|

وقتِ اشاعت :   January 6 – 2019

کوئٹہ:  پاکستان مسلم لیگ(ن) بلوچستان کے صدر و سابق وفاقی وزیر جنرل (ر) عبدالقادر بلوچ نے کہا ہے کہ اپوزیشن جماعتوں کا متحد ہونے کا مقصد حکومت گرانا نہیں عمران خان کو بہتر حکومت کرنے کا موقع فراہم کرنا ہے۔ 

عمران خان ایماندار ہونگے انکی ٹیم میں شامل لوگ دودھ کے دھلے نہیں موجودہ حکومت مسائل حل کرنے میں ناکام نظر آرہی ہے نیب اور ایف آئی اے ایک معمولی درخواست پر سیاستدارنوں کی کردار کشی کررہے ہیں۔ بلو چستان عوامی پارٹی میں جام کمال وزارت اعلیٰ کیلئے بہترین انتخاب ہے ۔ 

ہفتہ کو کوئٹہ پریس کلب کے پروگرام ’’حال احوال ‘‘ میں اظہار خیال کرتے ہوئے جنرل (ر) عبدالقادر بلوچ کا مزید کہنا تھا کہ 2018ء کے انتخابات کے نتیجے میں بننے والی تحریک انصاف کی حکومت کو اپوزیشن کی تمام جماعتوں نے اپنے تعاون کا یقین دلایاتھا اپوزیشن لیڈر شہباز شریف نے حکومت کو معاشی مسائل کے حل کیلئے مشترکہ جدوجہد کی یقین دہانی کراتے ہوئے اہم تجاویز دیئے ۔ 

بلاول بھٹو نے قومی اسمبلی کے فلور پر کھڑے ہوکرحکمران جماعت کو اپوزیشن کی طرف سے مثبت کردار کی یقین دہانی کرائی بدقسمتی سے تحریک انصاف کے قائدین اور انکی معاشی ٹیم کو اپنی قابلیت پر زیادہ اعتماد ہے آج تک اپوزیشن کی تجاویز کو اہمیت نہیں دی ۔

انہوں نے کہا کہ غریب آدمی کا سب سے بڑا مسئلہ مہنگائی ہے ڈالر کی قیمت میں اضافہ ہونے سے مہنگائی کے امڈ آنے والے طوفان پر حکومت قابو پانے میں ناکام ہوچکی ہے حکومت تمام مسائل کو ایک طرف رکھ کر نہ صرف پاکستان بلکہ بیرون ملک میں کرپشن کا ڈھول پیٹ رہی ہے جس سے ملک کی بدنامی ہوئی ہے ۔ 

حکومت بیرون ملک یہ تاثر دے رہی ہے کہ پاکستان میں سب کرپٹ ہیں حکومت کے اس عمل سے بیرون ملک موجود سرمایہ کاروں نے پاکستان میں سرمایہ کاری کرنا چھوڑ دی ہے اگر نیب کے پاس کسی کے خلاف درخواست آجاتی ہے تواسی وقت اخبارات اور ٹی وی کی خبر بن جاتی ہے ۔

انہوں نے کہا کہ حکومت کا نظام چلانا بیورو کریسی کا کام ہے تاہم بیورو کریسی خوف کے مارے کام کرنے کو تیار نہیں جس سے ملک میں حکومت جام ہوچکی ہے ۔

انہوں نے کہا کہ عمران خان ایک ایماندار آدمی ہیں تاہم انکی ٹیم میں شامل شیخ رشید،جہانگیر ترین ،علیم خان اورچوہدری برادران کے خلاف کیسز اور انکوائریاں چل رہی ہیں سیاسی مخالفین کے لئے چور اورڈاکو کے الفاظ استعمال کرنا اچھی روایت نہیں وفاقی حکومت نے چائنا سے پیسے لانے کا دعویٰ کیا تاہم چائنا نے واضح کیا کہ وہ حکومت کو پیسے دینے کی بجائے پاکستان میں منصوبے شروع کریگی ملک میں انتہائی گھمبیر صورتحال ہے ۔

انہوں نے کہا کہ سابق وزیراعظم میاں نواز شریف اور مسلم لیگ(ن) کے صدر میاں شہباز شریف پر آج تک یہ ثابت نہیں ہوا کہ انہوں نے کہاں اور کتنے کی کرپشن کی ہے جس سے ثابت ہوتا ہے کہ پارٹی قائدین کو ناکردہ گناہوں کی سزا دی جارہی ہے ۔

انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ(ن) نے کبھی کرپشن کی حمایت نہیں کی کرپشن کرنے والوں کو سخت ترین سزائیں دی جائیں احتساب کرنا نیب کا اختیار ہے نیب بلا امتیاز احتساب کو یقینی بنائے ملک میں ہونے والی کرپشن سے متعلق تحقیقات میں حکمران جماعت کے کسی فرد کا نام نہ آنا باعث تعجب ہے انکوائریاں اور ای سی ایل میں اپوزیشن سیاسی جماعتوں کے قائدین کا نام شامل کیاجارہا ہے ۔

انہوں نے کہا کہ چیئرمین نیب جاوید اقبال کا تعلق بلوچستان سے ہے جو ہمارے لیے باعث افتخار ہے میرا ان سے مطالبہ ہے کہ نیب میں پگڑیاں اچھالنے کا سلسلہ بند کرائیں ۔ایک سوال کے جواب میں جنرل(ر) عبدالقادر بلوچ نے کہا کہ مسلم لیگ(ن) کے دور میں بے نظیر بھٹو اور آصف زرداری کے خلاف ہونے والی تحقیقات اس طرح نہیں تھیں ۔

انہوں نے کہا کہ اٹھارویں ترمیم کی حکومت سمیت پارلیمنٹ کے اندر اور باہر تمام سیاسی ومذہبی جماعتوں میں سے کسی نے مخالفت نہیں کی پوری قوم اس بات پر متفق ہے کہ اٹھارویں ترمیم کو نہ چھیڑا جائے ۔ این ایف سی ایوارڈ کے تحت صوبوں کو ملنے والی رقم میں تاخیر کی وجہ 19سالوں سے مردم شماری کا نہ ہونا تھا تاہم اب ملک بھر میں مردم شماری ہوچکی ہے ۔

لہذا این ایف سی ایوارڈ میں مزید تاخیر نہیں ہونی چاہئے گزشتہ پانچ سالوں میں وفاق سے بلوچستان کو ملنے والے فنڈز اورکہاں خرچ ہوئے اسکا جواب اسوقت کے صوبائی حکومتوں نے دینا ہے تاہم پی ایس ڈی پی میں شامل منصوبوں میں سے 50فیصد منصوبوں پر تکنیکی وجوہات کی وجہ سے کام کا عمل تاخیر کا شکار ہوتا ہے ۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ موجودہ چیئرمین سینٹ کا تعلق بلوچستان سے ہے 70سال میں پہلی مرتبہ چیئرمین سینٹ کا انتخاب بلوچستان سے کیا گیاتاہم ان پر اعتمادیا عدم اعتماد کا اظہار کرنا سیاسی جماعتوں کا جمہوری حق ہے۔

جنرل(ر) عبدالقادر بلوچ نے کہا کہ میں مسلسل دس سالوں تک قومی اسمبلی کا ممبر رہا اس عرصے میں نے اپنے حلقہ انتخاب میں عوام کی بلا امتیاز خدمت کی ہے عام انتخابات سے سے ایک ہفتے قبل میرے حلقے میں نئی حلقہ بندیاں کرکے خاران سمیت دیگر علاقوں کو ان سے نکال کر پنجگور کو آواران میں شامل کیا گیا دالبندین کے لوگوں سے ہمارا خاندانی تعلق ضرور ہے مگر میرا ان سے کبھی سیاسی تعلق نہیں رہا الیکشن کے بعد چار روز تک میرے انتخابی نتائج کو روکے رکھا گیا ۔

انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ(ن) بلوچستان کے انٹرا پارٹی انتخابات میں بلوچستان کے 26اضلاع کے نمائندوں اور 200کونسلران نے مجھے بلا مقابلہ صدر منتخب کیا جبکہ جنرل سیکرٹری کیلئے تین امیدواروں میں مقابلہ کے بعد جمال شاہ کاکڑ منتخب ہوئے لہذا جن افراد نے خود کو پارٹی کا عہدیدار ظاہر کرکے ہمارے خلاف الیکشن کمیشن میں کیس دائر کیا ہے وہ پارٹی کے عہدیدار ہی نہیں ہیں ۔

انہوں نے کہا کہ میری ذاتی رائے ہے کہ بلوچستان عوامی پارٹی میں جام کمال خان وزارت اعلیٰ کیلئے اچھا انتخاب ہے میری دعا ہے کہ وہ بلوچستان کے مسائل حل کرپائیں۔