|

وقتِ اشاعت :   October 31 – 2020

کوئٹہ: نیشنل پارٹی کے سربراہ و سابق وزیر اعلی بلوچستان ڈاکٹر مالک بلوچ نے کہا ہے کہ بلوچستان کی شعوری قومی جدوجہد میں بی ایس او کا اولین کردار رہاہے۔بی ایس او کے فکر سے آراستہ قیادت نے بلوچستان کے ساتھ ناانصافی ظلم و جبر کے خلاف طویل جدوجہد و قربانیاں دی۔جنرل مشرف کی منفی و حاکمانہ پالیسیوں کے بدولت بلوچستان آگ وخون میں منتقل ہوگیا۔

بلوچستان کے مسلے کا واحد حل نیشنل پارٹی کے دور حکومت میں شروع ہونے والے سیاسی مذاکرات ہے۔جن کا دوبارہ آغاز کرنا ضروری ہے۔نیشنل پارٹی سیاسی جمہوری انداز میں جدوجہد کررہی ہے۔وطن سرزمین بلوچ قوم کی شناخت ثقافت اور قدیم تہذیب کی بنیادہے۔اسکا دفاع و بقا قومی فریضہ ہے۔بی ایس او کی سیاسی فکری تربیت ہی قومی تحریک کی ضامن رہی ہے۔بی ایس او پجار کے نومنتخب عہدیداران کا قومی فرض بنتا ہے کہ وہ تنظیم کو شعوری و فکری بنیاد پر منظم کریں۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روز بی ایس او پجار کے نومنتخب عہدیداران کا اعزاز میں عصرانے سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

اس موقع پر نیشنل پارٹی کے مرکزی سیکرٹری جنرل جان محمد بلیدی صوبائی صدر میر عبدالخالق بلوچ بی ایس او پجار کے نو منتخب چیرمین زبیر بلوچ نومنتخب سیکرٹری جنرل نادر بلوچ نیشنل پارٹی کے صوبائی ترجمان علی احمد لانگو نے بھی خطاب کیا۔عصرانے میں بی ایس او پجار کے نومنتخب عہدیداران سمیت نیشنل پارٹی کے مرکزی صوبائی اور ضلعی رہنماوں نے شرکت کی۔نیشنل پارٹی کے رہنماں نے کامیاب کونسل سیشن کے انعقاد اور عہدیداران کی میرٹ پر انتخاب پر بی ایس او پجار کو مبارکباد دی۔

اور امید ظاہر کی کہ چیرمین کی قیادت میں بی ایس او پجار طلبا کی علمی و فکری بنیادوں پر تربیت کرتے ہوئے بی ایس او کی تنظیم کو جدید انداز میں استوار کرتے ہوئے بلوچ قوم کو ترقی پسندانہ قیادت فراہم کرنے میں کردار ادا کرے گا۔نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر ڈاکٹر مالک بلوچ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حقیقی جمہوریت کے قیام ہی آئین و قانون کی بالادستی کو ممکن بنا سکتی ہے۔

اور آئین و قانون ہی عوام کے حقوق کو تحفظ فراہم کرتا ہے۔اس لیے اس وقت ملک کی تمام جمہوریت پسند جماعتیں جمہوری عمل و جمہور کی حکمرانی کی جدوجہد میں ایک صف میں کھڑے ہے۔۔انہوں نے کہا کہ پے درپے آمریت نے ملک کو سنگین قسم کے بحرانوں میں دھکیل دیا۔امریت نے ملک کے چھوٹے صوبوں کو محرومیوں کا شکار کردیا۔بلوچستان میں جنرل مشرف کے دور میں ظلم و جبر کی تاریخ رقم ہوئی۔

سیاسی کارکنوں کو لاپتہ کردیا۔نیشنل پارٹی نے اس ناانصافی کے خلاف بھرپور جدوجہد کی۔انہوں نے اب غیر جمہوری حکمران بلوچستان میں نئے طریقے سے عمل پیرا ہے۔اور وہ عمل سیاسی عمل کو سبوتاژ کرتے ہوئے غیر سیاسی عناصر کو مسلط کررہے ہیں۔جس کا نتائج وہ جزائر پر قبضہ کرنے کی وفاقی آرڈیننس کی صورت میں موجود ہے۔بی ایس او کی تنظیم بلوچ نوجوان میں موجود سیاسی بیگانگی و لاتعلقی کو ختم کرنے میں اپنے صلاحیتوں کو بروئے کار لاکر ان کے ساتھ جڑے رہے۔

نیشنل پارٹی کے مرکزی سیکرٹری جنرل جان محمد و صوبائی صدر میر عبدالخالق بلوچ نے کہا کہ بی ایس او کی فکری و نظریاتی شعور سے آراہستہ نوجوان ہی بلوچ قومی تحریک کی قیادت کرسکتے ہیں۔بی ایس او پجار کے طلبا کی علمی ادبی و سیاسی صلاحیتیں دوسروں نمایاں ہونا چاہیے۔تاکہ طلبا بی ایس او پجار کو ادارے کی بنیاد پر لیتے ہوئے ان میں شامل ہوجائے۔

انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں جاری آگ وخون کو امن کے طرف لانے کیلیے نیشنل پارٹی کے قائد ڈاکٹر مالک بلوچ کے دور حکومت میں شروع کیے گئے سیاسی مذاکرات کے عمل کا دوبارہ آغاز کیا جانا چاہیے۔کیونکہ تعمیر و ترقی منزلیں ناانصافی جبر منفی پالیسیوں اور ناروا سلوک و اقدامات سے حاصل نہیں کیے جاسکتے اس کے لیے امن انصاف قومی برابری اور مثبت رویوں اور پالیسیوں کی تشکیل و راہ ہموار کیا جاتا ہے