کوئٹہ : چیف آف سراوان سابق وزیراعلیٰ بلوچستان اور رکن بلوچستان اسمبلی نواب محمد اسلم خان رئیسانی نے کہا ہے کہ وفاقی حکومت کی سمت درست نہیں بلوچستان نیشنل پارٹی کے چھ نکات کی حمایت کرتاہوں ۔وفاقی حکومت جس سمت جارہی ہے اسے جانے دیا جائے ۔
گزشتہ روز سراوان ہاؤس کوئٹہ میں نجی ٹی وی چینل کو اپنے دیئے گئے انٹرویومیں نواب اسلم رئیسانی نے کہا کہ وفاقی حکومت کے فیصلے بلوچ پشتون قومی مفادات کے حق میں نہیں لاپتہ افراد کی بازیابی سے متعلق حکومت کی سنجیدگی کہیں نظر نہیں آرہی نہ ان کو بازیاب کرانا انکے بس میں ہے ۔ انہوں نے کہا کہ سی پیک کو بلوچستان کیلئے سیل پیک بنادیا گیا ہے ۔
آئے روز اخبارات میں پڑھنے کو ملتا ہے کہ سی پیک کے تحت منصوبوں کو چائینہ یا وفاقی حکومت نے التواء میں رکھا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ایک بات واضح ہے کہ چائیز کی ایک بہت بڑی آبادی یہاں لوگوں کو روزگار فراہم کرنے نہیں بلوچستا ن کے وسائل کو لوٹنے کیلئے یہاں ملازمتیں کرنے آرہی ہے ۔
انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت کی سمت ہی درست نہیں جس سمت میں جارہی ہے اسے روکنے کے بجائے جانے دیا جائے ۔ بلوچ پشتون قومی مفادات کے حق میں وفاقی حکومت کی حرکتیں درست نہیں ہیں ۔ لاپتہ افراد کی بازیابی سے متعلق حکومت کی سنجیدگی کہیں نظر نہیں آرہی یہ ان کے بس کی بات نہیں ہے ۔
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ بلوچستان حکومت کو درپیش مالی بحران کی وجہ اخراجات میں اضافہ اور آمدن میں کمی ہے آئندہ چند ماہ کے دوران صوبائی حکومت کو ملازمین کو تنخواہوں کی ادائیگی میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑئیگا ۔ چائینز زبان سیکھنے سے متعلق سوال کے جواب میں نواب رئیسانی نے کہا کہ جس کو زبان سیکھنے کا شوق ہے میرا اس کو مشورہ ہے کہ وہ عربی زبان سیکھے قرآن مجید بھی عربی زبان میں ہے ۔
سی پیک کو بلوچستان کیلئے سیل پیک بنادیا گیا ہے ، نواب رئیسانی
![]()
وقتِ اشاعت : January 24 – 2019