کوئٹہ: بلوچستان اسمبلی کے ارکان کا ایک بار پھر صوبے میں جاری بجلی کی لوڈشیڈنگ پر احتجاج، حکومتی اور اپوزیشن ارکان کے درمیان تلخ کلامی ایوان مچھلی بازار بن گیا، ڈپٹی اسپیکر کی ارکان کو ایوان سے باہر نکالنے کی تنبیح ، صوبائی وزیر تعلیم سردار یار محمد رند کا وزرات پانی وبجلی کی جانب صوبے کے مسائل پر توجہ نہ دینے پر وفاقی حکومت سے شکوہ ، جمعرات کو بلوچستان اسمبلی کا اجلاس ایک گھنٹہ پانچ منٹ کی تاخیر سے ڈپٹی سپیکر سردار بابرخان موسیٰ خیل کی زیر صدارت شروع ہوا ۔
اجلاس میں بی این پی کے رکن ثناء بلوچ نے گزشتہ روز پنجگور سے کراچی جانے والی مسافر بس کے حادثے میں جاں بحق افراد کے ایصال ثواب کے لئے فاتحہ خوانی کی استدعا کی جس پر ایوان میں فاتحہ خوانی کی گئی ۔ اجلاس میں بلوچستان نیشنل پارٹی کے پارلیمانی لیڈر ملک نصیر شاہوانی نے نکتہ اعتراض پر ایوان کی توجہ بلوچستان میں طویل لوڈشیڈنگ کی جانب مبذول کراتے ہوئے کہا کہ گزشتہ بیس دنوں سے بلوچستان کے اکثر فیڈرز بند کردیئے گئے ہیں جن فیڈرز سے نوے فیصد سے زائد ریکوری ہورہی ہے ان فیڈرز کو بھی بند کردیاگیا ہے۔
صوبے میں پانی کی شدید قلت ہے بجلی نہ ہونے سے زمینداروں اور عام شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے انہوںنے کہا کہ گزشتہ روز کیسکو چیف کے ساتھ ہونے والی ملاقات میں ان کی جانب سے یقین دہانی کرائی گئی تھی تاہم اس پر اب تک عملدرآمد نہیں ہوا اور ہم مسلسل تیسرے اجلاس میں لوڈشیڈنگ کے مسئلے کو زیر بحث لارہے ہیں ۔
انہوںنے کہا کہ گزشتہ روز بلوچستان نیشنل پارٹی کے صوبائی اور قومی اسمبلی کے اراکین اور پارٹی قیادت نے عمر ایوب سے ملاقات کی مگر وہ بلوچستان کو کچھ سمجھتے ہی نہیں انہوںنے کہا کہ آج صوبے میں پینے کا پانی دستیاب نہیں صوبے میں اس سے بڑا اور کوئی مسئلہ نہیں ہوسکتا ہم ہر اجلاس میں گلہ پھاڑ کر حکومت کی توجہ مبذول کراتے ہیں مگر حکومت مسئلے کے حل میں سنجیدہ نہیں یہ ذمہ داری وزیراعلیٰ کی ہے کہ وہ وفاق سے بات کرکے مسئلے کا حل نکالیں ۔انہوںنے کہا کہ اگر مثبت یقین دہانی نہیں کرائی جاتی تو میں مسئلے کے حل تک احتجاجاً اسمبلی کے کسی اجلاس میں شرکت نہیں کروں گا ۔
پاکستان تحریک انصاف کے رکن و پارلیمانی سیکرٹری برائے کیوڈی اے مبین خان خلجی نے کہا کہ صوبے میں بجلی کا بہت بڑا مسئلہ ہے جب میں پارلیمانی سیکرٹری توانائی تھا اس وقت محکمہ انرجی کے ساتھ ہونے والے اجلاس میں یہ بات سامنے آئی تھی کہ بلوچستان کے ایک ایک سکول کو تین سے پانچ لاکھ روپے اور آر ایچ سیز کو دس لاکھ تک کے بل ارسال کئے جاتے ہیں انہوں نے کہا کہ کیسکو اوور بلنگ کرتی ہے۔
