کوئٹہ : بلوچستان اسمبلی کے اجلاس میں اپوزیشن کاگزشتہ بیس سال کے دوران معدنی منصوبوں پر ہونے والے معاہدوں کو ایوان میں زیر بحث لانے اوربلوچستان میں نیچرل ریسورس پالیسی بنانے کا مطالبہ ،بیلہ ٹریفک حادثہ سے متعلق تحریک التواء 30جنوری کو بحث کیلئے منظوربی اینڈ آر آفس واشک کے متعلق توجہ دلاؤ نوٹس آئندہ اجلاس کے لئے موخر کردیا گیا ۔
گزشتہ روز اسپیکر بلوچستان اسمبلی میر عبدالقدوس بزنجو کی زیر صدرت ہونے والے بلوچستان اسمبلی کے اجلاس میں بلوچستان کے معدنی و قدرتی وسائل سے متعلق واضح اور جامع حکمت عملی بنانے سے متعلق بحث کا آغاز کرتے ہوئے صوبائی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر ملک سکندر خان ایڈووکیٹ نے کہا کہ یہ امر انتہائی افسوسناک ہے کہ ہم ترقی کی بجائے روز بروز پستی کی جانب جارہے ہیں آخر ہم کب تک اس صورتحال سے دوچار رہیں گے ۔
اس کے لئے ضروری ہے کہ حکومتی نظم کو درست کرکے چلایا جائے جب سب مل کر اپنا کردار اد اکریں گے تب صورتحال بہتر ہوجائیگی انہوں نے کہا کہ بلوچستان کو اللہ تعالیٰ نے معدنی وسائل سے مالا مال کر رکھا ہے ۔
انہوں نے گزشتہ ایک سال کے دوران صوبے کے مختلف علاقوں سے نکالی جانے والی معدنیات سے متعلق اعدادوشمار پیش کرتے ہوئے کہا کہ جن علاقوں سے سونا چاندی ، تانبا ، کرومائیٹ ، بیرائٹ ، ماربل ، کوئلہ سمیت دیگر معدنیات نکالی جارہی ہیں ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ یہ علاقے انتہائی ترقیافتہ اور وہاں کے لوگوں کا معیار زندگی بہت بہتر ہوتا مگر صورتحال یہ ہے کہ جہاں سے یہ معدنیات نکل رہی ہیں ۔
وہاں کے لوگوں کا معیار زندگی افسوسناک ہے ۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ جن جن علاقوں سے قدرتی معدنیات نکالی جارہی ہیں ان سے ہونے والی آمدنی کا کچھ حصہ ان علاقوں کی ترقی کے لئے مختص کیا جائے ۔
انہوں نے کہا کہ بلوچستان قدرتی معدنیات سے مالا مال ہے ضرورت اس بات کی ہے کہ ان وسائل کو بہتر انداز میں صوبے کی ترقی کے لئے استعمال کیا جائے ان سے حاصل ہونے والی آمدنی سے عوام کو بنیادی سہولیات فراہم کی جائیں لیکن صورتحال یہ ہے کہ آج تک سوئی گیس کا ہیڈ آفس صوبے میں نہیں چند فٹ پائپ کے لئے بھی ہیڈ آفس کے لئے دیکھنا پڑتا ہے انہوں نے کہا کہ معدنیات سے درست فائدہ اٹھائے بغیر بلوچستان کو ترقی کی راہ پر گامزن نہیں کیا جاسکتا ۔
