کئی سابق فوجی افسران اور ریپبلکن ممبران پارلیمنٹ نے اس فیصلے پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے ’دہشت گرد‘ تنظیموں کا حوصلہ بلند ہوگا اور ان کی سوچ ہوگی کہ امریکی فوجیوں کو یرغمال بنا کر وہ اپنے ساتھیوں کو رہا کروا سکتے ہیں۔
اوباما انتظامیہ کے فیصلے پر اس لیے بھی تنقید ہو رہی ہے کیونکہ جس امریکی فوجی کو رہا کروایا گیا ہے وہ فوج سے ناخوش تھا اور 2009 میں اپنی مرضی سے فوجی اڈے سے باہر نکل گیا تھا۔ اس کے کچھ ہی گھنٹوں بعد طالبان نے اسے یرغمال بنا لیا تھا۔
کئی امریکی فوجی اسے مفرور کہہ رہے ہیں اور فوج کے قانون کے تحت کارروائی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
امریکی فوج کے سپریم افسر جنرل مارٹن ڈیپسی کا کہنا ہے کہ ایک امریکی فوجی کو رہا کروانے کا یہ ایک طرح سے آخری اور سب سے بہتر موقع تھا۔
انہوں نے کہا کہ سارجنٹ برگڈیل سے بات چیت کے بعد ہی پتہ چلے گا کہ وہ کن حالات میں پکڑے گئے۔
ان کا کہنا تھا، ’اگر انہوں نے کچھ غلط کیا تھا تو فوج اس کی نظر انداز نہیں کرے گی لیکن کسی دوسرے امریکی کی طرح ہی وہ اس وقت تک بے گناہ ہیں جب تک یہ جرم ثابت نہیں ہو جائے۔‘
’گوانتانامو کے قیدی دوبارہ شدت پسندی کی جانب مائل‘
![]()
وقتِ اشاعت : June 4 – 2014
کئی سابق فوجی افسران اور ریپبلکن ممبران پارلیمنٹ نے اس فیصلے پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے ’دہشت گرد‘ تنظیموں کا حوصلہ بلند ہوگا اور ان کی سوچ ہوگی کہ امریکی فوجیوں کو یرغمال بنا کر وہ اپنے ساتھیوں کو رہا کروا سکتے ہیں۔
اوباما انتظامیہ کے فیصلے پر اس لیے بھی تنقید ہو رہی ہے کیونکہ جس امریکی فوجی کو رہا کروایا گیا ہے وہ فوج سے ناخوش تھا اور 2009 میں اپنی مرضی سے فوجی اڈے سے باہر نکل گیا تھا۔ اس کے کچھ ہی گھنٹوں بعد طالبان نے اسے یرغمال بنا لیا تھا۔
کئی امریکی فوجی اسے مفرور کہہ رہے ہیں اور فوج کے قانون کے تحت کارروائی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
امریکی فوج کے سپریم افسر جنرل مارٹن ڈیپسی کا کہنا ہے کہ ایک امریکی فوجی کو رہا کروانے کا یہ ایک طرح سے آخری اور سب سے بہتر موقع تھا۔
انہوں نے کہا کہ سارجنٹ برگڈیل سے بات چیت کے بعد ہی پتہ چلے گا کہ وہ کن حالات میں پکڑے گئے۔
ان کا کہنا تھا، ’اگر انہوں نے کچھ غلط کیا تھا تو فوج اس کی نظر انداز نہیں کرے گی لیکن کسی دوسرے امریکی کی طرح ہی وہ اس وقت تک بے گناہ ہیں جب تک یہ جرم ثابت نہیں ہو جائے۔‘