کوئٹہ میں دس گھنٹوں تک کی لوڈشیڈنگ کی جاتی ہے انہوںنے ڈپٹی سپیکر سے استدعا کی کہ وہ پارلیمانی کمیٹی تشکیل دیں جو وفاق میں جا کر وزیر توانائی ، سیکرٹری توانائی و دیگر حکام سے ملاقات کرکے مسئلے کو حل کو یقینی بنائے ۔انہوں نے کہا کہ یہ مسئلہ موجودہ دور حکومت کا نہیں یہ مسائل سابق ادوار سے چلے آرہے ہیں ۔ بی اے پی کے رکن اسمبلی و سابق وزیراعلیٰ میر جان محمد جمالی نے کہا کہ میرے حلقے میں بارہ سے تیرہ گھنٹے کی لوڈشیڈنگ ہورہی ہے ۔
بجلی سے پانی منسلک ہے لوگوں کو لوڈشیڈنگ کی وجہ سے پانی نہیں مل رہا جو گندم کاشت کی گئی ہے اس کے لئے سندھ سے پانی فراہم نہیں کیا جارہا پورا نظام لڑکھڑا رہا ہے انہوںنے کہا کہ ہماری کیفیت ایسی ہے کہ سوتیلی ماں کی وہ اولاد ہیں جو قابل قبول نہیں ایسا لگ رہا ہے کہ بلوچستان لاوارث صوبہ ہے وزیراعلیٰ اس مسئلے کے حل کے لئے قدم اٹھائیں اپوزیشن بھی ان کا ساتھ دے گی ۔
پاکستان تحریک انصاف کے پارلیمانی لیڈر وزیر تعلیم سردار یار محمد رند نے کہا کہ بیس سال قبل سنی شوران کے لئے ایک سپیشل فیڈر آیا تھا جس سے کیسکو نے ستر سے سو کے قریب گائوں منسلک کردیئے ہیں سابق وزیراعظم شوکت عزیز سے میں نے نوتال سے شوران کے لئے گیس پائپ لائن منظور کرائی مگر اس منصوبے کو بھی ادھورا چھوڑ دیا گیا ہے انہوںنے کہا کہ رئیسانی صاحب کی حکومت میں ہماری آواز بند کردی گئی ۔
ہمیں اسمبلی میں آنے نہیں دیاگیا ہمارے 9لوگ قتل ہوئے مقدمہ تک درج نہیں ہوا اورہمیں مجبوراًہائیکورٹ تک جانا پڑا اور دوست کہتے ہیں کہ ان کی حکومتوں میں اپوزیشن کے ساتھ اچھا سلوک کیا گیا ۔انہوںنے کہا کہ وزیراعظم عمران خان نے مجھے واٹر ، پاور اینڈ پیٹرولیم کے ایڈوائزرکی ذمہ داری سونپی مگر افسوس کہ آج تک انرجی اور گیس نے مجھ سے نہ تو کوئی بات کی ہے۔
اور نہ ہی کبھی مجھ سے پوچھا گیا ہے کچھ لوگ گیارہ اور سولہ کے پانے ہیں جو ہر حکومت میں فٹ آجاتے ہیں ہماری بھی صورتحال ایسی ہی ہے ۔انہوںنے کہا کہ وزیراعظم نے مجھے کسی مقصد کے لئے واٹر ، پاور اور پٹرولیم کا ایڈوائزر بنایا تھا مگر وفاقی وزیر توانائی عمر ایوب بحیثیت ایڈوائزر ایک دن بھی محکمے سے متعلق میری رائے نہیں لی ۔ میری رائے کے بغیر کیسکو بورڈ کی تشکیل کی گئی ۔
چیئر مین کی تعیناتی عمل میں لائی گئی واپڈا اورکیسکو سفیدہاتھی ہیں انہوںنے کہا کہ عمر ایوب بلوچستان کو پاکستان کا حصہ سمجھتے ہیں اور نہ ہی ہمیں انسان سمجھتے ہیں حتیٰ کہ وہ نہ ہم ملنے اور نہ ہماری بات سننے کو تیار ہیں اللہ تعالیٰ انہیں ہدایت دے کہ وہ ہمیں انسان اور اس ملک کا شہری سمجھیں انہوںنے کہا کہ پہلی بار جب بلوچستان کے منتخب اراکین اسمبلی جن میں سردار فتح محمد ،محمد حسنی اور کچھ پشتون دوست بھی شامل تھے۔