بلوچستان نیشنل پارٹی کے ثناء بلوچ نے کہا کہ معاشی اور معیشت کے حوالے سے دو بلوچستان ہیں ایک بلوچستان میں لوگ بھوک افلاس ، جہالت پسماندگی کا شکار ہیں اور بنیادی سہولیات سے محروم جبکہ دوسرا بلوچستان وہ ہے جس کا بیرونی ممالک ذکر کیا جائے تو لوگوں کی آنکھوں میں ہمارے معدنی وسائل کا سن کر چمک نظر آتی ہے۔
بلوچستان میں اربوں ڈالر کے معدنی وسائل ہیں مگر ہم پسماندگی اور غربت کا شکار ہیں جبکہ دنیا کے بہت سے چھوٹے چھوٹے ممالک ایسے بھی ہیں جن کے پاس نہ تو کوئی ساحل او رنہ ہی کوئی وسائل ہیں مگر ان کے زرمبادلہ کے ذخائر حیران کن ہیں انہوں نے یہ ترقی صرف اچھی لیڈرشپ اور اس کی درست ویژن کی بدولت کی ہے ۔
دنیا میں کوئی بھی قوم بہتر ادارے اور اچھی لیڈرشپ نہ ہونے کی وجہ سے ہی پسماندگی کا شکاررہتی ہے اور یہی بدقسمتی بلوچستان کی ہے کہ اسے سردار عطاء اللہ مینگل اور نواب اکبرخان بگٹی کے سواء کوئی ایسی قیادت نہیں ملی کہ جو بلوچستان کی ترقی اور خوشحالی میں کردار ادا کرتی ۔
اربوں ڈالر کے سونا تانبا اور چاندی کے ذخائر رکھنے والے ریکوڈک کے عوام آج بھی پی ڈے ایم اے کی امداد کے منتظر ہیں کہ کب انہیں چند کلو راشن مل سکے دور قدیم کے طرز کان کنی کے باعث روزانہ ہمارے کان کن ہلاک ہورہے ہیں اگر دور اندیش قیادت ہوتی تو اتنے وسائل اور طویل ساحل سمندر کی بدولت ہم بھی ترقی کرتے بدقسمتی سے کوئٹہ میں پانچ کلو میٹر کے دائرے میں بیٹھے لوگ ہی صوبے کی پسماندگی کے ذمہ دار ہیں ۔
بلوچستان میں2003ء کے بعد کوئی معدنی پالیسی تک نہیں آئی ہمیں یہ سوچنا چاہئے کہ معدنی وسائل جب دریافت ہوتے ہیں تو پھر جلد یا بدیر یہ ختم ہوجاتے ہیں مگر ہمارے حکمرانوں نے اس طرف سوچنے کی کبھی زحمت ہی نہیں کی معدنی وسائل سے مالامال چاغی کی نصف آبادی غربت کا شکار ہے ۔
ریکوڈک پر حکومت کو ساڑھے 11ارب ڈالر کا جرمانہ دینا پڑسکتا ہے بلوچستان کے وسائل پر جہاں پوری دنیا کی نظریں لگی ہوئی ہیں وہاں ہمارے حکمرانوں کو اس کی کوئی پرواہ نہیں سیندک پر ایوان کی کمیٹی بنائی گئی مگر آج تک اس کا کوئی اجلاس تک نہیں ہوا ریکوڈک اور ہنگول میں کوڑیوں کے داموں زمین الاٹ کی گئی ۔
انہوں نے زور دیا کہ گزشتہ بیس سال کے دوران معدنی منصوبوں پر ہونے والے معاہدوں کو ایوان میں لایا جائے اسمبلی کا ایک ہفتہ تک مسلسل اجلاس بلایا جائے اور سیندک ، ریکوڈک ، آئل اینڈ گیس سمیت گزشتہ بیس سال میں ہونے والے تمام معدنی معاہدوں پر ایوان میں بحث کرکے صوبے کی نیچرل ریسورس پالیسی بنائی جائے ۔
اجلاس میں جے یوآئی کے میر زابد علی ریکی نے توجہ دلاؤ نوٹس دیتے ہوئے وزیر مواصلات و تعمیرا ت سے استفسار کیا کہ کیا یہ درست ہے کہ بی اینڈ آر آفس واشک کا ریکارڈ گزشتہ پندرہ سالوں سے غائب ہے اگر اس کا جواب اثبات میں ہے تو حکومت مذکورہ ریکارڈ کی بحالی کے لئے کیاا قدامات اٹھانے کا ارادہ رکھتی ہے ۔
