کوئٹہ: بلوچستان اسمبلی کے اجلاس میں ہرنائی وولن مل کو فعال بنانے زیارت موڑ سے کچھ ،ہرنائی تا سنجاوی شاہراہ اور زیارت سے سنجاوی لورالائی تک شاہراہ شاہراہ کی تعمیر سے متعلق قراردادیں متفقہ طور پر منظور کرلی گئیں ۔ اجلاس میں نومنتخب رکن بلوچستان اسمبلی قادر علی نائل نے حلف اٹھایا ۔
ہفتہ کے روز اسپیکر بلوچستان اسمبلی میر عبدالقدوس بزنجو کی صدارت میں ہونے والے بلوچستان اسمبلی کے اجلاس میں صوبائی وزیر نورمحمد دمڑ نے قرار داد پیش کرتے ہوئے کہا ہرنائی وولن مل ایک طویل عرصہ سے غیر فعال اور بند پڑی ہوئی ہے جس کی وجہ سے علاقے سے تعلق رکھنے والے لوگوں کی بے روزگاری میں اضافہ ہوا ہے جس سے ان میں احساس محرومی اور مایوسی پائی جاتی ہے ۔
لہذا یہ ایوان صوبائی حکومت سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ وفاقی حکومت سے رجوع کرے تا کہ صوبہ کی معیشت کو مضبوط بنانے کیلئے ہرنائی وولن مل کو فعال کیا جاسکے اورقامی افراد کو روزگار کے مواقع فراہم کرکے ان میں پائی جانے والی احساس محرومی اور مایوسی کے خاتمہ کا ازالہ ممکن ہوسکے بصورت دیگر مذکورہ عمارت کو عوامی مفاد عامہ کے کام میں لانے کیلئے اس میں یونیورسٹی کیمپس کا قیام عمل میں لایاجائے۔
قرار داد کی موزنیت پر بات کرتے ہوئے صوبائی وزیر واسا نور محمد دمڑ نے کہاکہ 1953 میں 43.5 ایکڑ زمین پر قائم ہرنائی وولن مل سے ہزاروں لوگو ں کاروزگار منسلک تھا جسے 1988 ء میں مل کو مالی نقصانات کی وجہ سے محکمہ انوائرمنٹل ڈیپارٹمنٹ کو کراچی منتقل کیا گیاجس کو بعد میں فروخت کردیا گیا کمشنر سبی کی سربراہی میں سامان واپس لاکر صوبائی حکومت کے حوالے کرنے کیلئے کمیٹی قائم کی گئی ۔
انہوں نے کہا کہ میری استدعا ہے کہ مل کو فعال کیا جائے اگرا یسا نہیں ہوتا ہے تومل کی عمارت کو یونیورسٹی کیمپس میں تبدیل کیا جائے ۔بی این پی کے رکن اسمبلی اختر حسین لانگو نے قرار داد کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ 2004ء میں بلوچستان اسمبلی نے ہرنائی وولن مل ‘چوتو وولن مل اور بلیلی میں قائم بولان ٹیکسٹائل مل کو فعال کرنے سے متعلق ایوان میں قرارداد منظور کی تھی تاہم پندرہ سال گزرنے کے باوجود اس قرار داد پر عملدرآمد نہیں ہوا ۔
بولان ٹیکسٹائل مل کی زمین آئی ٹی یونیورسٹی کو دی گئی ہے ۔انہوں نے کہا کہ 2004ء میں منظور ہونے والی قرارداد پر عملدرآمد نہ ہونے سے پندرہ سال بعد دوبارہ وہی قرار داد ایوان میں لائی گئی ہے۔ ایوان سے منظور ہونے والی قرار دادوں پر عملدرآمد کیا جائے۔
پی ٹی آئی کے صوبائی صدر ورکن اسمبلی سردار یارمحمد رند نے قرارداد کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ لورالائی کے ہزاروں لوگوں کا ذرائع روزگار اس مل سے وابستہ ہے 2004ء میں پاس ہونے والی قرارداد پر عملدرآمد نہ کرنے والوں کا تعین کرنے کیلئے کمیٹی قائم کی جائے۔
