بھارتی وزیر دفاع کا کہنا ہے کہ بھارت اور چین کے درمیان ہمالیائی سرحد پر تنازع کے خاتمے کے لیے ابھی بھی پیش قدمی ہونا باقی ہے۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا جب دونوں ممالک کے ہزاروں فوجی کو پہاڑی علاقے میں جمادینے والی ٹھنڈ کا سامنا ہے۔
وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ کا کہنا تھا کہ سفارتی اور فوجی مذاکرات کے متعدد ادوار سے کوئی معنی خیز نتیجہ برآمد نہیں ہوا ہے جس کا مقصد کئی دہائیوں سے ایٹمی مسلح ہمسایہ ممالک کے درمیان بدترین سرحدی محاذ آرائی کو کم کرنا تھا۔
انہوں نے کہا کہ دونوں فریقین ابھی بھی سرحدی صورتحال پر پیغامات کا تبادلہ کر رہے ہیں اور فوجی مذاکرات کا ایک اور دور بھی اپنے انجام پر پہنچنے والا ہے۔
واضح رہے کہ بھارت اور چین کی افواج، سفارتی اور سیاسی عہدیداروں کے درمیان متعدد مذاکرات کے ادوار گزر چکے ہیں۔
ان میں گزشتہ ماہ ماسکو میں وزرائے خارجہ اور وزیر دفاع کے درمیان بات چیت شامل ہے۔
اگرچہ مؤقف برقرار ہے تاہم ایسا لگتا ہے کہ بات چیت نے سرحد کے ساتھ ہی صورتحال کو پرسکون کردیا ہے کیونکہ اب ایک ماہ سے کوئی نئی فوجی جارحیت کی اطلاع نہیں ملی ہے۔
10 ستمبر کو دونوں ممالک کے وزرائے خارجہ کے اجلاس کے بعد فوجی سطح کے اس سے قبل مذاکرات میں اس بات پر اتفاق کیا گیا تھا کہ ان کی فوج کو سرحدی تنازع سے دستبردار ہوجانا چاہیے، مناسب فاصلہ برقرار رکھنا چاہیے اور کشیدگی کو کم کرنا چاہیے۔
وزرائے خارجہ نے فوجیوں، توپ خانوں، ٹینکوں اور لڑاکا طیاروں سے دستبرداری کے لیے کوئی ٹائم لائن طے نہیں کی جو مئی میں پہلی مرتبہ کشیدگی کے بعد سے اس خطے میں موجود ہے۔
فوجی ماہرین نے بار بار متنبہ کیا تھا کہ لداخ سے باہر کسی بھی سمت سے غلطی کے تباہ کن نتائج برآمد ہوسکتے ہیں۔
بھارت اور چین، دونوں نے بہت کم معلومات فراہم کیں تاہم دونوں ممالک کے میڈیا نے بڑھتے ہوئے تناؤ کو وسیع کوریج دی ہے جس نے ان کے باہمی تعلقات کو ڈرامائی انداز میں تبدیل کردیا ہے۔
مئی سے شروع ہونے والی کشیدگی جون میں دہائیوں کی مہلک ترین ہوگئی تھی جہاں پتھراؤ اور ہاتھا پائی سے لڑائی میں 20 بھارتی فوجی مارے گئے تھے۔
خیال کیا جاتا ہے کہ چین کو بھی جانی نقصان ہوا ہے تاہم اس نے کوئی تفصیل نہیں بتائی تھی۔
اس جھڑپ کے بعد دونوں ممالک وادی گلوان اور کم از کم دو دیگر مقامات سے جزوی طور پر دستبردار ہوگئے تھے تاہم کم از کم تین دیگر علاقوں میں اب بھی یہ بحران جاری ہے جس میں پینگونگ جھیل کا علاقہ بھی شامل ہے۔
واضح رہے کہ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات اکثر تناؤ کا شکار رہتے ہیں جس کی ایک وجہ ان کی غیر منقسم سرحد ہے۔
دونوں ممالک نے 1962 میں ایک جنگ بھی لڑی تھی جو لداخ تک پھیل گئی تھی اور ایک معاہدے پر اس جنگ کا اختتام ہوا تھا۔
اس معاہدے میں انہوں نے ایک دوسرے کے خلاف سرحدی علاقے میں اسلحہ استعمال نہ کرنے پر اتفاق کیا تھا۔