نوشکی: وزیر اعلی بلوچستان جام کمال خان نے کہاہے کہ اپوزیشن جماعتیں اپنی منشور چھوڑ ہمارے منشور پر آگئے ہیں اور پی ایس ڈی پی کے لئے لڑ رہے ہیں،عوام روزگار ،سڑک ،بنیادی ضروریات زندگی اور سہولیات کا مطالبہ کرتے ہیں اور ہماری منشور بھی خوشحال و ترقی یافتہ،پسماندگی سے دور بلوچستان چاہتے ہیں،اپوزیشن عوام کے سامنے تقریریں اور نعرے لگاتے ہیں۔
جبکہ ہمارے پاس آفیسران اور اسکیموں کے لئے حاضری لگاتے ہیں ہمیں عوام کے سامنے ایک چہرہ ہونا چائیے اور دوغلا پن چھوڑ دینا چائیے انہوں نے کہاکہ بلوچستان وسیع و عریض مگر معاشی طور پر بہت کمزور ہے بلوچستان میں جتنا کا کریں کم ہے۔بلوچستان تب ترقی کرے گا جب ہر ضلع ترقی کرے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے نوشکی کلی ملوک بادینی میں سابق ایم پی اے حاجی میر غلام دستگیر بادینی کے رہائش گاہ پر اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔
اس سے قبل وزیر اعلی جام کمال عالیانی صوبائی وزیر مواصلات میر عارف محمد حسنی اور اقلیتی رکن اسمبلی دنیش کمار کو جلسہ گاہ پہنچنے پر سابق صوبائی وزیر و بی اے پی رہنماء حاجی میر غلام دستگیر بادینی نے بلوچی دستار پہنایا جبکہ ہندو پنچائیت کے رہنماوں نے مہمانوں کو چادر پہنایا اور خوش آمدید کیا۔اس موقع پر مختلف محکموں کے آفیسران قبائلی عمائدین کی بڑی تعداد جلسہ میں موجود تھی بلوچستان عوامی پارٹی کے جلسہ سے وزیر اعلی بلوچستان جام کمال خان عالیانی نے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ بلوچستان اس وقت ترقی کرے گا۔
جب صوبہ کے تمام اضلاع میں برابری کے بنیاد پر ترقیاتی کام ہونگے ، ڈھائی سال کے دوران 18ہزار لوگوں کو نوکریاں دئیے اور اس تعداد کو 5 سالوں کے دوران 30 ہزار تک لے جا کر دکھائیں گے ، انہوں نے کہاکہ بلوچستان معاشی حوالے سے کمزور صوبہ ہیں، انٹرگرلز کالجز کو ڈگری کا درجہ دیا ہے، اور کررہے ہیں بلوچستان میں بی ایس کا پروگرام لارہے ہیں۔
پولیس کے مزید تھانے بننے کا اعلان کرتا ہوں ،بلوچستان میں میونسپل کمیٹیوں کو کارپوریشن کا درجہ دینگے تاکہ لوگوں کو روزگار کے مواقع ملنے کے ساتھ ساتھ شہروں کی ترقی ہو، انہوں نے کہاکہ پہلے کام ہوتا تھا مگر نگرانی نہیں ہوتا تھا، مگر اب خود اور میری کابینہ ایڈمنسٹریشن نگرانی کررہا ہے ، تاکہ عوام کا پیسہ ضائع نہ ہو، ہمارے پارٹی کا منشور خوشحال بلوچستان، ترقی یافتہ بلوچستان ہے تاکہ بلوچستان پسماندگی سے دور ہو، صوبے میں لوگوں کو تعلیم، روزگار، بجلی ، پانی اور صحت کے سہولیات ہو، جو عوام کی ضرورت ہیں ڈھائی سال کے عرصے میں اپوزیشن اپنے منشور کو چھوڑ کر ہمارے منشور کو اپنائے ہیں ۔
