|

وقتِ اشاعت :   April 2 – 2019

ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے بعد سیاسی اور عوامی حلقوں کی جانب سے شدید ردعمل دیکھنے کو مل رہا ہے کیونکہ ماضی میں پی ٹی آئی جب اپوزیشن میں تھی تو ایسے اقدامات کی شدید مخالفت کرتی دکھائی دیتی تھی بلکہ بڑے بڑے عوامی اجتماعات منعقد کرتی تھی ۔

پی ٹی آئی کی قیادت نے عوام کو یہ باور کرایا تھا کہ جب وہ اقتدار میں آئے گی تو عوام پر کسی قسم کا کوئی بوجھ نہیں ڈالاجائے گا ہر سطح پر عوام کیلئے آسانیاں پیدا کی جائینگی۔ مہنگائی کا ملک سے خاتمہ کیا جائے گا اور قرض بھی نہیں لیاجائے گا ۔

مگر حالیہ اقدامات سے عوام میں شدید مایوسی پھیل رہی ہے کیونکہ جو وعدے پی ٹی آئی ماضی میں کرتی آئی ہے اب اس کے برعکس سب کچھ ہورہا ہے، سابقہ حکومتو ں کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے ملکی بحرانات اور عوامی مسائل کا ذمہ دار حکمرانوں کی پالیسیوں ،کرپشن اور قرضوں کو قرار دیا جاتا تھا ۔ پی ٹی آئی کی حکومت جب بنی تو عوام میں ایک امید کی کرن پیدا ہوئی کیونکہ گزشتہ دور میں اپوزیشن میں رہنے والی جماعت پاکستان تحریک انصاف نے اپنی سرکار کو تبدیلی سرکار سے منسوب کیاتھا۔ 

بدقسمتی سے ایسی کوئی تبدیلی فی الحال دکھائی نہیں دے ہی جس کاوعدہ کیا گیا تھا۔حکومت کی جانب سے یکم اپریل سے پیٹرول اور ہائی سپیڈ ڈیزل کی قیمتوں میں چھ روپے فی لیٹر جبکہ لائٹ اسپیڈ ڈیزل اور مٹی کی تیل میں فی لیٹر تین روپے اضافہ کیا گیا ہے۔اس اضافے کے بعد پیٹرول کی فی لیٹر قیمت 98 روپے 89 پیسے پر پہنچ گئی ہے۔

اگر آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) کی جانب سے جاری کردہ قیمتوں کے نوٹسز کا جائزہ لیا جائے تو اگست 2018 سے اپریل 2019 تک وفاقی حکومت نے چار مرتبہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ جبکہ تین مرتبہ کمی کی ہے جبکہ ایک ماہ قیمتوں کو برقرار رکھا گیا تھا۔حکومت کی جانب سے قیمتوں میں سب سے زیادہ اضافہ رواں ماہ کے لیے چھ روپے فی لیٹر کیا گیا ہے جبکہ سب سے زیادہ کمی جنوری میں پانچ روپے کی گئی تھی۔فروری 2019 سے اب تک حکومت نے پیٹرول کی فی لیٹر قیمت میں تقریباً آٹھ روپے کا اضافہ کیا ہے۔

حکومت نے اگست 2018 میں اقتدار سنبھالا تھا اس وقت پیٹرول کی فی لیٹر قیمت 95 روپے 24 پیسے تھی جبکہ آج اس کی قیمت 98 روپے 89 پیسے ہے یعنی اتار چڑھاؤ کے بعد اگست کے مقابلے میں یہ اضافہ ساڑھے تین روپے فی لیٹر کے لگ بھگ ہے۔اسی عرصے میں اگر عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں کا جائزہ لیا جائے تو اگست 2018 میں عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 74.21 ڈالر فی بیرل تھی جبکہ آج یہ چھ ڈالر کی کمی کے بعد 67.82 ڈالر فی بیرل ہے۔

تاہم اگست میں امریکی ڈالر کے مقابلے پاکستانی روپے کی قدر 123 روپے تھی جبکہ آج امریکی ڈالر 141 روپے کا ہو چکا ہے۔صارفین کو آج تقریباً 99 روپے فی لیٹر ملنے والا تیل حکومت کو عالمی منڈی سے تقریباً 58 روپے میں ملتا ہے تو پھر باقی 41 روپے کہاں جاتے ہیں۔

ظاہر ہے یہ روپے حکومت مختلف ٹیکسوں اور ڈیوٹی کی مد میں صارفین سے حاصل کرتی ہے۔اب سوال یہ ہے کہ کیا حکومت کی پیٹرولیم مصنوعات میں اضافہ آئی ایم ایف کے شرائط کو پہلے سے قبول کرنا تو نہیں کیونکہ یہ سوالات سیاسی اور معاشی ماہرین کی جانب سے بھی اٹھائے جارہے ہیں ۔ 

پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے بعد دوسری اشیاء کا مہنگا ہونا لازم ہے گوکہ عوام مزید مہنگائی کی چکی میں پس جائے گی ۔ موجودہ صورتحال سے یہ بات تو واضح ہوجاتی ہے کہ ہمارے یہاں کسی بھی شعبہ کے ماہرین کو ترجیح نہیں دی جاتی بلکہ سیاسی بنیادوں پرعہدوں کی تقسیم کو اہمیت دی جاتی ہے جس کے باعث ملک میں بہترین معاشی پالیسی نہیں بن پاتی ۔

پاکستان میں وہ تمام وسائل موجود ہیں جن پر سرمایہ کاری کرتے ہوئے معاشی اہداف حاصل کئے جاسکتے ہیں جبکہ برآمدات میں اضافہ کیلئے عالمی سطح پر رسائی کیلئے تمام چینلز استعمال میں لائے جاسکتے ہیں مگر یہ تب ہی ممکن ہوگا جب اقرباء پروری اور سیاسی پسند وناپسند جیسے فیصلوں سے ہٹ کر آزاد سیاسی ومعاشی پالیسیاں بنائی جائینگی ۔ وگرنہ آگے چل کر ملک میں مزید بحرانات سراٹھائینگے جن پر قابوپانا مشکل ہوجائے گا۔