کوئٹہ: پاکستان مسلم لیگ(ن) کے مرکزی رہنماء وسابق صوبائی وزیر شیخ جعفرخان مندوخیل نے وفاقی حکومت کی جانب سے بلوچستان اور فاٹا کے میڈیکل کالجز کی اسکالرشپس کی سیٹوں میں کمی کی مذمت کرتے ہوئے کہاہے کہ یہ فیصلہ بلوچستان کے طلباء وطالبات پر تعلیم کے دروازے بند کرنے کے مترادف ہے جس سے غریب طلباء شعبہ طب میں اعلیٰ تعلیم سے محروم رہیںگے ۔
بلوچستان کے لوگ پہلے ہی خط غربت سے نیچے زندگی گزار رہے ہیں ایسے میں ان پر تعلیمی اداروں کے دوروائے بند کرنا باعث افسوس ہے۔ان خیالات کااظہار انہوں نے اپنے جاری کردہ بیان میں کیا۔ شیخ جعفرخان مندوخیل نے کہاکہ کم ترقی یافتہ علاقہ ہونے کی بناء پر بلوچستان اور قبائلی علاقہ جات فاٹا کو ترقی دینے کی ضرورت ہے لیکن موجودہ نااہل حکمرانوں کی ناقص پالیسیوں کی بدولت پسماندہ علاقوں کے طلباء وطالبات پر تعلیم کے دروازے بند کرنے کی سازشیں کی جارہی ہے۔
ایسے وقت میں جب بلوچستان اور فاٹا کے طلباء اپنے مستقبل کیلئے کچھ کرنے کی کوشش کررہے ہیں وفاقی حکومت کی جانب سے بلوچستان فاٹا کے میڈیکل کالجز کی اسکالرشپس کی 265سیٹوں کو کم کرکے 29کردیاہے وفاقی حکومت کی جانب سے یہ فیصلہ بلوچستان اور قبائلی علاقوں کے غریب طلباء وطالبات پر تعلیم کے حصول کیلئے درواز بند کرنے کے مترادف ہے۔
صوبے کے طلباکی بڑی تعداد میڈیکل سیٹوں کے لیے تیاری کرکے اپنے بہتر مستقبل کے لئے تگ ودو کررہے ہیں مگر وفاقی حکومت اور ایچ ای سی کے مسلسل تعلیم و طلبا دشمن اقدامات سے بلوچستان کے طلبا میڈیکل کی تعلیم سے محروم کیے جارہے ہیں،انہوں نے کہاکہ اگر فوری طورپر فیصلہ واپس نہ لیا گیا تو پاکستان مسلم لیگ(ن) اس مسئلے پر بھرپور احتجاج کریگی۔
نااہل حکمران تعلیم پر توجہ دینے کے دعوے تو کررہی ہے لیکن عوام کو تعلیمی سہولیات فراہم کرنے کی بجائے ان پر تعلیمی دروازے بند کررہی ہے ،حکومت کے تعلیم دشمن فیصلے کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے ۔