انہوں نے کہاکہ ایوان میں اہم نوعیت کے مسئلے کو زیربحث لاکر اس پر بحث کرائی جائے اور پاس ہونے والی قرار دادوں پر عملدرآمد کیا جائے وزیراعلیٰ ا ور اسپیکر سیکرٹریٹ قراردادوں پر عملدرآمد کرانے کیلئے خصوصی شعبہ قائم کئے جائیں۔ پشتونخوامیپ کے رکن اسمبلی کے رکن اسمبلی نصراللہ زیرے نے کہا کہ 2013-14ء کے بجٹ میں ہرنائی وولن مل کے لئے 50بلین روپے مختص کئے گئے تھے کمشنر سبی ڈویژن کی سربراہی میں کمیٹی قائم کی گئی تھی تاہم اس میں کوئی پیش رفت نہ ہوئی ۔
انہوں نے کہا کہ مل کو فعال کیا جائے یونیورسٹی کے لئے ہرنائی کے لوگ زمین دینے کو تیار ہیں۔ جمعیت کے رکن اسمبلی عبدالواحد صدیقی نے کہا کہ بلوچستان کی معیشت کا انحصار گلہ بانی اور زراعت پر ہے تاہم خشک سالی سے قدرتی چراگاہیں خشک ہوچکی ہیں جس سے گلہ بانی کا شعبہ شدید متاثر ہے بارشیں نہ ہونے سے زراعت کے شعبے کو بھی نقصان پہنچا ہے لہذا حکومت ان دو شعبوں سے منسلک افراد کو روزگار فراہم کرتے ہوئے بلوچستان کے مختلف اضلاع میں صنعتیں قائم کرے ۔
اے این پی کے نعیم بازئی نے بھی قرار داد کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ حکومتی رکن کی جانب سے پیش کی گئی قرار داد اہم نوعیت کی ہے لہذا ایوان اسکی متفقہ منظوری دے۔بی این پی کے رکن اسمبلی احمد نواز بلوچ نے قرارداد کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نوجوانوں کو ہنرمند بنانے کیلئے صوبے کے مختلف اضلاع میں ٹیکنیکل سینٹرز قائم کرے تاکہ وہاں نواجونوں کو تربیت فراہم کی جاسکے ۔
صوبائی وزیر سردارعبدالرحمن کھیتران نے قرارداد کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ یہاں دوستوں نے قرار دادوں پر عملدرآمد نہ ہونے کی شکایت کی ہماری وفاقی حکومت سے متعلق قراردادوں کو وفاق اہمیت نہیں دیتا سردار یار محمد رند نے قرار دادوں پر عملدرآمدکے حوالے سے جو تجاویز دیں وہ انتہائی اہمیت کی حامل ہیں ۔
ماضی میں صوبے میں ہرنائی ،چوتو ،بلیلی سمیت مختلف ٹیکسٹائل ملز قائم کی گئیں جن میں سے بلیلی ٹیکسٹائل مل کو تو آئی ٹی یونیورسٹی میں تبدیل کردیا گیا جس کا اسوقت عالمی معیار پر ایک سطح ہے ۔انہوں نے کہا کہ ہرنائی وولن مل کی مشینری ماضی میں فروخت کی جارہی تھی مگر ہرنائی کے عوام نے مزاحمت کی جس کے باعث مشینری نہ لے جائی جاسکی ۔
انہوں نے کہا کہ ہرنائی وولن مل میں ماضی میں عالمی معیار کا کپڑا تیار ہوتا تھا اس مل کو بھی ہرحال میں فعال ہونا چاہئے۔جمعیت علماء اسلام کے رکن اسمبلی یونس عزیز زہری نے قرارداد کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ ہرنائی وولن مل کے ساتھ چوتو اور وبولان ٹیکسٹائل مل کو بھی دیکھا جائے بلوچستان میں مختلف علاقوں میں انڈسٹریل زونز تو قائم کردیئے گئے ہیں ۔
مگر دوسری جانب پرانی ملوں کو فعال کرنے پر توجہ نہیں دی جارہی اور جہاں انڈسٹریل زون قائم کئے گئے ہیں وہ اب تک فعال نہیں خضدار میں 70سے 80ماربل کے کارخانے کام کر رہے ہیں انہیں خضدار انڈسٹریل زون میں منتقل کیا جائے تاکہ زون کو فعال بنایا جاسکے۔
