ممالک کے درمیان خلیج کا سبب قرار دیا ہے۔
پاکستان کی یہی کوشش رہی ہے کہ ایران اورفلسطین پر حملے نہیں ہونے چاہییں بلکہ مذاکرات کے ذریعے تنازعات کاحل نکالا جائے تاکہ خطے میں عدم استحکام و انتشار نہ پھیلے۔
اس اہم اجلاس میں اپوزیشن جماعتوں کی عدم شرکت باعث تشویش ہے، اس وقت خطے میں غیر یقینی کی صورتحال ہے ،ملکی سلامتی و بقاء کو مستقبل میں درپیش چیلنجز سے نکالنے اور دیگر مسائل سے بروقت نمٹنے کے لیے اپنی تجاویز سامنے رکھنے کی ضرورت ہے، قومی یک جہتی موجودہ حالات میں وقت کا اہم تقاضہ ہے، ان حالات میں مشروط بیٹھک غیر مناسب ہے۔
بہرحال پاکستان اپنی قومی سلامتی اور خطے میں استحکام کیلئے بھرپور تیار ہے جبکہ سفارتی کوششوں کے ذریعے بھی خطے میں استحکام کیلئے اپنا کردار ادا کررہا ہے تاکہ تناؤ میں کمی آئے، تنازعات مزید شدت اختیار نہ کریں جس سے تباہی پھیلے۔
Leave a Reply