|

وقتِ اشاعت :   January 7 – 2021

امریکی دارالحکومت واشنگٹن ڈی سی میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حامیوں نے امریکی صدارتی انتخابات کے نتائج میں تبدیلی اور منتخب صدر جو بائیڈن کی جگہ ڈونلڈ ٹرمپ کو برقرار رکھنے کی کوشش میں کیپیٹل ہل کی عمارت پر دھاوا بول دیا اور پرتشدد واقعات کے نتیجے میں 4 افراد ہلاک ہو گئے۔

ٹرمپ کے حامیوں کے اس حملے کے دوران کیپیٹل ہل(امریکی ایوان نمائندگان) کی عمارت میں موجود قانون دان اپنی جانیں بچاتے ہوئے ڈیسکوں کے نیچے چھپنے پر مجبور ہو گئے۔

اس دوران فائرنگ کے نتیجے میں کیپیٹل ہل کے اندر ایک خاتون ہلاک ہو گئیں جس کے بعد میئر نے تشدد میں کمی کے لیے شام کے وقت واشنگٹن میں کرفیو نافذ کردیا ہے۔

اس کے علاوہ مظاہرین کی جانب سے سڑکیں اور راستے بند کیے جانے کے سبب طبی امداد نہ ملنے کی وجہ سے مختلف بیماریوں کا شکار تین افراد راستے میں دم توڑ گئے۔

مظاہرین نے ٹرمپ کے اکسانے پر کیپیٹل ہل پر دھاوا بولا جہاں موجودہ امریکی صدر ایک عرصے سے انتخابات کی شفافیت پر سوالات اٹھاتے ہوئے انتخابات میں اپنی جیت کا دعویٰ کررہے ہیں حالانکہ انہیں اس سلسلے میں سپریم کورٹ سمیت تمام اہم فورمز سے ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا۔

ٹرمپ نے مظاہرین کو اکسایا تھا کہ وہ بائیڈن کی بطور صدر کانگریس سے حتمی منظوری کے خلاف احتجاج کریں اور جب کانگریس کی کارروائی یکدم روک دی گئی تو کچھ ریپبلیکن قانون دان انتخابی نتائج کے حوالے سے اپنے اعتراضات کا اظہار کر رہے تھے۔

اس احتجاج اور انتخابی نتائج پر اعتراضات کے نتیجے میں امریکی جمہوریت کو بڑا خطرہ لاحق ہو گیا ہے جہاں ٹرمپ کے چار سالہ دور میں ملک واضح طور پر دو نظریاتی سوچوں میں تقسیم ہو چکا ہے۔

گوکہ 20جنوری کو بائیڈن کو حلف اٹھانے سے روکنے کی کوششیں ناکامی سے دوچار ہوں گی لیکن انتخابی نتائج کو بدلنے کے لیے ٹرمپ کو حاصل ہونے والے حمایت نے امریکی جمہوری اقدار کو بری طرح زک پہنچائی ہے۔

ان پرتشدد واقعات کے باوجود اجلاس رکنے کے کئی گھنٹوں بعد کانگریس نے بائیڈن کی بطور صدر توثیق اور الیکٹورل کالج کی تصدیق کے لیے اجلاس دوبارہ شروع کیا اور کہا کہ چاہے وری رات ہی کیوں نہ لگ جائے لیکن وہ فیصلہ کر کے ہی اٹھیں گے۔

نائب صدر مائیک پینس نے دوبارہ سے سیشن کے آغاز کے موقع پر مظاہرین کو براہ راست مخاطب کرتے ہوئے واشگاف الفاظ میں کہا کہ ‘آپ جیت نہیں سکے’۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے بدھ کی صبح وائٹ ہاؤس کے باہر منعقدہ ریلی میں اپنے حامیوں کو کیپیٹل ہل کی جانب مارچ کے لیے اکسایا۔

انہوں نے بذات خود اپنا اکثر وقت اوول آفس کے نجی ڈائننگ روم میں ٹی وی پر پرتشدد واقعات دیکھتے ہوئے گزارا تاہم جب عملے نے ان سے بہت زیادہ اصرار کیا تو وہ ٹوئٹ کے ذریعے ردعمل دینے پر مجبور ہو گئے۔