فکس بلنگ کے سلسلے میں متعلقہ حکام سے ملے تھے تو اس وقت میں نے بھی ان کے سامنے ہاتھ جوڑے تھے کہ یہ آگے جا کر ہمارے لئے مسئلہ بنے گا اور ایسا وقت آئے گا کہ صوبے میں بجلی نہیں ہوگی ۔ انہوںنے کہا کہ زمیندار کا موٹر چلے نہ چلے بل ضرور آتا ہے وزیراعظم کو اس حوالے سے مراسلے ارسال کئے ہیں اور مجھے یقین ہے کہ وہ مراسلے وزیراعظم تک پہنچ گئے ہوں گے ۔انہوںنے کہا کہ بلوچستان کے لوگوں کو گرمیوں میں بجلی اور سردیوں میں گیس میسر نہیں صوبے کی گیس سے جو بجلی تیار کی جاتی ہے اگر وہ ہمیں دی جائے تو ہمیں اور بجلی نہیں چاہئے۔
بلوچستان سے گیس دریافت ہونے کے بعد اب تک صوبے سے نکلنے والی گیس کہاں گئی کس نے استعمال کی اور ہمارے حصے میں کیا آیا ؟جو کچھ ہمارے پاس ہے وہ ہمیں دیا جائے انہوںنے کہا کہ بلوچستان کے لوگ سردیوں میں ٹھٹھر رہے ہیں جبکہ میں نے کیٹل فارم کے اصبطل میں جانوروں کے لئے ہیٹر اور کولر لگے ہوئے دیکھے ہیں ۔ہمیں انسان نہیں تو جانوروں جتنی اہمیت ہی دی جائے ۔
انہوںنے کہا کہ میں بحیثیت ایڈوائزر اپنا کردار ادا کرنے کو تیار ہوں لیکن صوبے میں حکومت بی اے پی اور جام کمال خان کی ہے میری تجویز ہے کہ سیاسی جماعتوں کے ایک ایک رکن پر مشتمل کمیٹی تشکیل دی جائے اور کمیٹی میں اکثریت حکمران جماعت کی ہو ہم وزیراعظم سے مل کر انہیں تمام صورتحال سے آگاہ کریں گے اور اگر مجبورہوئے تو پھر اپنا مدعا میڈیا کے سامنے بھی رکھیں گے ۔
بلوچستان نیشنل پارٹی کے ثناء بلوچ نے کہا کہ بلوچستان حکومت کے پاس صوبے کو اندھیروں سے نکالنے کے لئے کوئی پالیسی ہی نہیں ہے میر جان محمد جمالی اور سردار یار محمد رند کی آواز بھی ہمارے ساتھ شامل ہوگئی ہے حکومت کے پاس پالیسی نہیں کہ بجلی بحران کیسے ختم کیا جائے صوبے میں لوگوں کے روزگار اور زراعت کا انحصار بجلی پر ہے پاکستان میں بجلی سرپلس میں موجود ہے مگر بلوچستان کے ساتھ سوتیلا پن اختیار کیاجارہا ہے حکومت میں بیٹھے ہوئے لوگوں کے پاس نہ صلاحیت ہے نہ ہی کوئی پالیسی ہے ہمارے گھر میں بجلی نہیں اور کابینہ کے دس دس گھنٹوں کے اجلاس منعقد ہورہے ہیں ۔
اندھے ، گونگے اور بہروں کی حکومت بنا کر صوبے کے لوگوںکو اندھا ، گونگا اور بہرا سمجھارہا ہے ہم اسلام آباد جا کر بلوچستان کو اندھیروں سے نکالنے کی بات کریں گے ثناء بلوچ کی حکومت پر شدید تنقید کے دوران حکومت اور اپوزیشن اراکین کے مابین تند و تیز جملوں کا تبادلہ بھی ہوا اور ایوان میں کان پڑی آواز سنائی نہ دی اس موقع پر ڈپٹی اسپیکر نے ارکان کو تنبیح کی کہ اگر وہ خاموش نہ ہوئے تو انہیں ایوان سے باہر نکال دیا جائیگا ۔
