|

وقتِ اشاعت :   January 27 – 2019

کوئٹہ: بلوچستان میں چار سالہ مدت ختم ہونے پر آج بلدیاتی ادارے تحلیل ہوجائیں گے۔انتظام ایڈمنسٹریٹر سنبھالیں گے۔ بلدیاتی نمائندے چار سالہ مدت میں اختیارات کی عدم منتقلی اور فنڈز کی کمی کی دہائیاں دیتے رہے۔الیکشن کمشنر بلوچستان کا کہنا ہے کہ اگلے بلدیاتی انتخابات چار ماہ کے اندر کرائے جائیں گے۔ 

سیکریٹری لوکل گورنمنٹ بلوچستان کمبر دشتی کے دستخط سے جاری ہونیوالے نوٹیفکیشن کے مطابق بلوچستان لاکل گورنمنٹ ایکٹ2010کے سیکشن26کے تحت پر بلوچستان کے تمام بلدیاتی ادارے بشمول میٹروپولیٹن کارپوریشن، میونسپل کارپوریشنز، میونسپل کمیٹیز، ڈسٹرکٹ کونسلز اور یونین کونسلز کی چار سالہ مدت 27جنوری کو ہورہی ہے اس طرح 28جنوری سے یہ تمام بلدیاتی ادارے تحلیل اور ان کے میئر، ڈپٹی میئر ، چیئرمین ، وائس چیئرمین اور ممبران سبکدوش ہوگئے ہیں۔

مدت مکمل ہونے کے بعد بلدیاتی اداروں کا انتظام ایڈمنسٹریٹر سنبھالیں گے۔ الیکشن کمشنر بلوچستان غلام اسرار خان کا کہنا ہے کہ الیکشن کمیشن آف پاکستان نے صوبے میں آئندہ بلدیاتی انتخابات کی تیاریاں شروع کردی ہیں ۔ اس سلسلے میں پہلے مرحلے میں 2017ء کی مردم شماری کے مطابق نئی حلقہ بندیوں کیلئے کمیٹیاں تشکیل دیدی گئی ہیں جو30مارچ تک اپنا کام مکمل کرے گی۔

صوبے بھر میں 31جنوری سے نئی حلقہ بندیوں کا کام شروع کیا جائیگا۔ 15فروری کو یہ فہرستیں جاری کی جائیں گی ۔متعلقہ حلقے کا ووٹر حلقہ بندیوں پر 15 دن کے اندر اعتراضات جمع کروا سکے گا جو 16 فروری سے 2 مارچ تک جاری رہے گا۔ 

اعتراضات پر فیصلوں کا سلسلہ 30 دن تک جاری رہے گا جو 16 فروری سے 17 مارچ تک جاری رہیگا۔ حلقہ بندی اتھارٹی کے فیصلوں کو متعلقہ حلقہ بندی کمیٹیوں تک پہنچانے کیلئے 7 دن کا وقت ہوگا جوکہ 18 مارچ سے 24 مارچ تک ہوگا۔لوکل گورنمنٹ کے حلقوں وارڈز کی حتمی فہرست 30 مارچ کو اویزاں کر دیا جائیگا۔صوبائی الیکشن کمشنر نے بتایا کہ بلدیاتی انتخابات آئینی ذمہ داری ہے جس کیلئے الیکشن کمیشن مکمل طور پر تیار ہیں۔ 

صوبائی حکومت دو ماہ کے اندر بلدیاتی ایکٹ میں ترمیم کرسکتی ہے ۔ دو ماہ کے بعد بلدیاتی انتخابات کے شیڈول کا اعلان کردیا جائیگا۔ یاد رہے کہ مدت مکمل پوری کرنے کے باوجود بلوچستان کے بلدایتی نمائندے اختیارات کی نچلی سطح پر عدم منتقلی اور فنڈز کی کمی کا رونا روتے رہے۔ 

کوئٹہ کے سبکدوش ہونیوالے میئرڈاکٹر کلیم اللہ کا کہنا ہے کہ صوبائی حکومت اور صوبائی اسمبلی کے ممبران نے چار سالہ دور میں لوکل گورنمنٹ کے ناقص ایکٹ کے تحت بلدیاتی نمائندوں کے ہاتھ باندھے رکھے۔ ان کے اختیارات صوبائی وزراء، ارکان اسمبلی اور بیوروکریسی کے پاس رہے ۔ فنڈز میں بھی بار بار کٹوتیاں کی گئیں۔ 

اس مداخلت کے نتیجے میں بلدیاتی نمائندے نچلی سطح پر عوام کے مسائل حل کرنے میں کامیاب نہ ہوسکے تاہم اس کے باوجود بلدیاتی نمائندوں نے مثالی کردار ادا کیا ۔