|

وقتِ اشاعت :   January 3 – 2019

کوئٹہ : اٹارنی جنرل فار پاکستان کے دفتر اور بلوچستان میں محکمہ معدنیات کے حکام نے عالمی عدالت کی جانب سے ریکوڈک کیس میں پاکستان حکومت پر چار ارب ڈالر جرمانہ عائد کئے جانے کی خبروں کی تردید کی ہے۔

بدھ کو اٹارنی جنرل کے سپریم کورٹ بلڈنگ اسلام آباد میں واقع دفتر سے جاری ہونیوالے بیان میں کہا گیا ہے کہ مقامی میڈیا گروپ کے انگلش اور اردو اخبارات میں چھپنے والی خبر بے بنیاد اور گمراہ کن ہیں۔

عالمی بینک (انٹرنیشنل سینٹر فار سیٹیلمنٹ آف انویسٹمنٹ۔ آئی سی ایس آئی ڈی) کی جانب سے اس کیس میں اب تک کوئی جرمانہ عائد نہیں کیا گیا۔مقامی میڈیا گروپ نے اس حساس کیس سے متعلق بے بنیاد اور گمراہ کن خبروں کی اشاعت سے پاکستان کو نازک صورتحال میں ڈالا۔

ا یسی خبریں غیر ضروری طور پر چونکایا اور خوف میں مبتلا کیا۔ میڈیا گروپ نے اس خبر کو شائع کرکے پاکستانی معیشت پر براہ راست منفی اثر ات ڈالے اور نقصان پہنچایا۔ بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ یہ مقدمہ اب تک اس عدالت میں چل رہا ہیا ور یہ خبر بالکل غلط ہے کہ اس کیس میں پاکستان کے خلاف کوئی جرمانہ عائد کیا گیا ہے۔یاد رہے کہ عالمی عدالت نے آسٹریلوی کمپنی کی جانب سے بلوچستان /پاکستانی حکومت کی جانب سے ریکوڈک میں سونے اور چاندی کی تلاش پر اربوں روپے خرچ کرنے کے باوجود کانکنی کی اجازت نہ دینے پر عالمی عدالت میں مقدمہ دائر کیا تھا۔

فریقین کے دلائل سننے کے بعد عدالت نے فیصلہ محفوظ کرلیا تھا۔ اٹارنی جنرل پاکستان کے دفتر سے جاری بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس کیس کا فیصلہ آئندہ چھ سے آٹھ ماہ تک متوقع نہیں۔ بیان کے مطابق یہ خبر بھی بے بنیاد ہے کہ جرمانے کی بروقت ادائیگی نہ ہونے کی صورت میں پاکستانی قومی ایئر لائن کمپنی کے طیاروں کو کئی ممالک میں جانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

دوسری جانب بلوچستان میں محکمہ معدنیات کے اعلیٰ حکام نے بھی رابطہ کرنے پر ان خبروں کی تردید کی ہے کہ ریکودک کیس میں بلوچستان یا پاکستان حکومت کے خلاف عالمی عدالت نے اربوں ڈالر کا جرمانہ عائد کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس حساس کیس سے متعلق خبروں کی اشاعت میں احتیاط اور صحافتی معیار کا خیال رکھنے کی ضرورت ہے۔