کوئٹہ: مسیحان بلوچستان کے زیراہتمام اتوار کو کراچی میں 13سالہ آرزو راجہ مسیح کے اغواء اور جبری شادی کے خلاف کوئٹہ میٹروپولیٹن کارپوریشن کے سبزہ زار سے ایک ریلی نکالی گئی جو مختلف شاہراہوں سے ہوتی ہوئی پریس کلب پہنچ کر مظاہرے کی شکل اختیارکرگئی۔ مظاہرین سے جمعیت علماء اسلام کے رہنما شہزاد کندن،بی اے پی کے مرکزی رہنما و سابق رکن قومی اسمبلی خلیل جارج،سابق رکن صوبائی اسمبلی انتیا عرفان۔
بی این پی کے رکن صوبائی اسمبلی ٹائٹسن جانسن،جعفرجارج،ناصرمسح ایڈووکٹ پاکستان مسلم لیگ کے طارق گل،امبروز جان،فادرشہزاد،پاسٹر ضیاء پال، پاسٹر ولسن فضل،پادری سائمن بشیر اوردیگر نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم مسیحان بلوچستان 13اکتوبر کو ہونے والے دل خراش واقعہ جسمیں کراچی شہر میں مقیم معصوم بچی آرزو راجہ جسے ایک شخص اظہر علی نے اغواء کرلیا اور پھر جب پولیس تک۔
لواحقین کی رسائی ہوئی تو انہیں اس بچی جس کی عمر 13سال تھی اس کی تبدیلی مذہب اوراسلامی نکاح کی کاغذات تھمادیئے گئے اس کی کم عمری کی تصدیق پاکستان نادرا کے ریکارڈ سے حاصل کی جاسکتی ہے جب اس بچی آرزو کو عدالت میں پیش کیا گیاتو تاخیروقت کے باعث بچی جس کے چہرے سے خوف و ہراس ودھمکانے کے اثرات واضح طور پرعیاں تھے اس نے اس خوف کے باعث اپنی والدہ کے آنسووں و آہ وپکار کا لحاظ نہ رکھتے ہوئے۔
اپنی جھوٹی مرضی کااظہارکیا۔انہوں نے کہا کہ ہم اس بربریت،زبردستی تبدیلی مذہب و کم عمری کی شادی کی پرزور الفاظ میں مذ۴ت کرتے ہیں اور حکومت وقت،اداروں،سپریم کورٹ اور ہائیکورٹ سے اپیل کرتے ہیں کہ جلد از جلد آرزو راجہ کو بازیاب کرایا جائے اور مستقبل میں ایسے تمام واقعات کی روک تھام کو یقینی بنایا جائے۔انہوں نے کہا کہ کمسن آرزو راجہ کی بازیابی،اظہر علی کو پاکستان کے قانون کے مطابق سزادی جائے۔
انہوں نے کہا کہ فرانس میں گستاخانہ خاکوں کی اشاعت سے جس طرح پوری امت مسلمہ کی دل آزاری ہوئی ہے اسی طرح اقلیتی برادری کی بھی دل آزاری ہوئی ہے جس کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے ہم فرانس سمیت پوری دنیا سے مطالبہ کرتے ہیں کہ اظہاررائے کی آڑ میں گستاخی کاسلسلہ بند کیا جائے کیونکہ اس قسم کا اقدام کوئی انسان برداشت نہیں کرسکتا۔