|

وقتِ اشاعت :   November 13 – 2018

کوئٹہ: پا لیما نی سیکرٹری بر ائے ریلو ے اور پی ٹی آئی کے رہنماء فرخ حبیب کا کہنا ہے کہ پچھلی حکومت نے کوئٹہ جیسے بڑے ریلوے اسٹیشن کو نظر انداز کرکے رائے ونڈ اور ناروال جیسے چھوٹے ریلوے اسٹیشنوں پر اربوں روپے خرچ کئے۔ملک کو لوٹنے والوں کا اب صرف احتساب ہوگا۔بلوچستان سمیت ملک بھر میں ریلوے ٹریکس کو بہتر بنایا جارہا ہے۔ 

کوئٹہ سبی ریلوے ٹریک کی بحالی کا نوے فیصد کام مکمل ہوچکا ہے۔ یہ بات انہوں نے کوئٹہ کے دورہ کے موقع پر ڈی ایس ریلوے آفس میں پریس کانفرنس کے د وران کہی۔ فرخ حبیب نے کہا کہ خواجہ سعد رفیق کی توجہ ریلوے کی بجائے پیراگون ہاؤسنگ اسکیم پر تھی۔ 

انہوں نے اربوں روپے رائیونڈ اور ناروال جیسے نو چھوٹے ریلوے اسٹیشنوں پر خرچ کئے۔ فرخ حبیب کا کہناتھا کہ ماضی میں بلوچستان کو دونوں ہاتھوں سے لوٹا گیا۔

بلوچستان کو ملنے والا بجٹ بھی کرپشن کی نذر ہوا۔ ان کا کہنا تھا کہ ماضی کی حکومتوں نے اربوں ڈالر کے قرضے لئے اور لوٹ مار کی۔ سوال پوچھنے پر کہتے ہیں کہ مجھے کیوں نکالا۔اب سوال بھی ہونگے اور احتساب بھی ہوگا۔ 

ریلوے کے پارلیمانی سیکریٹری نے دعویٰ کیا کہ ریلوے نے گزشتہ تین ماہ کے دوران آمدن میں ایک ارب چھتیس کروڑ روپے کا اضافہ کیا۔ مال بردار ٹرینوں کے ذریعے ریلوے کے منافع میں ساٹھ ارب روپے کا اضافہ کریں گے۔ 

فروخ حبیب نے کہا کہ پاکستان میں نیا ریلوے نظام لارہے ہیں۔ ریلوے ملکی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت کا کردار ادا کررہا ہے۔ بدقسمتی سے سابقہ حکمرانوں اور وزراء نے اس عظیم منصوبے کو اپنے مفادات کے لئے استعمال کیا۔ 

انہوں نے کہا کہ سابقہ وزیر نے ناروال اور رائے ونڈ اسٹیشن پر کروڑوں روپے کو صرف ایک بادشاہ سلامت کو خوش کرنے کے لئے خرچ کیا۔ اب جب احتساب کا وقت آگیا تو وہ چیخ و پکار کررہے ہیں کہ ہمارے ساتھ ظلم ہورہا ہے۔ 

نئے پاکستان میں کوئی احتساب کے عمل سے نہیں بچ سکتا جس نے جتنا ناجائز کیا ، ملکی اداروں کو تباہ کیا ، ملکی وسائل اور دولت کو لوٹا اب وقت آگیا ہے کہ اس کا حساب دینا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ریلوے ایک سٹریٹجک اثاثہ ہے اس کو فعال کرنے کے لئے اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے۔ 

فروخ حبیب نے کہا کہ موجودہ حکومت نے جو کارکردگی تین مہینوں میں دکھائی سابقہ حکومتوں نے تین سال میں بھی نہیں دکھائی۔ انہوں نے کہا کہ فریٹ ٹرینوں کی تعداد 15 کردی گئی ہے جس سے ریلوے اور ملکی معیشت پر اچھے اثرات مرتب ہورہے ہیں۔ 

انہوں نے کہا کہ ریلوے کے پاس لاکھوں ایکڑ زمین ہے جس پر بے گھر افراد کے لئے وزیراعظم ہاؤسنگ سکیم کے نئے گھر تعمیر کئے جائیں گے۔ وفاقی سیکرٹری نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان کے دورہ چین کے اچھے نتائج سامنے آئیں گے۔ 

دورے کے دوران وزیراعظم پاکستان کا سارا توجہ ریلوے اور زراعت کی بحالی پر تھا جو چینی حکومت نے وزیراعظم کی وڑن کو بہت سراہا اور عندیہ دیا کہ پاکستان کو ریلوے نظام کی بحالی اور زراعت کی بہتری میں اصلاحات لانے کے لئے بھرپور ساتھ دیں گے۔ 

فروخ حبیب نے کہا کہ سابقہ حکمرانوں نے ملکی وسائل بے دردی سے لوٹے اور ملک کو 28 ہزار ارب کا مقروض کردیا جو شرم کی وجہ سے آج چھپے ہوئے ہیں جب قومی ادارے ان سے حساب مانگتے ہیں کہ یہ کہتے ہیں کہ ہمیں چور کیوں کہا۔ چور کو چور نہیں کہیں تو کیا کہیں۔ آج جتنا بھی رونا ہے حساب دینا ہی ہوگا۔ 

لوٹی ہوئی دولت تحریک انصاف کی حکومت واپس لائے گی۔ انہوں نے کہا کہ عوام سے جو وعدے کئے ہیں ان پر پورا اترنے کی کوشش کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ سی پیک سے بلوچستان سمیت پورے ملک میں ترقی کا ایک نیا سفر شروع ہوگا۔ بلوچستان مضبوط ہوگا تو فائدہ وفاق کو ہے ۔

بلوچستان کو نظر انداز کرنے سے باقی صوبے زیادہ متاثر ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت نے بلوچستان کے خدشات کو دور کرنے کے لئے کافی اقدامات اٹھائے اور موجودہ حکومت ترقی کا نیا سفربلوچستان سے ہی شروع کرے گی اور وزیراعظم عمران خان کی کوشش ہے کہ سابقہ ادوار کی طرح بلوچستان کو نظر انداز نہیں کیا جائے گا۔ بلوچستان کے علاقے سبی تا ہرنائی ٹریک کا کام نوے فیصد مکمل ہوچکا ہے جس پر جلد ٹرین کو بھی چلایا جائے گا۔ 

انہوں نے کہا کہ ریلوے کو انتظامی سطح پر بھی ٹھیک کرنے کی کوشش کررہے ہیں جہاں مشکلات ہو اس کو ٹیکنیکل طریقے سے ہی ختم کردینگے اس سلسلے میں ہمارے برادر ملک چین سے بھی سیکھنے کے کافی مواقع مل سکتے ہیں اور تحریک انصاف کی حکومت کی کوشش ہے کہ چین سے استفادہ حاصل کرکے ملکی معیشت ، تباہ شدہ ادارے، منی لانڈرنگ جیسے صورتحال پر قابو پایا جاسکے۔