صوبائی وزیر عبدالخالق ہزارہ ،بلوچستان نیشنل پارٹی کے پارلیمانی لیڈر نصیرشاہوانی نے بھی قرار داد کی حمایت کی بعد ازاں اسپیکر نے ایوان کی رائے سے قراردادکو مشترکہ قرار داد کی صورت میں منظور کرنے کی رولنگ دی۔
صوبائی وزیر نورمحمد دمڑ نے قرار داد ایوان میں پیش کرتے ہوئے کہا کہ زیارت کراس سے کچھ اور کچھ کراس سے ہرنائی اورہرنائی سے سنجاوی تک شاہراہ این ایچ اے کے ذریعے تعمیر کرنے کی منظوری ہوچکی ہے اور کافی عرصہ گزرنے کے باوجود تاحال مذکورہ شارع پر تعمیر کا کام تعطل کا شکارہے جس کی وجہ سے مذکورہ علاقے کے لوگ کوئلہ ،پھل اور سبزیاں وغیرہ صوبے کے دیگر اضلاع اور صوبوں میں پہنچانے اور اپنے روز مرہ کے معاملات نمٹانے سے قاصر ہیں ۔
جس کی وجہ سے نہ صرف صوبہ بلکہ ملکی معیشت کو بھی زیادہ نقصان پہنچ رہا ہے لہذا یہ ایوان صوبائی حکومت سے سفارش کرتا ہے کہ وہ وفاقی حکومت سے رجوع کرے کہ وہ زیارت موڑ سے کچھ ،ہرنائی اور ہرنائی تا سنجاوی شاہراہ کو جلد از جلد ٹینڈر کرنے کے ساتھ ساتھ شاہراہ کی تعمیر کا کام شروع کرے نیز کچھ کراس سے زیارت اور زیارت سے سنجاوی اور پھر سنجاوی سے لورالائی تک کی شاہراہ کی منظوری دی جائے تاکہ یہ شاہراہ مکمل طور پر لورالائی این 70روڈ کے ساتھ منسلک ہوسکے۔
دریں اثناء بلوچستان اسمبلی کے اجلاس میں اپوزیشن جماعتوں نے پشین اور لورلائی میں ہونے والے بدامنی کے واقعات اورپسنی فش ہاربر کے ملازمین کی تنخواہوں کی بندش پر ایوان کی توجہ مبذوال کراتے ہوئے واقعات کی روک تھام اور ملازمین کو تنخواہوں کی ادائیگی کیلئے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کا مطالبہ کیا۔
قراردادوں پر عملدرآمد نہ ہونے اور تعلیمی بحران سے نمٹنے کیلئے حکومتی اقدامات پر اپوزیشن رکن کا عدم اطمینان کا اظہار حکومت اوراپوزیشن میں نوک جھونک، گزشتہ روز اسپیکر بلوچستان اسمبلی کی زیر صدارت ہونے والے بلوچستان اسمبلی کے اجلا س میں جمعیت علماء اسلام کے رکن عبدالواحد صدیقی نے اظہارخیال کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ روز پشین بازار بم دھماکے میں نائب تحصیلدار عبدالمالک ترین کی گاڑی کو نشانہ بنایا گیابم دھماکے کے نتیجے میں درجنوں افراد زخمی ہوئے ہیں ۔
حکومت زخمیوں کو بہتر طبی سہولیات کی فراہمی کیلئے اقدامات اٹھائے۔انہوں نے کہا کہ پشین میں تعینات پولیس اہلکاروں اور ملازمین کو بلوچستان کے دیگر اضلاع میں تعینات کیا گیا ہے جس کی وجہ سے پشین میں محکمہ پولیس کو نفری کی کمی کا سامنا ہے ۔
انہوں نے کہا کہ کوئٹہ مستونگ اور دیگر اضلاع میں تعینات پشین کے مقامی ملازمین کا دوبارہ انکے اپنے ضلع میں تبادلہ کیا جائے۔پشتونخوامیپ کے رکن اسمبلی نصراللہ زیرے نے پشین واقعہ کوانتہائی افسوسناک قراردیتے ہوئے کہا کہ گزشتہ کئی دنوں سے پشین ،قلعہ سیف اللہ اور لورالائی میں بدامنی کے واقعات تسلسل سے ہورہے ہیں لورالائی میں ایف سی ٹرینگ سینٹر پرحملہ ہوا آج ایک سماجی کارکن کو فائرنگ کرکے شہید کیا گیا ہے ۔