انہوں نے ٹوئٹ میں کہا کہ میں کیپیٹل ہل میں موجود تمام لوگوں سے کہتا ہوں کہ وہ پرامن رہیں، تشدد نہ کریں، ہم قانون کے مطابق چلنے والی پارٹی ہیں اور اس کا احترام کرتے ہیں۔

انہوں نے ویڈیو پیغام میں مظاہرین کو پرامن انداز میں گھر جانے کو کہا کہ ساتھ ساتھ یہ بھی باور کرایا کہ وہ مظاہرین کے مقصد کی حمایت کرتے ہیں۔

دو ہفتے بعد صدر کا منصب سنبھالنے کے لیے تیار منتخب صدر جو بائیڈن نے اس معاملے پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ امریکی جمہوریت میں اس طرح کے تشدد کی مثال نہیں ملتی اور ان کے اس بیانیے کی کانگریس میں موجود ریپبلیکنز سمیت تمام قانون دانوں نے حمایت کی۔

سابق امریکی صدر جیارج ڈبلیو بش نے کہا کہ وہ بے یقینی اور مایوسی کے عالم میں یہ مناظر دیکھ رہے ہیں۔

کیپیٹل ہل کی عمارت پر کئی صدیوں سے احتجاج ہوتا آرہا ہے لیکن پرتشدد واقعات شاذونادر ہی رونما ہوئے لیکن بدھ کو یہ دونوں ہی رونما ہوئے اور اس کا مقصد یہ تھا کہ صاف و شفاف انتخابات کے نتائج کو تبدیل کیا جائے۔

تناؤ اسی وقت سے شروع ہو گیا تھا جب بدھ کی صبح قانون دان جمع ہوئے تاکہ وہ الیکٹورل کالج کو آئینی مینڈیٹ دے سکیں جس کے تحت بائیڈن نے ٹرمپ کو 232 کے مقابلے میں 306 ووٹس سے شکست دی۔

سینیٹ میں اکثریت کے حامل ریپبلیکنز کے لیڈر مچ میک کونیل کی التجا کے باوجود 150 سے زائد قانون دانوں نے کچھ انتخابی نتائج پر اعتراضات کا منصوبہ بنایا حالانکہ ان کے پاس الیکشنز میں فراڈ اور بے ضابطگیوں کے ثبوت نہیں تھے۔

اس موقع پر ٹرمپ نے اپنی ٹوئٹ میں مائیک پینس کو تحریک دیتے ہوئے لکھا کہ ریاستیں ووٹ کو درست کرنا چاہتی ہیں جو وہ جانتی ہیں کہ فراڈ اور بے ضابطگیوں پر مبنی ہیں، اضافی بات یہ ہے کہ کرپٹ عمل کو کبھی بھی قانونی منظوری نہیں مل سکتی، مائیک پینس کو صرف یہ کرنا ہے کہ انہیں واپہس ریاستوں کو بھیجنا ہے اور ہم جیت جائیں گے، مائیک یہ کرو، یہ انتہائی جرات دکھانے کا وقت ہے(ٹرمپ کی اس ٹوئٹ کو ٹوئٹر نے متنازع قرار دیا)۔

البتہ پینس نے اپنے صدر کے اس بیانیے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ وہ یکطرفہ طور پر اتھارٹی کا استعمال کرتے ہوئے بائیڈن کو صدر بنانے والے الیکٹورل ووٹ کو مسترد نہیں کر سکتے۔

ریپبلیکن پارٹی کے پہلے اعتراض کے بعد کچھ مطاہرین پولیس سے جھڑپ کے بعد عمارت میں گھسنے میں کامیاب ہو گئے جہاں وہ امریکی جھنڈا ہاتھوں میں ٹرمپ کی حمایت میں نعرے لگارہے تھے۔

کیپیٹل روٹنڈو میں آنسو گیس کے استعمال کے بعد قانون دانوں کو اپنی ڈیسکوںکے نیچے چھپنے اور ماسک پہننے کی ہدایت کی گئی جبکہ اسی دوران کچھ اراکین نے ٹوئٹ کی کہ وہ اپنے دفاتر میں پناہ لیے ہوئے ہیں۔