زابد ریکی نے کہا کہ پندرہ سال قبل ایک ایس ڈی او کو ایکسیئن کا چارج دیاگیا تھا اس دوران وہاں پر ریکارڈ کرپشن ہوئی جو نئے ایکسیئن گئے انہیں کوئی ریکارڈ بھی نہیں دیا گیا علاقے کا دورہ کرنے والی وزیراعلیٰ انسپکشن ٹیم کو بھی واپس بلا لیا گیا ۔
سپیکر نے کہا کہ چونکہ متعلقہ وزیر ایوان میں موجود نہیں لہٰذا اسے آئندہ اجلاس کے لئے موخر کرتے ہیں تاہم صوبائی وزیر نوابزادہ طارق مگسی نے کہا کہ اگر معزز رکن کے پاس کرپشن کے ثبوت ہیں تو وہ دیں ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی ہوگی جس پر سپیکر نے متعلقہ رکن کو ریکارڈ صوبائی حکومت کو دینے کی ہدایت کی ۔ اجلاس میں بلوچستان نیشنل پارٹی کے ثناء بلوچ نے اپنا توجہ دلاؤ نوٹس پیش کرتے ہوئے وزیر صنعت و حرفت سے دریافت کیا کہ کیا یہ درست ہے کہ حکومت صنعتی شہر حب میں مختلف صنعتوں میں کام کرنے والے ملازمین کو مستقل کرنے کا ارادہ رکھتی ہے ۔
اگر اس کا جواب اثبات میں ہے تو حکومت نے اس بارے میں اب تک کیا اقدامات اٹھائے ہیں نیز ان صنعتوں میں ملازمین کو دی جانے والی مراعات اور ان کی فلاح و بہبود کے لئے حکومت کی جانب سے اٹھائے جانے والے اقدامات کی تفصیل دی جائے۔
صوبائی وزیر نوابزادہ طارق مگسی نے کہا کہ چونکہ متعلقہ وزیر ایوان میں موجود نہیں لہٰذا توجہ دلاؤ نوٹس کو موخر کیا جائے جس پر سپیکر نے توجہ دلاؤ نوٹس آئندہ اجلاس کے لئے موخر کرنے کی رولنگ دی ۔ اجلاس میں پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے نصراللہ زیرئے نے اپنی تحریک التواء پیش کرتے ہوئے کہا کہ 21جنوری کو حب کے مقام پر مسافر کوچ اور ٹرک میں تصادم کے افسوسناک واقعے میں 25افراد جھلس کر ہلاک ہوگئے ۔
اس سے قبل بھی تیز رفتاری کے باعث صوبے کی مختلف شاہراہوں پر ہونے والے حادثات میں سینکڑوں انسانی جانیں ضائع ہوچکی ہیں مگراب تک متعلقہ حکام کی جانب سے ایسے واقعات کا نوٹس تک نہیں لیا گیا لہٰذا ایوان کی کارروائی روک کر اس اہم مسئلے کو زیر بحث لایا جائے صوبائی وزیر سردار صالح بھوتانی نے کہا کہ یہ واقعہ حب میں نہیں بلکہ بیلہ کراس پر پیش آیا ہے تحریک التواء میں اسے درست کیا جائے ۔
بعدازاں سپیکر نے ایوان کی رائے سے تحریک التواء پر 30جنوری کو بحث کرانے کی رولنگ دی ۔دریں اثناء بلوچستان اسمبلی کے اجلاس میں گزشتہ دور حکومت میں صوبائی وزراء کے نام الاٹ سرکاری رہائش گاہوں کی مرمت و تزئین وآرائش پر خرچ خطیر رقم کی تحقیقات اور کوئٹہ میں مختلف قبائل کی اراضی کے مسئلہ پر کمیٹیاں قائم ایوان میں محرکین حکومتی رکن کے جوابات سے مطمئن نہ ہونے پر ضمنی سوالات اٹھاتے رہے ۔
گزشتہ روز اسپیکر بلوچستان اسمبلی میر عبدالقدوس بزنجو کی زیر صدارت ہونے والے بلوچستان اسمبلی کے اجلاس میں وقفہ سوالات کے دوران پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے نصراللہ زیرئے ، بلوچستان نیشنل پارٹی کے ملک نصیر شاہوانی ،ثناء بلوچ ، اختر حسین لانگو اور جے یوآئی کے سید فضل آغا کے پوچھے گئے ۔
سوالات کا جواب دیتے ہوئے دنیش کمار نے ایوان کو یقین دہانی کرائی کہ وزیراعلیٰ میر جام کمال کی قیادت میں موجودہ مخلوط صوبائی حکومت مسائل کے حل اور شفافیت کو یقینی بنانے کے لئے اقدامات اٹھائے جارہے ہیں ۔ وقفہ سوالات میں اظہار خیال کرتے ہوئے بلوچستان نیشنل پارٹی کے ثناء بلوچ نے محکمہ ملازمتہائے عمومی نظم و نسق سے متعلق پوچھے گئے ۔
سوال کے جواب کا تسلی بخش جواب نہ ملنے پر تشویش کااظہار کرتے ہوئے کہا کہ میرا پوچھا گیا سوال ایک بار پہلے بھی ایوان میں آیا اور موخر کیا گیا آج بھی اس سوال کے جواب میں محض اتنا بتایا گیا ہے کہ جواب نفی میں تصور کیا جائے حالانکہ میرا سوال یہ تھا کہ حکومت کے پاس اب تک بے روزگار ڈاکٹرز، انجینئرز ، ایگریکلچرسٹ اور دیگر پروفیشنل ڈگری ہولڈرز کی جانب سے کتنی درخواستیں آئیں او رکتنے لوگ بے روزگار ہیں ۔
بلوچستا اور دیگر صوبوں میں بے روزگاری کی شرح کی تفصیل مانگی گئی تھی جس کے جواب میں بتایا گیا ہے کہ جواب نفی میں تصور کیا جائے انہوں نے کہا کہ نفی میں تصور کیا جائے سے کیا مراد ہے آیاحکومت یہ کہتی ہے کہ صوبے میں کوئی بھی بے روزگار نہیں ہے انہوں نے کہا کہ بلوچستان کا اہم مسئلہ شفافیت ہے جو گاڑی اور بنگلے سے لے کر قدرتی وسائل کے ٹینڈرز تک ہر جگہ موجود ہے شفافیت کو یقینی بنانے کے لئے اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے۔
انہوں نے کہا کہ کسی بھی حکومت کے پاس یہ تفصیلات ہونی چاہئیں کہ صوبے میں بے روزگار نوجوان کتنے ہیں ، صوبے میں کتنے سکول ، کتنے اساتذہ اور کتنے پڑھے لکھے لوگ ہیں یہ سب تفصیلات ہوں گی تو بہتر منصوبہ بندی کی جاسکتی ہے انہوں نے کہا کہ بے روزگاری ہمارے صوبے کا ایک اہم مسئلہ ہے ایوان کی گیلری میں بیٹھے نوے فیصد نوجوان بے روزگار ہیں ۔