انہوں نے کہاکہ ان علاقوں میں امن وا مان کی صورتحال خراب کرکے فاٹا اور کے پی کے جیسے حالات وہاں پیدا کئے جارہے ہیں حکومت قیام امن کو یقینی بنائے ۔بی این پی کے رکن اسمبلی ملک نصیرشاہوانی نے پوائنٹ آف آرڈر پر بلوچستان میں قحط اور خشک سالی سے متعلق منظور کی گئی قرارداد پر کمیٹی قائم نہ ہونے پر ایوان میں اپنے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان حکومت کو چار وزراء چلارہے ہیں ۔
خشک سالی ،کوئٹہ میں پانی کے مسئلے،این ایف سی ایوارڈ سمیت دیگر اہم نوعیت کے مسائل کو ایوان میں زیر بحث لاکر ہم نے حکومت کے ساتھ چلنے کی کوشش کی تاہم حکومت اپوزیشن ارکان کو ساتھ لیکر چلنا نہیں چاہتی ۔
انہوں نے کہا کہ میرے حلقے میں لوگوں کو گیس کی کمی اور بجلی کی لوڈشیڈنگ کا سامنا ہے کیسکو چیف سے 12ملاقاتوں کے باوجود مسئلہ حل نہیں ہوا زمینداروں کے ٹرانسفارمر اٹھائے جارہے ہیں گزشتہ ارکان اسمبلی اور کیسکو چیف کے مابین ہونے والی ملاقات کے باوجود مسائل جوں کے توں ہیں ۔
انہوں نے کہا کہ بلوچستان اسمبلی میں حکومتی وزراء کی موجودگی کے باوجود صوبائی وزیر سردار عبدالرحمن کھیتران اپوزیشن کے سوالوں کا جواب دیتے ہیں جو وزراء کی عدم سنجیدگی کی عکاسی کرتا ہے اکثر اوقات وزیراعلیٰ کی موجودگی میں بھی سردار عبدالرحمن کھیتران وزیراعلیٰ سے ہونے والے سوالوں کے جوابات بھی دے رہے ہوتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ صوبائی اسمبلی کے اجلاس میں حکومتی وزراء اور ارکان شرکت کرنے سے زیادہ وزیراعلیٰ کے ساتھ دوروں کو ترجیح دیتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اپوزیشن جماعتون نے صوبے کے تمام اضلاع کو آفت زدہ قرار دیتے جانے سے متعلق قرار داد ایوان میں مشترکہ طور پر منظور کرائی تھی تاہم اگلے ہی روز حکومت کی جانب سے 11اضلاع کو آفت زدہ قرار دیا گیا بعد میں انکی تعداد 18کردی گئی سرکاری ملازمتوں کیلئے عمر کی بالائی حد میں پانچ سال کے اضافے سے متعلق منظور ہونے والی قرار داد کا ابتک حکومت کی جانب سے نوٹیفکیشن جاری نہیں کیا گیا۔
کوئٹہ میں پانی کے مسئلے پر گذشتہ روز صوبائی وزیر کی زیر صدارت ہونے والے اجلاس میں حکومت کے کسی نمائندے نے شرکت کی زحمت تک نہیں کی کیو ڈی اے کی گوارننگ باڈی میں اپوزیشن کو نمائندگی نہ دیکر وزیراعلیٰ کے معاون خصوصی کوشامل کیا گیا ہے ۔
انہوں نے کہا کہ بلوچستان اسمبلی سے منظور ہونے والی قرار دادوں پر عملدرآمد کیلئے اقدامات اٹھائے جائیں۔اجلاس میں بلوچستان نیشنل پارٹی کے حمل کلمتی نے پوائنٹ آف آرڈر پر ایوان کی توجہ جی ڈی اے اور پسنی فش ہاربر میں ڈائریکٹرز نہ ہونے کی جانب مبذول کراتے ہوئے کہا کہ ڈائریکٹرز نہ ہونے کی وجہ سے ملازمین کی تنخواہیں نہیں مل رہیں اس اہم مسئلے کو حل اور ملازمین کی تنخواہوں کی ادائیگی کو یقینی بنایا جائے۔
