|

وقتِ اشاعت :   January 29 – 2019

کوئٹہ: بلوچستان کے ضلع لورالائی میں ڈی آئی جی پولیس کے دفتر پر دہشتگرد حملے میں 8 پولیس اہلکاروں سمیت 9 افراد شہید اور بائیس زخمی ہوگئے۔ زخمیوں میں بھی دس پولیس اہلکار شامل ہیں۔ 

حملے کے وقت دفتر میں ڈی آئی جی اور ایس ایس پی لورالائی سمیت پولیس افسران موجود تھے جو محفوظ رہے۔ دفتر میں موجود آٹھ سو سے زائد امیدوار وں کو بھی بحفاظت نکالا گیا۔ پولیس کے مطابق لورالائی میں کوئٹہ روڈ پر واقع ڈپٹی انسپکٹر جنرل آف پولیس ڑوب ریجن کے آفس کمپلیکس پر منگل کو دوپہر تقریباً بارہ بجکر تیس منٹ پر دو سے تین نامعلوم دہشتگردوں نے اس وقت حملہ کردیا جب وہاں پولیس کے جونیئر کلرک اور درجہ چہارم کے ملازمین کی بھرتی کیلئے امیدواروں کے تحریری ٹیسٹ ہورہے تھے۔

وزیرداخلہ بلوچستان میر ضیاء لانگو کے مطابق حملے کے وقت ڈی آئی جی کمپلیکس میں آٹھ سو سے زائد امیدوار موجود تھے۔ حملہ آوروں کا ہدف ڈی آئی جی پولیس کا دفتر اور ان کی رہائشگاہ کے علاوہ امیدوار بھی تھے۔ پولیس حکام نے بتایا کہ حملہ آوروں نے پہلے گیٹ پر تعینات پولیس اہلکاروں پر یکے بعد دیگرے متعدد دستی بم پھینکے اور اس کے بعد اندھا دھند فائرنگ کرتے ہوئے اندر داخل ہوئے۔ 

پولیس حکام کے مطابق فائرنگ اور دھماکوں کے بعد دفتر کے اندر اور باہر بڑی تعداد میں جمع امیدواروں میں بھگدڑ مچ گئی۔ دفتر کی حفاظت پر مامور پولیس اہلکاروں نے جوابی کارروائی کی اور امیدواروں کو محفوظ مقام پر منتقل ہونے میں مدد کی۔ عینی شاہدین کے مطابق فائرنگ اور دھماکوں کی آواز سن کر بیشتر امیدواروں نے عقبی راستے سے دیواریں پھلانگ کر اپنی جانیں بچائیں۔ دیواریں پھلانگتے ہوئے کئی امیدواروں کو چوٹ بھی لگی۔

حملے کی اطلاع ملتے ہی پولیس کی اضافی نفری، ایف سی اور لیویز اہلکار بھی موقع پر پہنچ گئے۔ انہوں نے دفتر کو گھیرے میں لیا اوردہشتگردوں کے خلاف جوابی کارروائی کی۔ڈی آئی جی کمپلیکس لورالائی شہر سے تقریباً پانچ کلومیٹر باہر واقع ہے۔ پولیس حکام کے مطابق حملے کے وقت ڈی آئی جی ڑوب نثار احمد ، ایس ایس پی لورالائی برکت حسین کھوسہ سمیت پندرہ سے زائد پولیس افسران بھی عمارت میں موجود تھے۔

حملہ آوروں میں سے ایک نے ابتداء میں ڈی آئی جی کے دفتر کی طرف جانے کی کوشش کی۔ انہوں نے دفتر کی جانب کئی دستی بم پھینکے جس سے دفتر کو نقصان پہنچا۔ فرنیچر اور دیگر سامان میں آگ بھی لگ گئی۔ دفتر کی حفاظت پر تعینات اہلکاروں نے مؤثر جوابی کارروائی کی جس پر حملہ آور نے اپنی جسم سے بندھی ہوئی خودکش جیکٹ کے ذریعے دفتر کے باہر کھڑی ڈی آئی جی کی گاڑی کے قریب خود کو دھماکے سے اڑایا۔ 

دھماکے سے قریبی عمارتوں اور گاڑیوں کو نقصان پہنچا۔دہشتگردوں نے ڈی آئی جی ، اے آئی جی اور ایس ایس پی کی رہائشگاہوں میں داخل ہونے کی کوشش بھی کی۔ڈی آئی جی ، اے آئی جی ، ایس ایس پی کی رہائشگاہیں اور سیشن کورٹ کی عمارتیں بھی اس کے بالکل قریب واقع ہیں۔ 

سیکورٹی اہلکاروں نے قریبی عمارتوں اور پورے علاقے کو گھیرے میں لیکر آمدروفت پر کڑی نظر رکھی۔ اس دوران ڈی آئی جی آفس کے اندر موجود دہشتگردوں اور سیکورٹی اہلکاروں کے درمیان مسلسل فائرنگ کا تبادلہ جاری رہا۔ آپریشن میں شریک ایک اہلکار نے بتایا کہ عمارت کے اندر سے یکے بعد دیگرے چھوٹے بڑے کئی دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔ 

