|

وقتِ اشاعت :   January 5 – 2021

کوئٹہ: وفاقی وزیرداخلہ شیخ رشید احمد نے ہزارہ برادری کے رہنماؤں اور سانحہ مچھ کے شہداء کے ورثاء کو یقین دہانی کروائی ہے کہ سانحہ مچھ میں ملوث افراد کو ہر صورت میں کیفر کردار تک پہنچایا جائیگا حکومت شہداء کو فی کس 25لاکھ روپے دیگی جبکہ سانحہ مچھ پر جوڈیشل کمیٹی بھی بنائی جائیگی تاہم ہزارہ برداری کے رہنماؤں نے ابتدائی طور پر شہداء کی میتوں کی تدفین کرنے سے انکار کرتے ہوئے وزیراعظم کے کوئٹہ آکر خود صورتحال کا جائزہ لینے کا مطالبہ کیا ہے جبکہ حکومت اور مظاہرین کے درمیان مذاکرات کی ناکامی کے بعد حکومتی وفد واپس روانہ ہوگیا۔

پیر کی شب وفاقی وزیرشیخ رشید احمد، ڈپٹی اسپیکر قاسم سوری، صوبائی وزیرداخلہ میر ضیاء اللہ لانگو سمیت دیگر اعلیٰ حکام مغربی بائی پاس پر ہزارہ برادری کے دھرنے میں پہنچے مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے شیخ رشید احمد نے کہا کہ سانحہ مچھ انتہائی افسوسناک واقعہ ہے اس ظلم اور زیادتی پر شرمندہ ہوں وزیراعظم کی خصوصی ہدایت پر انکا پیغام لیکر آیاہوں کہ مچھ واقعہ میں ملوث افراد کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے گا سانحہ مچھ میں ملوث ملزمان سے کسی اور آئینی طریقے سے نمٹا جائیگا دہشتگروں کو کسی بھی صورت نہیں چھوڑیں گے۔

انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت کی جانب سے شہداء کے لئے 10جبکہ صوبائی حکومت کی جانب سے 15لاکھ روپے فی کس دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے انہوں نے کہا کہ مچھ واقعہ پر جوڈیشل کمیٹی بنائی جائیگی ہزارہ برداری کے لوگ عظیم ہیں جو ملک کے لئے قربانی دینے کے ساتھ ساتھ وفاداری بنھاتے ہیں مجھ پر بھی دہشتگروں نے چار بار حملے کئے انہوں نے کہا کہ تفتان روٹ پر سیکورٹی بڑھائی جائیگی مسنگ پرسنز کے معاملے پر بھی وزیراعظم سے با ت کرونگا۔

میں جو بات کر رہا ہوں اس پر خود پہرہ دونگا شہداء کے لواحقین سے درخواست ہے کہ وہ میتوں کی تدفین کر کے رواں ہفتے جب بھی کہیں اسلام آباد میں وزیراعظم سے ملاقات کروانے کے لئے تیارہوں وفاقی وزیرداخلہ کی یقین دہانی سے مظاہرین مطمئن نہ ہوسکے انہوں نے کہا کہ کیا ہی بہتر ہوگا کہ وزیراعظم خود یہاں آئیں اور صورتحال دیکھیں مظاہرین نے دھرنا ختم اور میتوں کی تدفین سے انکار کردیا جس کے بعد حکومتی وفد واپس لوٹ گیا۔