قائد حزب اختلاف ملک سکندر خان ایڈووکیٹ نے کہا کہ بلوچستان حکومت کو سردار یار محمد رند کے ساتھ مل کر مسئلے کے حل کے لئے وفاق سے رجوع کرنا چاہئے اگر حکومت اعلان کرتی ہے کہ وہ بے بس ہے اور کچھ نہیں کرسکتی تو ہم اپنی آواز اور چیخ و پکار ان کے ساتھ ملائیں گے ۔ صوبائی وزیر مال سلیم کھوسہ نے کہا کہ کیسکو کے ساتھ ہونے والی حالیہ ملاقات میں کیسکو حکام نے یقین دہانی کرائی تھی کہ بقایہ جات کی ادائیگی پر بجلی بحال کردی جائے گی۔
حکومت کیسکو کو پیسے دینے جارہی ہے وزیر خزانہ کراچی میں ہیں سوموار تک وہ واپس آکر کیسکو چیف سے ملاقات کرکے حکومت پیسے ریلیز کردے گی انہوںنے کہا کہ ایک ہفتے دس دن کے اندر ادائیگی کردی جائے گی لوڈشیڈنگ سے عوام کو مشکلات کا سامنا ہے حکومت مسائل کے حل کے لئے کام کررہی ہے ۔ پاکستان نیشنل پارٹی کے سید احسان شاہ نے کہا کہ حکومت اور اپوزیشن کی جانب سے یکساں موقف سامنے آیا ہے۔
سردار یار محمد رند نے جو باتیں کیں وہ صوبے کے عوام کے دل کی آواز ہیں انہوںنے کہا کہ ایک کمیٹی بنائی جائے حکومت او ر اپوزیشن مل کر بجلی ، گیس اور صوبے کے دیگر مسائل کے حل کے لئے ایجنڈا ترتیب دیں اور مشترکہ طو رپر وفاق میں جا کر مسائل کے حل کے لئے کام کریں مجھے یقین ہے کہ مسائل حل ہوں گے انہوںنے ڈپٹی سپیکر کی توجہ ایم پی اے ہاسٹل میں اراکین کے لئے تعمیر ہونے والے لاجز کی تعمیر کی جانب مبذول کراتے ہوئے کہا کہ لاجز کی تعمیر میں معیار کا کوئی خیال نہیں رکھا جارہا جو پی سی ون منظور ہوا ہے۔
اس کے برخلاف کام ہورہا ہے مجھے جو فلیٹ الاٹ ہوا ہے اس کی چھت ابھی سے ٹپک رہی ہے انہوںنے کہا کہ جو پیسے خرچ ہورہے ہیں یہ کسی ایک اسمبلی کے لئے نہیں اس عمارت نے قائم رہنا ہے جوغیر معیاری کام ہورہا ہے اس طرح تو پوری عمارت کو منہدم کرکے دوبارہ تعمیر کرنا پڑے گا ۔ پارلیمانی سیکرٹری اطلاعات بشریٰ رند نے کہا کہ آپس میں لڑنے کی بجائے ہمیں ایک ساتھ وفاق میں جا کر اپنے مسائل کی بات کرنی چاہئے میں نے اراکین اسمبلی کے لئے بلیو پاسپورٹ کی فراہمی سے متعلق جو قرار داد منظور کی ڈھائی سال میں اس پر کوئی پیشرفت نہیں ہوئی ۔
اسی طرح گیس اور بجلی کے مسائل بھی وفاق سے متعلق ہیں جو حل نہیں ہورہے ان کے حل کے لئے ہم سب کو وفاق میں جا کر بات کرنی چاہئے ۔ بعدازاں ڈپٹی سپیکر نے رولنگ دیتے ہوئے کہا کہ تمام صوبائی محکموں کو سختی سے پابند کیا جاتاہے کہ وہ اپنے ذمے واجب الادا کیسکو کے بقایہ جات ادا کریں ۔ انہوںنے کہا کہ اراکین اسمبلی کی مشاورت سے پارلیمانی کمیٹی کا قیام بعد میں عمل میں لایا جائے گا۔
