|

وقتِ اشاعت :   2 hours پہلے

 

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کی تجاویز کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ جب تک ایران  جوہری پروگرام سے  ایسا معاہدہ نہیں کرتا جس میں امریکا کےخدشات دور کیے جائیں اس وقت تک ایران پر بحری ناکہ بندی برقرار رکھی جائے گی۔

امریکی نیوز ویب سائٹ ایگزیوس کو دیے گئے انٹرویو میں ٹرمپ نے ایران کی اس تجویز کو مسترد کر دیا جس میں پہلے آبنائے ہرمز کھولنے اور ناکہ بندی ختم کرنے جبکہ جوہری مذاکرات بعد میں کرنے کی بات کی گئی تھی۔

ذرائع کے مطابق امریکی فوج کی سینٹرل کمانڈ نے ایران کے خلاف ’مختصر اور طاقتور‘ حملوں کا منصوبہ تیار کر لیا ہے تاکہ مذاکرات میں جاری تعطل کو ختم کیا جا سکے۔

رپورٹ کے مطابق ان ممکنہ حملوں میں ایران کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے جس کے بعد امریکا ایران کو دوبارہ مذاکرات کی میز پر لانے اور زیادہ لچک دکھانے پر زور دے گا۔

ٹرمپ نے کہا کہ وہ ناکہ بندی کو بمباری کے مقابلے میں ’کسی حد تک زیادہ مؤثر‘ سمجھتے ہیں، جبکہ ذرائع کے مطابق منگل کی رات تک انہوں نے کسی فوجی کارروائی کا حکم نہیں دیا۔

ذرائع کے مطابق اس وقت ٹرمپ ناکہ بندی کوایران پر دباؤ کا بنیادی ذریعہ سمجھتے ہیں تاہم اگر ایران نے مؤقف نہ بدلا تو وہ فوجی کارروائی پر بھی غور کر سکتے ہیں۔

انٹرویو میں ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ایران معاہدہ کرنا چاہتا ہے تاکہ ناکہ بندی ختم ہو سکے۔

ٹرمپ نے ایران کے حوالے سے کہا کہ ’وہ معاملہ حل کرنا چاہتے ہیں، وہ نہیں چاہتے کہ میں ناکہ بندی جاری رکھوں۔ میں اسے ختم نہیں کرنا چاہتا کیونکہ میں نہیں چاہتا کہ ان کے پاس جوہری ہتھیار ہوں‘۔

ٹرمپ نے مزید کہا کہ ایران کے تیل کے ذخائر اور پائپ لائنز ’پھٹنے کے قریب ہیں‘ کیونکہ ناکہ بندی کے باعث وہ تیل برآمد نہیں کر پا رہا، تاہم بعض ماہرین اس دعوے سے اتفاق نہیں کرتے۔

 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *