|

وقتِ اشاعت :   May 4 – 2019

کوئٹہ:  بلوچستان اسمبلی کے اجلاس میں معذور افراد کیلئے ماہانہ دس ہزار روپے وظیفہ مقرر کرنے کی قرار داد منظورکرلی گئی، ایجنڈے میں شامل تاپی گیس منصوبے سے صوبے کے اضلاع کو گیس کی فراہمی،بے روز گار ویٹرنری گریجویٹس،لیویز ملازمین کو ریگولر کرنے سے متعلق قرار دادیں اوروحدت کالونی میں گھروں کو مسمار کرنے سے متعلق تحریک التوا ء پر بحث اور قائمہ کمیٹیوں کی رپورٹس ایوان میں پیش نہیں کی جاسکیں۔

جمعہ کے روز ڈ پٹی اسپیکر بلوچستان اسمبلی سردار بابر موسیٰ خیل کی زیر صدارت ہونے والے بلوچستان اسمبلی کے اجلاس میں بلوچستان نیشنل پارٹی کے ثناء بلوچ نے اپنی قرار داد پیش کرتے ہوئے کہا کہ پوری دنیا میں معذوروں کی فلاح و بہبود کے لئے اہم اقدامات کئے جاتے ہیں لیکن وسائل سے مالا مال بلوچستان افراد کے حوالے سے محض رسمی پالیسی کے علاوہ کوئی سنجیدہ اقدامات نہیں کئے گئے ہیں۔

لہٰذایہ ایوان صوبائی حکومت سے سفارش کرتا ہے کہ وہ بلوچستان کے تمام معذور افراد کو ماہانہ وظیفہ دس ہزار روپے، ویل چیئر، تعلیم و تربیت اور کاروبار کے خصوصی مواقع فراہم کرکے ان کو معاشرے میں برابری کا مقام دلایا جائے۔

قرار داد کی موزونیت پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں 1لاکھ45ہزار کے قریب لوگ معذور ہیں جبکہ رجسٹرڈ معذوروں کی تعداد15ہزار ہے انہوں نے کہا کہ معذوروں کی رجسٹریشن میں سب سے بڑی وجہ پیچیدہ طریقہ اندراج ہے جس کی وجہ سے اب تک 33اضلاع میں سے صرف 6اضلاع میں معذوروں کی رجسٹریشن ہوئی ہے انہوں نے کہا کہ حکومت معذوروں کے لئے ماہانہ 10ہزار روپے وظیفہ مقرر کرے انہوں نے ایوان سے استدعا کی کہ قرار داد کو منظور کیا جائے۔

صوبائی وزیر سردار عبدالرحمان کھیتران نے کہا کہ حکومت نے اقلیت اور معذور افراد کے لئے مختص ملازمتوں کے کوٹے پر عملدرآمد کو یقینی بنایا ہے موجودہ حکومت صوبے کی تاریخ میں پہلی حکومت ہے جس نے معذوروں کا اسٹیٹس تبدیل کرکے معذوروں کو باقاعدہ طو رپر سپیشل لوگ قرار دیا۔

انہوں نے کہا کہ بلوچستان نیشنل پارٹی وفاقی حکومت کی اتحادی ہے لہٰذا وہ وفاق میں اس معاملے کو اٹھائے ہم ان کا ساتھ دیں گے انہوں نے قرار داد کی حمایت کی جس کے بعد قرارداد متفقہ طو رپر منظور کرلی گئی۔ اجلاس جاری تھا کہ ڈپٹی اسپیکر نے کہا کہ تین گھنٹے سے زائد وقت سے اجلاس جاری ہے۔

انہوں نے گورنر کا حکم نامہ پڑھنا شروع کیا تو اپوزیشن اراکین کی جانب سے احتجاج کیا گیا تاہم ڈپٹی اسپیکر نے گورنر بلوچستان کا حکم نامہ پڑھ کر سنایا اور اجلاس غیر معینہ مدت تک کے لئے ملتوی کردیا۔

اجلاس ملتوی ہونے کی وجہ سے ایجنڈے میں شامل تاپی گیس منصوبے سے صوبے کے اضلاع کو گیس کی فراہمی،بے روز گار ویٹرنری گریجویٹس،لیویز ملازمین کو ریگولر کرنے سے متعلق قرار دادیں،وحدت کالونی میں گھروں کو مسمار کرنے سے متعلق تحریک التوا ء اور قائمہ کمیٹیوں کی رپورٹیں پیش نہیں کی جا سکیں قبل ازیں۔

اجلاس میں چیئر مین پی اے سی و دیگر اپوزیشن اراکین کی جانب سے مشترکہ تحریک التواء لاتے ہوئے کہا گیا کہ نیا پاکستان ہاؤسنگ منصوبے کے تحت وحدت کالونی میں 420مکانات مسمار کرکے وہاں فلیٹس تعمیر کئے جارہے ہیں جس کی وجہ سے طویل عرصے سے مقیم سرکاری ملازمین میں تشویش پائی جاتی ہے اور وہ اس معاملے پر سراپا احتجاج ہیں۔

لہٰذا ایوان کی کارروائی روک کرکے اس اہم مسئلے کو زیر بحث لایا جائے اراکین کی مشاورت سے ڈپٹی سپیکر نے تحریک التواء کو باضابطہ قرار دیتے ہوئے اس پر اجلاس کے آخر میں بحث کرانے کی رولنگ دی۔