انہوں نے کہا کہ حکومت نے تو ہمیں تفصیلات نہیں دیں روان سیشن میں مختلف مسائل پر بحث کے دورا ن ہم حکومت کو تفصیلات دیں گے کہ کیا صورتحال ہے ۔ اس موقع پر جے یوآئی کے سید فضل آغا نے کہا کہ حکومت غیر سنجیدہ طریقے سے ایوان کو چلارہی ہے طریقہ کار درست کیا جائے اس موقع پر سپیکر نے پارلیمانی سیکرٹری دنیش کمار کو ہدایت کی کہ وہ متعلقہ محکموں کو کہہ دیں کہ ایوان کی کارروائی کو سنجیدگی سے لیا جائے ۔
قبل ازیں محکمہ ایس اینڈ جی اے ڈی سے متعلق پوچھے گئے سوال کے جواب میں بی این پی کے اختر حسین لانگو نے اس بات پر شدید احتجاج کیا کہ انہوں نے گزشتہ دور حکومت میں صوبائی وزراء کے نام پر الاٹ سرکاری بنگلوں کی ۔
تفصیلات اور ان بنگلوں کی تذئین و آرائش پر ہونے والے اخراجات کی تفصیل مانگی تھی جو ٹھیک طریقے سے مہیا نہیں کی گئیں انہوں نے کہا کہ ایسے بھی بنگلے ہیں جن پر ایک سال میں پچاس لاکھ اور نوے لاکھ روپے سے زائد کی خطیر رقومات صرف الیکٹرک انسٹالیشن اور جنرل ری پیئر نگ کے نام پر لگائے گئے حالانکہ اس رقم سے خودایک نیا بنگلہ بنایاجاسکتا ہے ۔
انہوں نے کہا کہ محکمے کا جواب محض جان چھڑانے والا جواب ہے جس سے ہم مطمئن نہیں ۔ انہوں نے ایوان میں بار بار ایک بنگلے54اے کا تذکرہ کیا تو صوبائی وزیر سلیم کھوسہ نے ایوان میں اٹھ کر کہا کہ یہ بنگلہ میرے پاس ہے مجھ سے پہلے یہ نصیب اللہ مری اور ان سے قبل نور محمد دمڑ کو الاٹ ہوا مگر انہوں نے اسے کھنڈراٹ قرار دے کر خالی کیا ۔
انہوں نے کہا کہ میں نے اب24لاکھ روپے بنگلے کے لئے منظور کرائے ہیں اور اپنی جیب سے بھی رقم خرچ کی ہے تب جا کر یہ رہنے کے قابل ہوا ہے انہوں نے کہا کہ ہم اتفاق کرتے ہیں کہ اس کی تحقیقات کرائی جائیں کہ گزشتہ پانچ سالوں کے دوران اتنے خطیر رقوم کس مد میں خرچ ہوتے رہے ۔
اپوزیشن اراکین نے اس معاملے کی تحقیقات کے لئے کمیٹی کے قیام کا مطالبہ کیا جس پر دنیش کمار کا کہنا تھا کہ بنگلوں کی تذئین وآرائش سے متعلق محکمہ سی اینڈ ڈبلیو ، ایس اینڈ جی اے اور فنانس کی منظوری سے فنڈز مختص کئے جاتے ہیں ۔
جس کا اپنا طریقہ کار ہے معاملے کی تحقیقات کے لئے وزیراعلیٰ میرجام کمال سے بات کروں گا تاکہ اگر کوئی بے ضابطگی ہوئی ہے تو اس کی تحقیقات کرائی جاسکیں بی این پی کے اختر حسین لانگو نے کہا کہ حکومت نے اگر تحقیقات کرنی ہوتیں تو اب تک کرچکی ہوتی اب یہ معاملہ ایوان میں آگیا ہے اور تفصیلات ایوان کی پراپرٹی ہیں ۔
اس پر کمیٹی قائم کی جائے حکومتی اراکین بھی کمیٹی کے قیام پر متفق ہیں جس کے بعد سپیکر نے اس حوالے سے کمیٹی کے قیام اور معاملے کی تحقیقات کی ہدایت کی ۔ سابق وزیراعلیٰ میر جان محمد جمالی نے کہا کہ آج کا اجلاس سنجیدہ معاملات کو زیر بحث لانے کے لئے اپوزیشن کی ریکوزیشن پر بلایا گیا ہے لگتا ہے کہ حکومت کی جانب سے دنیش کمار کو تمام محکموں کی ذمہ داریاں سونپی گئی ہیں ۔
