|

وقتِ اشاعت :   April 25 – 2019

کوئٹہ: بلوچستان میں سالانہ1ہزارافراد میں سے اوسطاً 4اعشاریہ5فیصدافرادملیریا سے متاثرہورہے ہیں ملک بھر میں سالانہ مریضوں کی تعداد 16لاکھ ہے۔بلوچستان میں رواں برس ملیریا سے متاثرہ افرادکے 5 ہزار کیسز رپورٹ ہوئے ہیں 2018ء میں یہ شرح 55 ہزار جبکہ 2017ء میں 70 ہزار تھی۔

ملیریا سے متاثرہ مریضوں کی شرح سرکاری مراکزصحت کے اعدادوشمارپرمبنی ہے اس میں بڑے ہسپتالوں،بڑے نجی یونٹوں کی شماریاتی رپورٹس شامل نہیں اس کے علاوہ ملیریا سے ہونے والی اموات کی شرح بھی ان اعدادوشمارمیں شامل نہیں ہے۔

صوبائی درالحکومت کوئٹہ، قلات اور زیارت کے علاوہ بلوچستان کے اضلاع مکران،نصیرآباد،بارکھان،کوہلو،موسیٰ خیل،ڑوب،قلعہ سیف اللہ اورضلع شیرانی ہائی رسک پرہیں۔ ملیریا کنٹرول پروگرام کے ڈائریکٹرڈاکٹرخالدقمبرانی،ڈاکٹرمحمدحیات رونجھو کے مطابق ملیریا ایک خاص پیراسائٹ پلازموڈیم سے پیداہوتی ہے جس کی 5اقسام ہیں یہ وائرس ایک بیمار انسان سے صحت مندانسان کے جسم میں مادہ مچھر پہنچاتی ہے۔

یہ مچھر عموماًصاف پانی کی سطح پر انڈے دے کر اپنی نسل کوبڑھاتے ہیں یہ مچھر عموماًشام سے صبح سحرتک کاٹتے ہیں اسی لیے بلوچستان میں خاص طورپرملیریا کا تدارک بروقت علاج اورملیریا سے بچا? کے تمام اقدامات بشمول مچھروں کے انسداداورمرض کی بروقت تشخیص اورموثراندازمیں علاج کرانا لازم ہے۔

ان کے مطابق ملیریا کنٹرول پروگرام نے 32 اضلاع میں 4ہزار2سو35ملیریا مائیکرواسکوپی اورفوری تشخیص ٹیسٹ سینٹرزاورملیریا ریفرنس لیبارٹریز قائم کی ہیں۔ان کے مطابق بلوچستان میں ملیریا کی تشخیص،علاج اوراس سے بچاؤ پرکافی توجہ درکار ہے،ملیریا سے حاملہ خواتین میں قبل ازوقت اورکم وزن بچوں کی پیدائش اوربیماری کی وجہ کام سے غیرحاضری سے مسائل جنم لیتے ہیں جوآگے بڑھ کرزندگی اور انسانی صلاحیتوں کو براہ راست متاثر کرتے ہیں جس سے معاشی حالات خراب،غربت اورافلاس میں اضافہ ہوتا ہے۔

ان کے مطابق ملیریا کنٹرول پروگرام نے، ”ملیریا کاخاتمہ شروعات اپنے آپ سے“ہے کے سلوگن سے امسال اپنے شراکت داروں کیساتھ ملکر ہدف طے کیا ہے کہ وہ تمام ممالک جن میں ملیریا موجودہے انہیں ملیریا پردرکار توجہ اورکام کرنے پر آمادہ کیاجائے۔