![]() |
اجلاس میں پاکستان تحریک انصاف اور پاکستان پیپلز پارٹی نے فوجی عدالتوں کے قیام کی مشروط حمایت کی ۔ پی ٹی آئی کے سربراہ عمران خان کا کہنا تھا کہ فوجی عدالتیں مخصوص مدت کے لیے ہونی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ انسداددہشت گردی کے لیے حکومت کے تمام اقدامات کی حمایت کریں گے۔ دوسری جانب ملٹری کورٹس کے حوالے سے پی پی پی نے بھی اسی موقف کی حمایت کی ہے۔ تحریک انصاف اور پیپلز پارٹی کے بعد پاکستان مسلم لیگ (ق) نے بھی ملٹری کورٹس کے قیام کی حمایت کردی ہے۔ سینیٹر مشاہد حسین نے پارلیمانی رہنماؤں کے اجلاس کے دوران کہا کہ ‘میں اس فیصلے کی مکمل حمایت کرتا ہوں، ماضی میں امریکا میں بھی ایسا ہی فیصلہ کیا گیا تھا’۔ بلوچستان نیشنل پارٹی سے تعلق رکھنے والے سینیٹر حاصل بزنجو نے بھی فوجی عدالتوں کے قیام کے حوالے سے اپنے مکمل تعاون کا یقین دلایا۔ جبکہ پاکستان مسلم لیگ (ضیا) کے سربراہ اعجازالحق نے ملٹری کورٹس کو دہشت گردی کے مسئلے کا حل قرار دیا۔ دوسری جانب عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) نے اس حوالے سے مشاورت کے لیے وقت مانگ لیا ہے۔ اے این پی رہنما غلام بلورکا کہنا تھا کہ ‘ہم پہلے قانون سازی دیکھنا چاہتے ہیں، تاہم دہشت گردوں کا ملک سے خاتمہ کیا جانا چاہیے’۔ واضح رہے کہ متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم)، جماعت اسلامی (جے آئی) اور جمیعت علمائے اسلام (فضل الرحمان گروپ) کی جانب سے فوجی عدالتوں کے قیام پر تحفظات کا اظہار کیا گیا تھا۔
چوہدری نثار کی بریفنگ
وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے اجلاس کو بریفنگ دی جس میں انہوں نے دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے بنائی گئی پالیسی کو پیش کیا جس پر تجاویز مانگی گئیں۔ ان کا کہنا تھا کہ کالعدم جماعتوں کو نئے ناموں سے کام کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، دہشت گردوں کی مالی معاونت کرنے والوں کے خلاف بھی کارروائی ہوگی۔ انہوں نے ذرائع ابلاغ کے حوالے سے بھی کہا کہ میڈیا دہشت گردوں کے بیانات کو بریکنگ نیوز نہ بنائے، ذرائع ابلاغ کو دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ذمہ دارانہ کردار ادا کرنا ہو گا۔ وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے کہا ہے کہ فوج کاؤنٹر ٹیرر ازم سمیت ریپڈ رسپانس فورس کا بھی کام انجام دے رہی ہے۔ چوہدری نثار نے کہا کہ دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے 5ہزار جوانوں کی فورس بنائی جائے گی جس کی تربیت فوج کرے گی ۔ان کا کہنا تھا کہ دہشت گردوں سے نمٹنے کے لیے ریٹائرڈ فوجیوں کی خدمات سے استفادہ کیا جائے گا۔ وزیر داخلہ نے مزید بتایا کہ صرف وفاق اور پنجاب میں فوج کو آرٹیکل 245 کے تحت بلایا گیا، سندھ، خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں فوج کو نہیں بلایا گیا، صوبوں نے ریکوزیشن نہ دی تو فوج واپس بلا لی جائے گی۔
آرمی چیف کی بریفنگ
![]() |