انہوں نے حج و اوقاف سے لے کر ایس اینڈ جی اے ڈی تک تمام محکموں سے متعلق پوچھے گئے سوالوں کے جواب دیئے جوابات کابینہ اراکین کو دینے چاہئے تھے انہوں نے کہا کہ چھ ماہ اپوزیشن نے صبرو تحمل سے کام لیا ہے اور اس دوران ہم اراکین نے بھی کوئی سوال نہیں اٹھایاکابینہ کو اپوزیشن اراکین کے سوالوں کے جواب دینے چاہئیں اب وہ وقت نہیں کہ جوکوئی کسی کو معاف کرے گا۔
انہوں نے ایوان میں ایک کہانی سناتے ہوئے کہا کہ ایک کشتی میں بہت سے افراد سوار تھے جب کشتی بھنور میں پھنسی تو سب نے ایک شخص کو اتارنے پر مجبور کیا کہ تم اترو لگتا ہے کہ حکومتی اراکین نے دنیش کمارکو کشتی سے اترنے پر مجبور کیا ہے۔بعدازاں وقفہ سوالات نمٹادیا گیا ۔
اجلاس میں سابق وزیراعلیٰ بلوچستان و رکن صوبائی اسمبلی نواب محمداسلم رئیسانی نے ایوان کی توجہ ڈپٹی کمشنر کی جانب سے زمینداروں کو بے دخلی کے حکمنامے کی جانب مبذول کراتے ہوئے کہا کہ دو دن قبل ڈپٹی کمشنر کوئٹہ کی جانب سے زمینداروں کو نوٹسز جاری کئے گئے ہیں کہ وہ سرکاری زمینوں پر آباد ہیں ۔
اس لئے وہ یہاں سے نقل مکانی کرلیں انہوں نے ایوان سے استدعا کی کہ اس مسئلے کو خوش اسلوبی سے حل کیا جائے اور اس حوالے سے ایوان ایک کمیٹی تشکیل دے جو ڈپٹی کمشنر اور متعلقہ محکمے سے بات چیت کرے ۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ جب تک مسئلہ حل نہیں ہوتے ڈپٹی کمشنر کی جانب سے جاری حکمنامے کو منسوخ کیا جائے ۔ بلوچستان نیشنل پارٹی کے پارلیمانی لیڈر ملک نصیر شاہوانی نے بھی نواب اسلم رئیسانی کے موقف کی تائید کرتے ہوئے کہا کہ مغربی بائی پاس پر لوگ گزشتہ80سالوں سے آباد ہیں اور وہاں ان کے باغات و ٹیوب ویل قائم ہیں پرانے کاریزات بھی موجود ہیں ۔
ایریا کمرشل ہونے کی وجہ سے اب وہاں دکانیں بھی قائم ہوچکی ہیں بلا پیمودہ زمینیں زمینداروں کی ملکیت ہیں اگر حکومت کے پاس کوئی فرد یا ثبوت موجود ہے تو وہ ملکیت کا دعویٰ کرسکتی ہے انہوں نے کہا کہ 1992ء میں بھی اس مسئلے پر ایوان میں ایک کمیٹی قائم کی گئی تھی جس کے ممبران میں نواب اسلم رئیسانی اور ملک سکندر ایڈووکیٹ شامل تھے ۔
انہوں نے زمینداروں کے حق میں سفارشات ایوان میں جمع کرائی تھیں انہوں نے کہا کہ میر تاج محمد جمالی کی وزارت اعلیٰ کے دور میں کچھ اراضی محکموں کو الاٹ کی گئی تھی جسے عدالت عالیہ نے منسوخ کیا ۔
