کوئٹہ: دارالعلوم دیوبندکے اکابرین نے جن شعبوں کی بنیاد رکھی تھی وہ ترقی کی منازل طے کر کے منزل مقصود تک پہنچنے کے آخری مراحل میں ہیں دعوت تبلیغ سیاست تصوف جھاد فی سبیل اللہ اور تعلیم و تعلم کے شعبہ جات کامیابی کی منازل طے کر تے ہوئے امت مسلمہ کو اغیارکے فتنوں سے بچانے کے لیے سرگرم عمل ہیں جن کو امت کی تائید حاصل ہے اس میں کوئی شک نہیں موجودہ دور میں قائدملت اسلامیہ مولانا فضل الرحمان شیخ الھند کے قافلے کئی۔
حقیقی جانشین کا کردار ادا کررہے ہیں جس کی قیادت میں پوری قوم کو نا اہلوں اور ملک فروشوں سے نجات دلاکر دم لیں گے اسباب کے ساتھ ساتھ رجوع الی اللہ ہی میں کامیابی کا راز مضمر ہے ان خیالات کا اظہار محمدی مسجد سٹلائٹ ٹاؤن میں علماء و فضلاء اور استقبالیہ کی تقریب سے خطاب کے دوران جمعیت علماء اسلام بلوچستان کے امیر رکن قومی اسمبلی مولانا عبدالواسع پیر طریقت مولانا ڈاکٹر عبدالسلام اقراء روضتہ الاطفال ٹرسٹ کل پاکستان کے چیئرمین مفتی خالد محمود ضلعی امیر شیخ الحدیث حضرت مولانا عبدالرحمن رفیق ودیگر نے کیا۔
انہوں نے کہاکہ آج اگر جنوبی ایشیا میں اسلام کا نام زندہ ہے، دینی تعلیم و ثقافت کی اقدار و روایات کا تسلسل قائم ہے اور عام مسلمان کا اپنے دین اور تہذیب کے ساتھ رشتہ بدستور موجود ہے تو یہ اللہ تعالیٰ کی مہربانی اور کرم کے ساتھ عالم اسباب میں ان جان نثاروں اور سرفروشوں کی طویل جدوجہد کا ثمر ہے جنہوں نے وقت کے تقاضوں اور مستقبل کے خدشات کو بھانپتے ہوئے ان کی تکمیل کے لیے خود کو وقف کر دیا۔
اور ایثار، قربانی، سادگی اور تدبر و حوصلہ کے ساتھ ایک ایسے تعلیمی اور فکری محاذ کا آغاز کیا جو جنوبی ایشیا کے مسلمانوں کے لیے ناقابل شکست تعلیمی و تہذیبی حصار ثابت ہوا اور جس کے اثرات کا جنوبی ایشیا سے باہر بھی پورے عالم اسلام میں کھلی آنکھوں مشاہدہ کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ حضرت مولانا محمد قاسم نانوتوئی اور ان کے رفقاء اس قافلہ حریت کے وہ عظیم افراد تھے جنہوں نے برصغیر میں برطانوی استعمار کے بڑھتے ہوئے قدموں کو روکنے کے لیے مسلح جدوجہد کے ساتھ سیاسی بصیرت کی روشنی میں میں استعمار کو شکست پر مجبور کرکے برصغیر میں علماء کرام کو احساس برتری کادرس دیا کہ علماء ہی قیادت وسیادت کے اہل ہیں اور بہتر طریقے سے امت کی رہنمائی کرسکتے ہیں۔