کوئٹہ: سینئر سیاست دان سابق سینیٹر نوابزادہ حاجی میر لشکری خان رئیسانی نے کہا ہے کہ میں، میرے ساتھی، سیاسی جماعتیں حکومت اور منصف تاریخ کے کٹہرے میں کھڑے ہیں، مائنز اینڈ منرلز ایکٹ کے خلاف آواز اٹھائی، اسمبلی میں نہیں ہوں اس لیے عدالت آیا ہوں، عوام میں بھی جائیں گے اس جدوجہد میں یقینا کامیابی بلوچستان کے لوگوں کی ہوگی۔
یہ بات انہوں نے منگل کے روز بلوچستان ہائیکورٹ میں مائنز اینڈ منرلز ایکٹ کے خلاف دائر آئینی درخواست کی سماعت کے بعد بیرسٹر محمد اقبال کاکڑ، محمد ریاض احمد ایڈووکیٹ، سید نذیر آغا ایڈووکیٹ ودیگر کے ہمراہ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہی۔
نوابزادہ حاجی میر لشکری خان رئیسانی نے اپنے قانونی ماہرین، وکلاء اور کارکنوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہاکہ وہ ہر سماعت پر بڑی تعداد میں عدالت میں موجود ہوتے ہیں، انہوں نے کہاکہ مائنز اینڈ منرلز ایکٹ کو انتہائی خاموشی کے ساتھ بلوچستان اسمبلی سے منظور کراکے گورنر کی توثیق سے فوراً صوبے میں نافذکیا گیا
اس مشکوک اور پراسرار عمل سے یہ محسوس ہوا کہ اس قانون کی آڑ میں بلوچستان کے وسائل اور آئندہ نسلوں کی بقاء اور خوشحالی کا سودا لگایا جارہا ہے جس کیخلاف ہم نے احتجاج کیا، آواز اٹھائی، میں اسمبلی میں نہیں اس لیے عدالت آیا، عوام میں بھی جائیں گے، انہوں نے کہاکہ وزیراعلیٰ بلوچستان نے صوبائی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس میں یہ اعلان کیا تھا کہ مائنز اینڈ منرلز ایکٹ پر عملدرآمد کو ایگزیکٹو آرڈر کے تحت روکا گیا ہے مگر آج تیسری سماعت کے موقع پر بھی اس ایگزیکٹو آرڈر کو عدالت سے سامنے تحریری طور پر پیش نہیں کیا گیا،
تاہم دوران سماعت سرکاری وکیل نے موقف اختیار کیا کہ مائنز اینڈ منرلز ایکٹ پر عملدرآمد روکنے کا نوٹیفکیشن اس کے موبائل میں ہے اگر موبائل کے ذریعے حکومت چلی تو بلوچستان کا مستقبل مزید تاریک ہوگا۔
انہوں نے کہاکہ ہم نے جس جدوجہد کا آغاز کیا ہے اس میں یقینا ہماری کامیابی ہوگی، ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ مائنز اینڈ منرلز ایکٹ کے حوالے سے اپوزیشن جماعتوں نے صوبائی اسمبلی میں ایک آل پارٹیز کانفرنس طلب کی تھی جس میں طے ہوا کہ اس قانون کا از سرنو جائزہ لیا جائیگا اس حوالے سے ایک قرار داد بھی صوبائی اسمبلی سے منظور ہوئی تاہم اس کے بعد میں اور میرے ساتھی ہر سیاسی جماعت کے پاس گئے جس کی صوبائی اسمبلی میں نمائندگی ہے
مگر بدستور ایک پراسرار خاموشی ہے، ہمارے پاس عدالت اور عوام سے رجوع کرنے کے ہی راستے ہیں۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ آئین سے متصادم کسی قانون کو قبول نہیں کریں گے۔
بیرسٹر محمد اقبال کاکڑ ایڈووکیٹ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ سینئر سیاستدان وسابق سینیٹر نوابزادہ حاجی میر لشکری خان رئیسانی نے وزیراعلیٰ بلوچستان کے ایگزیکٹو آرڈر کے تحت مائنز اینڈ منرلز ایکٹ پر عملدرآمد روکنے کے بیان سے متعلق مذکورہ ایگزیکٹو آرڈر کو عدالت کے ریکارڈ کا حصہ بنانے اور اس کو پبلک کرنے سے متعلق ایک آئینی درخواست جمع کرائی ہے
اس کے جواب میں ایڈووکیٹ جنرل نے دوران سماعت عدالت کے سامنے کہا کہ ان کو ہدایات ملی ہیں اس کے پاس فون میں موجود ہے تاہم تحریری طور پر نہیں ہے اس کیلئے مزید وقت دیا جائے جس پر معزز عدالت نے ایڈووکیٹ جنرل کے مزید وقت دینے کی درخواست منظور کرتے ہوئے عید کی تعطیلات کے بعد تک سماعت ملتوی کی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ عدالت نے استفسارکیا کہ اس قانون کا کیسے جائزہ لیا جارہا ہے سیاسی قیادت کو سننے کیلئے کون سے فورم پر بلایا جائیگا جس پر نوابزادہ حاجی میر لشکری خان رئیسانی نے عدالت کو بتایا کہ اس حوالہ سے ہمارے پاس کوئی معلومات نہیں۔
Leave a Reply