ریبلیکن رکن اسکاٹ پیٹرز نے رپورٹرز کو بتایا کہ وہ ایوان میں اپنے چیمبر میں تھے کہ اسی دوران مظاہرین اندر گھس آئے، اس موقع پر سیکیورٹی اہلکاروں نے ہمیں فوری طور پر نیچے جھکنے کا کہا اور ہدایت کی کہ ہم اپنی وہ پن نکال لیں جس سے وہ ہماری شناخت کر سکیں اور پھر ہمیں وہاں سے صحیح سلامت نکال لیا گیا۔

جب عملے کو وہاں سے نکالا جا رہا تھا تو ان کے ہاتھوں میں الیکٹورل کالج کے باکس تھے کیونکہ ان اراکین اور عملے کو خدشہ تھا کہ انتخابی نتائج بدلنے پر مصر مظاہرین ممکنہ طور پر انہیں نقصان پہنچائیں گے۔

اس موقع پر مظاہرین نے کیپیٹل ہل کی عمارت کا محاصرہ کر لیا اور اس تمام صورتحال نے ڈیمو کریٹس کے ساتھ ساتھ ریپلیکن اراکین کو بھی شدید برہم کردیا جہاں کچھ ریپبلیکن اراکین نے اس واقعے کے بعد انتخابی نتائج پر اعتراضات کے ارادے کو ترک کردیا ہے۔

قانون دانوں نے مؤقف اپنایا کہ ٹرمپ نے انتخابات میں دھاندلی کے جھوٹے بیانیے سے تشدد کو جنم دیا جبکہ کچھ نے جرائم کے ارتکاب پر ٹرمپ کے خلاف مقدمہ چلانے کا بھی مطالبہ کیا۔

ریپبلیکن قانون دان جمی گومز نے رپورٹرز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اس طرح کے واقعے وک جنم دینے پر ٹرمپ پر غداری کا مقدمہ چلنا چاہیے، اس طرح سے حکومت کا تختہ الٹا جاتا ہے اور اسی طرح سے جمہوریت کی موت ہوتی ہے۔

ٹرمپ اور ان کے بیانیے سے اکثر ٹکرانے والے سینیٹر سیس آر نیب نے تحریری بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ جھوٹ کے نتائج برآمد ہوتے ہیں، یہ تشدد ناگزیر تھا اور صدر کے تقسیم کے بیانیے کا گھناؤنا نتیجہ ہے۔

انتخابات میں فراڈ کے دعوؤں کے باوجود الیکشن حکام اور خود ٹرمپ کے سابق اٹارنی جنرل نے قرار دیا تھا کہ انتخابات میں کسی بھی قسم کی بے ضابطگیاں نہیں ہوئیں اور ریپبلیکنز اور ڈیمو کریٹ عہدیداران نے تمام انتخابی نتائج کی توثیق کرتے ہوئے انہیں درست قرار دیا ہے۔

پینٹاگون کا کہنا ہے کہ پرتشدد واقعات کے بعد ڈسٹرکٹ آف کولمبیا کے نیشنل گارڈز ممبرز کے 1100رکنی دستے کو کیپیٹل ہل پر حالات کنٹرول میں رکھنے کے لیے متحرک کردیا گیا ہے تاکہ وہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی مدد کر سکیں، ایک درجن سے زائد افراد کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔

شام کے سائے بلند اور اندھیرے کے آثار نمایاں ہوتے ہی پولیس نے کارروائی کا آغاز کرتے ہوئے متعدد افراد کو گرفتار اور مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کا استعمال شروع کردیا جس کے ساتھ ہی مظاہرین اور پولیس میں جھڑپوں کا سلسلہ شروع ہو گیا۔

ادھر کیپیٹل ہل میں پرتشدد واقعات کے بعد سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو بلاک کرتے ہوئے قواعد کی دوبارہ خلاف ورزی کی صورت میں مستقل پابندی عائد کرنے کا عندیہ دے دیا ہے۔

ٹوئٹر کے نقش قدم پر چلتے ہوئے فیس بک اور یوٹیوب نے بھی ڈونلڈ ٹرمپ کو ہٹاتے ہوئے دعویٰ کیا کہ صدر اپنے بیاات سے تشدد کو پوا دے رہے ہیں۔