صوبائی وزیرسردارعبدالرحمن کھیتران نے ارکان کی جانب سے پوائنٹ آف آرڈر پر اٹھائے جانے والے نکات کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ انڈسٹریل زون کے حوالے سے صوبائی حکومت کام کر رہی ہے چین کی حکومت سے بھی بات چیت ہورہی ہے جلد اس حوالے سے عوام کو بڑی خبر دیں گے۔
انہوں نے یقین دلایا کہ سرکاری ملازمتوں میں عمر کی بالائی حد کے حوالے سے نوٹیفکیشن ایک دو روز میں جاری کردیا جائے گا۔ انہوں نے گیس پریشر کے حوالے سے کہا کہ یہ اہم مسئلہ ہے جس پر گزشتہ دنوں کوئٹہ میں وفاقی وزیر پٹرولیم سے بھی بات ہوئی ۔
بی این پی کے رکن اسمبلی ثناء بلوچ نے زیرو آور میں توجہ دلاؤ نوٹس پر پوچھاکہ بلوچستان میں ہزاروں سکولوں ،اساتذہ اور عمارتوں سمیت نصابی کتب سمیت بنیادی سہولیات سے محروم ہیں حکومت بلوچستان نے تعلیمی بحران سے نمٹنے کیلئے کیا کردارادا کیا ہے زیرو آور پر جواب دیتے ہوئے صوبائی وزیر سردارعبدالرحمن کھیتران نے کہا کہ وزیر تعلیم اپنے آبائی علاقے کے دورے پر ہیں ۔
انہوں نے مجھے جواب دینے کی اجازت دی جائے سوالات کے جوابات تحریری طور پر دیئے گئے ہیں تاہم یہاں پر میں یہ وضاحت کرنا چاہوں گا کہ گزشتہ پانچ سال کے دوران تعلیمی ایمرجنسی کے باوجود تعلیم کیلئے کچھ نہیں کیا گیا لیکن ہم انکے نقش قدم پر نہیں چلیں گے ۔
موجودہ حکومت نے چند ماہ قبل ہی اقتدار سنبھالا اور قلیل عرصے میں تعلیمی صورتحال کی بہتری کیلئے اقدامات اٹھائے گئے ہیں ایک کروڑ 32لاکھ کتابوں کی اشاعت ہوئی ہے اور 9اضلاع میں تقسیم کی جاچکی ہیں جبکہ دیگر اضلاع میں پندرہ فروری سے قبل ہی کتب فراہم کردی جائیں گی ۔
عمارتوں کے حوالے سے صوبائی حکومت نے بیشتر سکولوں کو پرائمری سے مڈل اور مڈل سے ہائی کا درجہ دیا ہے اوراسکے ساتھ ساتھ ماڈل سکولوں کا قیام بھی عمل میں لایاجارہا ہے۔ صوبائی وزیر سردارعبدالرحمن کھیتران نے بتایا کہ موجودہ حکومت صحت کی طرح تعلیم میں بھی مستقل اور عارضی بنیادوں پر 9ہزار سے زائد اساتذہ اور دیگر اسٹاف کی تعیناتی عمل میں لارہی ہے جس کے بعد محکمہ تعلیم میں نمایاں تبدیل نظرآئے گی۔
اس موقع پر رکن اسمبلی ثناء بلوچ نے صوبائی وزیر کے جوابات پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ 2010ء سے 2017ء تک تعلیم کا بجٹ 19ارب سے 55ارب تک پہنچا لیکن تعلیم میں بہتری کی بجائے شرح خواندگی 4فیصد مزید نیچے گرگیا یہی صورتحال بلوچستان کے دور دراز علاقوں میں ہے تعلیمی بجٹ میں اس قدر اضافے کے باوجود بلوچستان میں تعلیمی بحران برقرار ہے حکومت بتائے اس حوالے سے کیا اقدامات کر رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت سکولوں کی اپ گریڈیشن میں اپوزیشن کو نظرانداز کرکے جانبداری کا مظاہرہ کیا گیا پی ایس ڈی پی سے منصوبے نکال کربچت کرنے والوں کو میں ڈؤنر کانفرنس کے ذریعے ایک ارب روپے لاکر دینے کیلئے تیار ہوں ۔انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے اکثر اضلاع میں تعلیمی ادارے بنیادی سہولیات سے محروم ہیں ہزاروں کی تعداد میں اسامیاں خالی ہیں ۔