دریں اثناء بلوچستان اسمبلی کے اپوزیشن ارکان نے کہا ہے کہ صوبے کی شاہراہوں کو دو رویہ کئے بغیر آئے روز ہونے والے حادثات کی روک تھام ناممکن ہے کوئٹہ کراچی شاہراہ کو دو رویہ کرنے کا منصوبی وفاقی پی ایس ڈی پی میں شامل کیا جائے جبکہ حکومت رکن مبین خلجی نے کہا کہ کوئٹہ کراچی شاہراہ کو وفاقی حکومت اپنے فنڈ اور پبلک پرائیویٹ پارنٹر شپ کے ذریعے دو رویہ کریگی ، یہ بات انہوں نے رکن صوبائی اسمبلی میر زابد علی ریکی کی جانب سے پیش کی جانے والی تحریک التواء پر بحث میں حصہ لیتے ہوئے کہی، جمعرات بلو چستان اسمبلی کے اجلاس میں جمعیت علماء اسلام کے میر ذابد علی ریکی نے تحریک التواء پیش کرتے ہوئے کہاکہ دو فروری کو پنجگور سے کراچی جانے والی کوچ اوتھل کے مقام پر الٹ گئی ۔
جس کے نتیجے میں پنجگور سے تعلق رکھنے والے 14افراد جاںبحق و زخمی ہوئے کوئٹہ تا کراچی شاہراہ صوبے کی عوام کیلئے اس بھی قتل گاہ بن چکی ہے کہ مذکورہ شاہراہ تاحال دو رویہ نہ ہونے کی بنا پر آئے روز قیمتی جانیں موت کی منہ میں چلی جاتی ہے اور صوبے کے ہر کونے میں صف ماتم بچھی رہتی ہے لہٰذا اسمبلی کی کارروائی روک کر اس اہم اور فوری نوعیت کے حامل عوامی مسئلے کو زیر بحث لایاجائے ۔
ایوان نے تحریک التواء کو بحث کے لئے منظور کیا جس کے بعدبحث کا آغاز کرتے ہوئے زابدعلی ریکی نے کہا کہ کراچی سے لے کر کوئٹہ ، خضدار ، بسیمہ ، پنجگور ، تربت ، گوادر میں بارہ سے تیرہ فٹ کی شاہراہوں پر روز حادثات ہورہے ہیں صوبے کے لوگوں کا گناہ کیا ہے آیا ہمارے صوبے کو موٹرویز کی ضرورت نہیں ہے ، لاہور سے اسلام آباد ، رحیم یارخان ، پشاور تک موٹرویز بنائی گئی ہیں۔
مگر بلوچستان کو لاوارث چھوڑا گیا ہے ہم جب بات کرتے ہیں توحکومتی اراکین جذباتی ہوجاتے ہیں کنٹینر پر کھڑے ہو کر جو وعدے کئے گئے تھے وہ کہاں گئے ۔ سلیکٹڈ حکمرانوں کو جواب دینا پڑے گا انہوںنے کہا کہ 3سال گزر گئے ہیں اب ان کا ضمیر بھی انہیں ملامت کررہا ہے انہوںنے کہا کہ گزشتہ روز اوتھل کے مقام پر حادثے میں جو لوگ شہید ہوئے وہ ہمارے بھائی ہیں۔
اس سے قبل بھی ہونے والے حادثات میں پچاس کے قریب لوگ جھلس کر جاں بحق ہوئے ہمارا سوال یہ ہے کہ ہم کب تک لاشیں اٹھاتے رہیں گے سیندک اور سوئی گیس سے بلوچستان کو ملنے والے شیئرز اگر صوبے پر خرچ کئے جاتے تو آج ہم ترقی میں دبئی سے بھی آگے ہوتے ۔ انہوںنے کہا کہ حکمران اپنی کرسی بچانے کے چکر میں ہیں سردار یار محمد رند کے موقف کی نہ صرف تائید کرتا ہوں بلکہ انہین سیلوٹ کرتا ہوں کہ وہ صوبے کی آواز بنے ۔ انہوں نے کہا کہ ڈھائی سے تین سال کے دوران صوبے میں کوئی ترقی نہیں ہوئی صرف کرپشن میں اضافہ ہوا ہے ۔
پشتونخوا میپ کے نصراللہ زیرئے نے کہا کہ اوتھل کے قریب پیش آنے والے واقعے میں14قیمتی جانیں ضائع ہوئیں اس سے قبل کان مہترزئی میں ہونے والے حادثے میں ایک ہی خاندان کے کئی افراد جھلس کر راکھ ہوگئے انہوں نے کہا کہ کوئٹہ خضدار ، کراچی ، جیک آباد ، لورالائی ڈی جی خان اور ژوب تک شاہراہیں دورویہ نہ ہونے کے باعث ان پر آئے روز حادثات رونما ہورہے ہیں۔