جلسہ عام سے سابق صوبائی وزیر حاجی میر غلام دستگیر بادینی نے نوشکی کے مسائل پرمبنی سپاسنامہ پیش کیا، اور علاقے کے مسائل سے وزیر اعلی بلوچستان کو آگاہ کیا، اسٹیج سیکرٹری فرائض ماسٹر رشید مینگل نے سرانجام دئیے علاؤہ ازیں وزیر اعلی بلوچستان نے نوشکی میں مختلف ترقیاتی اسکیموں کا افتتاح بھی کیا۔دریں اثناء وزیراعلی بلوچستان جام کمال خان نے صوبائی وزراء کے ہمراہ ضلع خاران کا تفصیلی دورہ کیا. خاران پہنچنے پر وزیراعلیٰ کا بلوچستان عوامی پارٹی کے مرکزی سینئر نائب صدر سابق صوبائی وزیر میر شعیب نوشیروانی، میر عبدالکریم نوشیروانی، کمشنر رخشان سعید احمد عمرانی، ڈپٹی کمشنر خاران عبدالسلام خان اچکزئی، ڈی آئی جی رخشان۔
جاوید سلیم جسکانی و دیگر اعلیٰ حکام نے استقبال کیا جبکہ پولیس کے چاق و چوبند دستے نے وزیراعلیٰ کو سلامی پیش کی. وزیراعلی بلوچستان جام کمال خان نے خاران میں گروک اسٹوریج ڈیم کا افتتاح کیا وزیر اعلیٰ نے ڈپٹی کمشنر خاران عبدالسلام خان اچکزئی اور دیگر حکام کے ہمراہ گروک اسٹوریج ڈیم کے جاری کام کا معائنہ بھی کیا اس
موقع پروجیکٹ انجینئر نے ڈیم کے حوالے سے تفصیلی بریفننگ دیا ۔
وزیر اعلیٰ نے خاران سٹی میں وویمن ہاسٹل کا بھی افتتاح کیا وزیر اعلیٰ بلوچستان کو کمشنر رخشان سیکرٹریٹ میں کمشنر رخشان سعید احمد عمرانی و دیگر محکموں کے سیکرٹریز اور افیسران نے بریفننگ دیا دوران متعلقہ محکموں کے سیکرٹریز نے جاری ترقیاتی اسکیموں کے بارے میں بریفنگ دی ، دراثناء وزیراعلیٰ بلوچستان نے خاران نوشیروانی ہاؤس میں بلوچستان عوامی پارٹی کے ورکروں کے اجتماع سے خطاب کیا۔
اس موقع پر اسٹیج پر صوبائی وزیر مواصلات و تعمیرات میر عارف جان محمد حسنی پارلیمانی سیکرٹری دنیش کمار، بلوچستان عوامی پارٹی کے مرکزی سینئر نائب صدر سابق وزیر میر شعیب نوشیروانی اور میر عبدالکریم نوشیروانی ویگر رہنماء موجود تھے اجتماع سے میر عبدالکریم نوشیروانی میر شعیب نوشیروانی، دنیش کمار، میر محمود خان نوشیروانی، میر امجد ملازئی، مولانا محمد قاسم چشتی ودیگر نے خطاب کیا ۔
میر عبدالکریم نوشیروانی اور میر شعیب نوشیروانی نے وزیر اعلیٰ بلوچستان اور صوبائی وزراء کے خاران دورے کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا وزیر اعلیٰ بلوچستان جام کمال خان قائد بلوچستان ہے ان کے آباؤ اجداد نے پاکستان اور بلوچستان کی ترقی و خوشحالی اور استحکام میں نمایاں کردار ادا کیا ہے میر عبدالکریم نوشیروانی نے کہا کہ میری دعوت پر اس سے قبل جام کمال خان کے والد مرحوم جام یوسف اور دادا جان غلام قادر مرحوم خاران کا دورہ کیا ہے۔
انہوں نے اپنے وقت میں خاران میں بڑے پیمانے پر ترقیاتی کام بھی کرایے تھے آج وزیر اعلیٰ جام کمال خان نے خاران کا دورہ کرکے علاقے کے لوگوں کے مسائل ومشکلات کو اپنے آنکھوں سے دیکھا ہے میر عبدالکریم نوشیروانی میر شعیب نوشیروانی نے کہا کہ خاران میں حالیہ زرعی سیزن میں ڈیڈی تل نے مکمل زمینداروں کے زرعی فصلات کو نقصان کیا تھا زمینداروں کو حکومتی سطح پر امداد کی ضرورت ہے۔