بعد ازاں پاک فوج کے کمانڈوز بھی موقع پر پہنچے اور آپریشن میں حصہ لیا۔ دہشتگردوں اور فورسز کے درمیان چارگھنٹے سے زائد مقابلہ جاری رہا۔ اس دوران امدادی ٹیموں کو زخمیوں کو ہسپتال منتقل کرنے میں بھی مشکلات کا سامنا کرناپڑا۔پولیس کا کہنا ہے کہ فائرنگ کے تبادلے کے دوران تین میں سے دو حملہ آوروں نے خود کو دھماکے سے اڑایا اور ایک فورسز کی فائرنگ سے مارا گیااور اس کی جیکٹ بھی پھٹ گئی۔ 

شام پانچ بجے کے بعد ڈی آئی جی آفس اور ملحقہ عمارتوں کو کلیئر قرار دے دیا گیا۔ کلیئرنس آپریشن میں پولیس اور سول ڈیفنس کے بم ڈسپوزل اسکواڈ نے بھی حصہ لیا۔سول ڈیفنس لورالائی کے ڈپٹی ڈائریکٹر تاج محمد نے بتایا کہ سوئپنگ کے دوران دو دستی بم بھی زندہ حالت میں ملے جنہیں دھماکہ کرکے ناکارہ کیاگیا۔

یہ دستی بم دہشتگردوں کی جانب سے پھینکے گئے تھے تاہم پھٹ نہ سکے تھے۔ ڈی آئی جی کے گھر کے ساتھ ایک مشتبہ پیک بھی ملا جسے واٹر کینن کے ذریعے نشانہ بناکر چیک کیا گیا تو معلوم ہوا کہ یہ ایک ہاکس آئی ای ڈی تھی۔ ہاکس آئی ای ڈی میں بارودی مواد یا پھٹنے لائق کچھ نہیں ہوتا دہشتگردی دھوکہ دینے کیلئے بم کی شکل دے کر اسے خوف و ہراس پھیلانے کیلئے رکھتے ہیں۔دھماکے کے زخمیوں کو سول ہسپتال لورالائی منتقل کیا گیا جہاں ایمرجنسی نافذ کی گئی۔ 

ہسپتال میں ڈاکٹرز ، عملے اور سہولیات کی کمی کی وجہ سے مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ سول ہسپتال کے ایم ایس ڈاکٹر فہیم کاکڑ کا کہنا ہے کہ ہسپتال میں 9 افراد کی لاشیں لائی گئیں جبکہ بائیس افراد کو زخمی حالت میں لایا گیا۔ زخمیوں کو جسم کے مختلف حصوں میں دھماکے سے جھلسنے ، چھرے اور گولیاں لگنے سے زخم آئے ہیں۔ بیشتر زخمیوں کی حالت خطرے سے باہر ہیں۔ 

دس کے قریب شدید زخمیوں کو نشتر ہسپتال ملتان، سی ایم ایچ لورالائی ،سول ہسپتال کوئٹہ اور سی ایم ایچ کوئٹہ منتقل کیا گیا۔ زخمیوں کی کوئٹہ منتقلی کیلئے پاک فوج کے ہیلی کاپٹرز کی مدد لی گئی۔ وزیرداخلہ بلوچستان ضیاء لانگو نے ٹیلیفون پر گفتگو کرتے ہوئے تصدیق کی کہ حملے میں 9 افراد شہید ہوئے جن میں پولیس کے 3 اہلکار، پانچ درجہ چہار م کے پولیس ملازمین اور ایک سویلین شامل ہے۔فائرنگ اور دھماکوں سے دس پولیس اہلکاروں سمیت بائیس افراد زخمی بھی ہوئے۔ 

زخمیوں میں بیشتر کی حالت خطرے سے باہر ہے۔صوبائی وزیر داخلہ ضیاء لانگو کا کہنا تھا کہ پولیس اور قانون نافذ کرنیوالے اداروں کے اہلکاروں نے بہادری سے دہشتگردوں کے خلاف جوابی کارروائی کی۔ دہشتگردوں کا مقصد ڈی اعلیٰ پولیس افسران اور دفتر میں موجود آٹھ سو سے زائد امیدوارون کو نشانہ بنایا تھا تاہم فورسز نے بروقت کارروائی کے ذریعے ان کے عزائم کو ناکام بنایا۔ اگر دہشتگرد کامیا ب ہوتے تو بھاری نقصان ہوسکتا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ دہشتگردی کے اس واقعہ میں افغانستان سے آنیوالیدہشتگرد ملوث ہیں۔افغانستان سے لورالائی تک آنا کوئی مشکل کام نہیں تاہم سرحد پر باڑ مکمل ہونے کے بعد دہشتگردی کو قابو کرنے میں مدد ملے گی۔ وزیرداخلہ کا کہنا تھا کہ افغانستان میں بھارت نے خودکش حملہ آوروں کی فیکٹری بنائی ہوئی ہے جو پاکستان آکر بے گناہ افراد کو نشانہ بناتے ہیں تاہم فورسز انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر اس طرز کے کئی بڑے واقعات ہونے سے پہلے ناکام بنادیتی ہیں۔