ایک انچ بھی صوبے میں کہیں دورویہ سڑک نہیں ہے انہوں نے کہا کہ موٹروے پولیس اور ریجنل ٹرانسپورٹ اتھارٹی نے کبھی مسافر بسوں کی رفتار ، ان کی حالت اور ڈرائیورز کا لائسنس تک چیک نہیں کیا ۔ انہیں اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے کا پابند کیا جائے انہوں نے کہا کہ کان مہترزئی میں پیش آنے والے حادثے میں جاں بحق افراد کے لواحقین کو آج تک معاوضوں کی ادائیگی نہیں ہوئی بلوچستان حکومت حادثات میں جاں بحق ہونے والے افراد کے لواحقین کو معاوضوں کی ادائیگی یقینی بنائے ۔ جمعیت علماء اسلام کے یونس عزیز زہری نے کہا کہ میرا اپنا بھائی وڈھ کے قریب ٹریفک حادثے میں شہید ہوا ہے۔
ژوب اور کوئٹہ سیکشن کا دو سال قبل افتتاح ہوا تھا اس پر اب تک ایک اینٹ بھی نہیں رکھی گئی انہوں نے کہا کہ کوئٹہ کراچی شاہراہ پر حادثات میں جاں بحق و زخمی ہونے والے افراد کو ریسکیو کے لئے خضدار لایا جاتا ہے ہمیں پتہ ہے کہ ہم انہیں کس طرح ریسکیو کرتے ہیں ہم نے اپنے ذاتی پیسوں سے خضدار میں ٹراما سینٹر تعمیر کرایا مگر کام مکمل ہونے کے باوجود حکومت مشینری طبی آلات فراہم نہیں کررہی ۔ انہوںنے کہا کہ ہمیں کچھ نہیں چاہئے کم از کم شاہراہوں کو دو رویہ کیا جائے انہوں نے کہا کہ سات سو کلو میٹر شاہراہ کے لئے صرف ایک ارب روپے رکھے گئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ کورونا کے دوران اربوں روپے جیبوں میں ڈالے گئے وہ پیسے سڑکوں پر لگادیئے جاتے بھلے ہم کورونا سے مرجاتے ۔جمعیت علماء اسلام کے اصغر علی ترین نے تحریک التواء پر بات کرتے ہوئے کہاکہ اوتھل میں پیش آنے والا واقعہ انتہائی افسوسناک ہے جس میں 14مسافر شہید ہوئے بلوچستان کی قومی شاہراہوں پر ایسے حادثات سے بچنے کیلئے اقدامات کی ضرورت پر ہم اس ایوان پر بار بار زور دیتے آرہے ہیں۔
مگر اب تک اس ضمن میں کوئی اقدامات نہیں کئے گئے اس سانحہ میں 14افراد شہید ہوئے ہیں اس دکھ اور قرب کااندازہ ہمیں نہیں بلکہ متاثرہ خاندانوں کو ہو سکتاہے ہم تو یہاں پر صرف کھڑے ہوکر بات کرتے ہیں یا افسوس کااظہار کرتے ہیں انہوں نے کہاکہ ایسے حادثات میں حکومت کی جانب سے متاثرہ خاندانوں کو معاوضے کی ادائیگی کے سلسلے میں کارکردگی بھی افسوسناک ہے ۔
میرے حلقے میں گیس سلنڈر کے واقعہ میں 6افراد جبکہ دیوار گرنے سے ایک ہی گھر کی تین بچیاں شہید ہوئیں انہیں بھی معاوضے کی ادائیگی نہیں کی گئی ہمارے صوبے کی قومی شاہراہیں قاتل اور خونی شاہراہیں بن چکی ہیں حکومتی دعوئوں اور اعلانات کے باوجود ہمارے شاہراہیں دو رویہ نہیں بن رہی حالانکہ ان شاہراہوں پر آئے روز حادثات معمول بن چکے ہیں حکومت دوسرے شعبوں پر اربوں روپے خرچ کرنے کی بجائے ان سڑکوں کو دو رویہ کرکے انسانی جانوں کو بچانے میں کرداراداکرے بدقسمتی سے ہماری نصیب میں دیگر سہولیات کے ساتھ کوئی موٹروے بھی نہیں۔
