|

وقتِ اشاعت :   May 1 – 2019

کوئٹہ: بلوچستان اسمبلی کے اجلاس میں ایسٹر کے موقع پر اقلیتی برادری میں تقسیم ہونے والی امدادی رقوم کو اپوزیشن نے سیاسی رشوت قرار دیتے ہوئے ایوان میں شدید احتجاج کیا جبکہ حکومتی اراکین نے موقف اختیار کیا کہ جن لوگوں میں رقم تقسیم ہوئی، ان کے نام پادری حضرات نے دیئے تھے الزامات لگانا اچھی روایت نہیں اپوزیشن الزامات ثابت کرے۔

منگل کے روز پینل آف چیئرمین قادر علی نائل کی زیر صدارت ہونے والے بلوچستان اسمبلی کے اجلاس میں ملک سکندر ایڈووکیٹ نے کہا کہ کرسمس کے موقع پر اپوزیشن رکن ٹائٹس جانسن نے وزیراعلیٰ سے درخواست کی تھی کہ اقلیتی برادری سے تعلق رکھنے والے غریب اور نادار افراد میں امدادی رقم تقسیم کی جائے جس پر وزیراعلیٰ نے ان سے ناموں کی فہرست طلب کی تھی معزز رکن نے 551لوگوں کے ناموں پرمشتمل فہرست بھی بنا کر دے دی تھی۔

لیکن انہیں رقم فراہم کرنے کی بجائے ایسٹر کے موقع پر ایک حکومتی رکن دنیش کمار کو 25لاکھ روپے دے کر یہ رقم اپنے لوگوں میں تقسیم کی گئی جو اس بات کی عکاسی ہے کہ حکومت اپوزیشن کو دیوار سے لگانا چاہتی ہے انہوں نے کہا کہ جن لوگوں میں ایسٹر کے موقع پر امدادی رقم تقسیم کی گئی ان کی تفصیل ایوان میں لائی جائے۔ حکومتی رکن دنیش کمار نے کہا کہ ایسٹر کے موقع پر جن افراد میں امدادی رقم تقسیم کی گئی ہے۔

ان کے ناموں کی فہرست ہم نے نہیں دی بلکہ وزیراعلیٰ کے واضح احکامات تھے کہ مستحق لوگوں کے نام پادریوں کے توسط سے بھیجے جائیں جن لوگوں میں رقم تقسیم ہوئی ان کا تعلق مسیحی برادری سے ہے اور ان کے نام پادری حضرات نے دیئے تھے رقم اقلیتی برادری کے علاوہ کسی کو نہیں دی گئی نہ ہی ہم نے کسی سے کمیشن لیا ہے، اپوزیشن الزامات ثابت کرے میں اپنی جیب سے رقم کی ادائیگی کرنے کو تیار ہوں جس پر پشتونخوا میپ کے نصراللہ زیرئے نے کہا کہ عوامی خزانے کے پیسے سیاسی رشوت کے طور پر دیئے گئے ہیں۔

دنیش کمار اتنے سرمایہ دار ہیں تو وہ اپنی جیب سے رقم ادا کرتے۔ چیئر مین پبلک اکاؤنٹس کمیٹی اختر حسین لانگو نے کہا کہ دنیش کمار نے خود اعتراف کیا کہ کمیشن کس نے لیا اور چوری کس نے کی ہے ان کے اعترافی بیان کے بعد ہم مزید کچھ نہیں کہتے گزشتہ نو مہینوں کے دوران حکومت نے غریبوں کے حقوق پر ڈاکہ ڈالا ہے جنہیں ہم اس ایوان میں زیر بحث لاتے رہے ہیں۔

عبدالخالق ہزارہ نے کہا کہ دنیش کمار نے یہ رقم اپنے کسی رشتے دار کو نہیں دی بلکہ انہوں نے یہ رقم مسیحی برادری کے مستحقین میں تقسیم کی ہے الزامات لگانا اچھی روایت نہیں۔ ٹائٹس جانسن نے کہا کہ شاید جب میں نے فہرست وزیراعلیٰ کے حوالے کی تو انہوں نے میرا نام پڑھے بغیر اس لئے منظوری دی کہ ان کے خیال میں میرا تعلق با پ پارٹی سے ہے میں چار مہینوں تک ڈی سی آفس اور وزیراعلیٰ سیکرٹریٹ کے چکر لگاتا رہا تا۔

ہم مذکورہ رقم کرسمس کی بجائے ایسٹر کے موقع پر سیاسی بنیادوں پر تقسیم کی گئی انہوں نے کہا کہ جن لوگوں میں رقم تقسیم کی گئی اگر ان کا تعلق کرسچیئن برادری سے تھا تو پھر مجھے ان کے نمائندے کی حیثیت سے اس تقریب میں کیوں مدعو نہیں کیا گیا۔بی این پی کے ملک نصیر شاہوانی نے کہا کہ قائد ایوا ن جرات کا مظاہرہ کرکے ٹائٹس جانسن کو ایسٹر کے موقع پر مدعو کرکے انہیں ایسٹر کی مبارکباد دیتے مگرحکومت نے انہیں بائی پاس کرکے رقم سے سیاسی رشوت کے طو رپر اپنے دوستوں کو نوازا ہے۔

آیا اپوزیشن رکن کی دی گئی فہرست میں ایک بھی ایسا مستحق نہیں تھا جس کو یہ امدادی رقم ملتی۔انہوں نے کہا کہ کوئٹہ میں عیسائی برادری کے گھروں،فلیٹوں اور قبرستانوں پر قبضے کئے جارہے ہیں اس سے متعلق کمیٹی قائم کرکے فہرست سامنے لائی جائے کہ رقم کن لوگوں میں تقسیم ہوئی ہے۔