خاران میں ہزاروں افراد بے روزگار ہیں تعلیم یافتہ نوجوانوں کو ملازمتوں کی ضرورت ہے خاران کے 30 لیڈی ہیلتھ ورکرز ہیں جو کام کررہے ہیں مگرکہی سالوں سے تنخواہوں سے محروم ہیں ان کی تنخواہوں کا مسلہ حل طلب ہے اسی طرح خاران رخشان ڈویڑن کا ڈویڑنل ہیڈ کوارٹر ہے جسے بطور ہیڈ کوارٹر ڈویڑنل تمام محکموں کے افیسران اور ان کے دفاتر کو فعال ہونا چاہیے خاران کے میونسپل کمیٹی کو میونسپل کارپوریشن کا درجہ دینے کی ضرورت ہے اسی طرح خاران میں تعلیم صحت اب نوشی اسکیموں اور روڈز کے مزید منصوبوں کی ضرورت ہے ۔
اس موقع پر بلوچستان عوامی پارٹی کے مرکزی صدر وزیر اعلیٰ بلوچستان جام کمال خان نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ حکومت یکساں بنیادوں پر تمام اضلاع میں ترقی کے عمل کو تیزی سے جاری رکھا ہوا ہے اور کم ترقی یافتہ علاقوں کی ترقی اور عوام کی خوشحالی ہماری اولین ترجیحات میں شامل ہے۔ موجودہ حکومت عملی بنیادوں پر عوام کی ترقی و خوشحالی چاہتی ہے۔
میں خود وزراء کے ہمراہ بلوچستان کے تمام اضلاع کا دورہ کررہا ہوں اکثر علاقوں میں گئے ہیں اور جو علاقے رہ گئے ہیں وہاں دورہ کررہے ہیں وزیر اعلیٰ بلوچستان نے کہا بد قسمتی سے گزشتہ طویل عرصے سے بلوچستان کے نام پر بعض لوگوں نے قوم پرستی بعض نے دین کے نام پر اپنی سیاست چمکائی ہے یہ لوگ جب اقتدار میں رہتے ہیں تو انھیں بلوچستان کے عوام کے مسائل ومشکلات یاد نہیں آتے ہیں۔
بلکہ اقتدار میں لوگوں کو ترقی و خوشحالی دینے کے بجائے اپنی ترقی و خوشحالی پر توجہ دیتے ہیں جب اقتدار سے باہر ہوتے ہیں یہ لوگ عوام کے اچانک خیرخواہ بنتے ہیں وزیر اعلیٰ بلوچستان نے کہا کہ بلوچستان کے عوام اب باشعور ہیں کے جذباتی نعروں اور چرب زبانی میں نہیں آتے ہیں وزیر اعلیٰ نے کہا میر عبدالکریم نوشیروانی اور میر شعیب نوشیروانی کے گزشتہ 35 سالوں میں خاران کے لئے عوامی خدمات ناقابل فراموش ہیں وہ دن رات علاقے کی ترقی و خوشحالی اور پارٹی کے لئے کام کررہے ہیں وزیر اعلیٰ نے ہم نے اپوزیشن ممبران کے علاقوں میں اور حکومتی ممبران کے علاقوں میں یکساں بنیادوں پر ترقیاتی منصوبوں پر کام کیا ہے۔
ہمارے لئے عوام اور بلوچستان سب برابر ہے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ بلوچستان میں جو میگاء منصوبوں پر ہماری حکومت نے کام شروع کیا ہے ان کی تکمیل سے بلوچستان میں ترقی کا ایک نیا دور شروع ہوگا وزیر اعلیٰ نے میر عبدالکریم نوشیروانی اور میر شعیب نوشیروانی کی جانب سے سپاسنامہ میں پیش کردہ ضلع خاران کے مسائل کو حل کرنے کی یقین دھانی کرائی۔