انہوں نے کہا کہ زمینی تنازعات پر کوئٹہ شہر میں مختلف ادوار میں ہلاکتیں بھی ہوئی ہیں خدشہ ہے کہ اب کوئی ایسا دلخراش واقعہ رونما نہ ہو سینکڑوں سالوں سے آباد لوگوں کو بے دخل کرنا قابل مذمت ہے انہوں نے کہا کہ ایوان میں کوئی تگڑا وزیر نظر نہیںآ رہا جو ہمیں مطمئن کرسکے لہٰذا میری استدعا ہے کہ اس مسئلے پر ایوان کی کمیٹی قائم کی جائے ۔
پشتونخوا میپ کے نصراللہ زیرئے نے بھی نواب اسلم رئیسانی اور ملک نصیر شاہوانی کے موقف کی تائید کرتے ہوئے کہا کہ اسٹیٹ لینڈ نام کی کوئی چیز موجود نہیں ہے مشرقی بائی پاس سبی روڈ پر مقامی آبادی کے گھروں کو بلڈوز کیا گیا ہے ۔
حکومت کی جانب سے مقامی قبائل کو ان کی زمینوں سے بے دخل کرنا غیر قانونی اقدام ہے ۔ بی این پی کے احمد نواز بلوچ نے بھی اپوزیشن اراکین کی تائید کرتے ہوئے کہا کہ سبزل روڈ کی توسیع کے منصوبے میں لوگوں کو مارکیٹ ریٹ سے کم معاوضہ ادا کیا جارہا ہے جس کی وجہ سے وہاں کے لوگ سراپا احتجاج ہیں میری ایوان سے استدعا ہے کہ لوگوں کو مارکیٹ ریٹ کے مطابق معاوضے کی ادائیگی یقینی بنائی جائے ۔
جے یوآئی کے سید فضل آغا نے کہا کہ حکومت نے ایوان کو اپوزیشن کے حوالے کیا ہے جس پر ہم ان کے مشکور ہیں بلوچستان ہزاروں سالوں سے قبائل کے زیراثر رہا ہے اور ہماری روایات ہیں کہ پہاڑبھی قبائل کی ملکیت ہیں انہوں نے کہا کہ کسی بھی منصوبے کے لئے بروئے کار لائی جانے والی اراضی سے متعلق قبائل کو اعتماد میں لیا جائے ماضی میں سرہ غوڑگئی کے مقام پر دو کروڑ روپے کی زمین حکومت نے سترہ کروڑ روپے میں خریدی ۔
صوبائی وزیر سردار صالح بھوتانی نے اپوزیشن اراکین کو یقین دہانی کراتے ہوئے کہا کہ اس مسئلے پر وزیراعلیٰ سے بات کروں گا اس پر کوئی مفاہمت نہیں کریں گے ۔ کراچی لاہور اور ملک کے دیگر علاقوں کے مقابلے میں یہاں صورتحال انتہائی مختلف ہے مسئلے کے حل کے لئے اپوزیشن اور حکومت اراکین پر مشتمل کمیٹی تشکیل دی جائے گی اور مقامی قبائل کے حقوق کا ہر صورت دفاع کریں گے ۔
وزیراعلیٰ کی معاون خصوصی بشریٰ رند نے کہا کہ درخشاں ہاؤسنگ سکیم سبی روڈ پر مقامی آبادی کو بے دخل کرنے سے متعلق مجھے اور سیکرٹری کیوڈی اے کو لاعلم رکھا گیا تھا جب میری شنید میں آیا کہ وہاں لوگوں کو بے دخل کیا جارہا ہے تو میں نے فوراً مجسٹریٹ سے رابطہ کرکے کام کرادیا ہے ۔
انہوں نے یقین دہانی کراتے ہوئے کہا کہ مسئلے کے حل تک وہاں کوئی کارروائی نہیں کی جائے گی جس پر سپیکر میر عبدالقدوس بزنجو نے رولنگ دیتے ہوئے کہا کہ مسئلے کے خوش اسلوبی سے حل کے لئے فوری طو رپر کمیٹی قائم کی جائے ۔