پولیس حکام کے مطابق شہید ہونیوالوں میں تین ریگولر پولیس کے اہلکار تھے جن کی شناخت اے ٹی ایف حوالدار صادق علی ولد در محمد، بلوچستان کانسٹیبلری کے حوالدار غلام محمد ناصر ولد غلام رسول ، ڈسٹرکٹ پولیس لورالائی کے حوالدار جاوید اقبال ولد غلام رسول کے نام سے ہوئی۔ 

شہداء میں پولیس کے درجہ چہارم کے پانچ ملازمین تھے جن میں مالی صلاح الدین ولد عظیم ، مالی خالق داد کدیزئی ولد روزی خان ، دھوبی محمود نواز ولد حق نواز ،خاکروب سلطان مسیح ولد بوٹا مسیح ، باورچی امیر زمان آفریدی ولد گل بہادر شامل ہیں۔ 

صادق علی کا تعلق جعفرآباد سے بتایا جاتا ہے باقی تمام شہداء کا تعلق لورالائی کے مختلف علاقوں سے تھا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ شہید ہونیوالوں میں قلعہ سیف اللہ کا رہائشی نعمت اللہ جلالزئی ولد محمد شکور بھی شامل ہیں جو پولیس ملازمت کا امیدوار تھا اور تحریری ٹیسٹ میں شریک ہونے کیلئے آیا تھا۔

زخمی ہونیوالے پولیس اہلکاروں میں اسپیشل برانچ پولیس سب انسپکٹر رحیم خان، اسپیشل برانچ پولیس کے حوالدار محب جان، پولیس حوالدار انور جان، حوالدار محمد ذیشان، حوالدار محمد اخلاق، سپاہی محمود شاہ، سپاہی دنیا خان، سپاہی اجمل خان ،سپاہی عبداللہ جان اور اسپیشل برانچج پولیس کے سپاہی اجمل خان شامل ہیں۔ باقی سویلین زخمیوں کی شناخت عامر خان، محمد خان، طور خان، محمد رحیم، محمد نواز، احمد علی، عبدالرزاق، محمد حلیم، قادر خان، تیمور خان، مطیع اللہ اور اختر محمد کے نام سے ہوئی۔

یاد رہے کہ لورالائی میں نئے سال کے آغاز سے دہشتگردی کے واقعات میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔اس مہینے دہشتگردی کا یہ چوتھا واقعہ ہے۔ یکم جنوری کو ایف سی ٹریننگ سینٹر لورالائی پر دہشتگرد حملے میں چار سیکورٹی اہلکار شہید اور دو زخمی ہوئیتھے۔ فورسز کی جوابی کارروائی میں چار خودکش حملہ آور بھی مارے گئے تھے۔ 

گیارہ جنوری کو بلوچستان ریذیڈنشل کالج لورالائی کے گیٹ کے قریب ایف سی کی گاڑی پر نامعلوم دہشتگردوں کی فائرنگ سے دو ایف سی اہلکار زخمی ہوگئے تھے۔12 جنوری کو لورالائی امن کونسل کے صدر سماجی کارکن اور ایدھی سینٹر کے مقامی انچارج باز محمد عادل کو نامعلوم دہشتگردوں نے اس وقت گولیاں مار کر شہید کیا جب وہ وہ لوگوں کو دہشتگردی کے خلاف احتجاج کی دعوت دے رہے تھے۔ 

ان واقعات کی ذمہ داری کالعدم دہشتگرد تنظیم تحریک طالبان پاکستان نے قبول کی تھی۔تازہ واقعہ کی ذمہ داری بھی کالعدم ٹی ٹی پی نے قبول کی ہے اور حملہ آوروں کی تعداد دو بتائی ہے۔ کمشنر ڑوب ڈویڑن بشیر بازئی کا کہنا ہے کہ حملہ آوروں کی تعداد دو تھی یا تین ، اس کی تصدیق ہونا ابھی باقی ہے۔ پولیس اور سیکورٹی اداروں کی ٹیموں نے جائے وقوعہ سے فارنزک ٹیسٹ کیلئے نمونے حاصل کرلئے ہیں۔

خودکش حملہ آوروں کے اعضاء کا بھی ڈی این اے اور فارنزک ٹیسٹ کرایا جائیگا۔حملہ آوروں کی شناخت کیلئے نادرا کی بھی مدد لی جائے گی۔ پولیس اور حساس اداروں نے واقعہ کی تحقیقات کا آغاز کردیا ہے۔دوسری جانب انجمن تاجران نے ڈی آئی جی پولیس کے دفتر پر دہشتگرد حملے کے خلاف بدھ کو لورالائی میں شٹر ڈاون ہڑتال کا اعلان کیا ہے۔