انہوں نے مطالبہ کیاکہ بلوچستان میں این ایچ اے کے منصوبوں پر کام تیز اور قومی شاہراہوں کو دو رویہ کیاجائے ۔پاکستان نیشنل پارٹی عوامی کے رکن سید احسان شاہ نے کہاکہ وفاقی پی ایس ڈی پی ہرسال بلوچستان کیلئے 30سے 40ارب روپے رکھے جاتے ہیں مگر مالی سال کے آخر میں صرف 50فیصد ہی خرچ کئے جاتے ہیں قومی شاہراہیں تو وفاق کے زیرا نتظام ہیں یہاں صوبائی حکومت کے زیرانتظام شاہراہوں کی حالت بھی ابتر ہے۔
احتساب اورسزا وجزا کا کوئی عمل نہیں پنجگور کا واقعہ انتہائی دلخراش تھا ماضی میں جب گڈانی میں ایک واقعہ پیش آیا تو اس وقت کی حکومت نے عوام کی دلی جوئی تک کرنا گوارہ نہیں کیا ایرانی تیل کی ترسیل بند کرنامسئلے کا حل نہیں اس سے ہزاروں لوگ بے روزگار ہوجائیںگے صوبائی حکومت وفاقی حکومت سے رجوع کریں اور کوئٹہ کراچی شاہراہ کو دو رویہ کیاجائے۔
بی این پی کے رکن شکیلہ نوید دہوار نے کہاکہ آئے روز حادثات المیہ ہے موٹروے پولیس کے اہلکار صرف چالان کرنے کیلئے کھڑے ہیں ڈرائیور شاہراہوں پر غفلت کامظاہرہ کرتے ہیں جبکہ شاہراہوں پر کسی قسم کا نظام نہیں ہے کوئٹہ کراچی شاہراہ سنگل ہونے کی وجہ سے حادثات ہوتے ہیں شاہراہوں کو دو رویہ کئے بغیر ہم اسی طرح لاشیں اٹھاتے اور تحریکیں پیش کرتے رہیںگے انہوں نے کہاکہ پی پی ایچ آئی نے قومی شاہراہوں پر ایمرجنسی سینٹر بنا کر اچھا کام کیاہے ان میں سہولیات بھی مہیا کی جانی چاہئیں۔
بی این پی کے رکن احمدنواز بلوچ نے کہاکہ ہر سال قومی شاہراہوں پر 8سے 9ہزار لوگ حادثات میں مرتے ہیں چیک پوسٹوں پر بھتہ لیاجاتاہے سپیڈ اور لائٹیں چیک نہیں کی جاتی بے روزگاری کی وجہ سے لوگ ایرانی تیل کاکام کرتے ہیں قومی شاہراہوں کو دو رویہ کرنے کے منصوبے کو وفاقی پی ایس ڈی پی میں شامل کیاجائے پی ٹی آئی کے رکن مبین خان خلجی نے کہاکہ اوتھل کا حادثہ افسوسناک ہے اس پر ہر شخص رنجیدہ ہے ژوب کوئٹہ شاہراہ کو دو رویہ کرنے کا ٹیندر ہوا لیکن ایس کے بی اور زیڈ کے بی کے درمیان سپریم کورٹ میں اس ٹینڈر پر کیس چل رہاہے۔
کوئٹہ کراچی شاہراہ کووفاقی حکومت اور پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت دو رویہ کیاجارہاہے امید ہے کہ منصوبے پر جلد کام شروع ہوگا انہوں نے کہاکہ نیا پاکستان ہائوسنگ اسکیم کیلئے دشت اور کچلاک بائی پاس پر دو مقامات کی نشاندہی کی گئی ہے تاہم کابینہ میں اس پر اعتراضات آئے تاہم منصوبے پر جلد کام شروع ہوگا وفاقی حکومت نے صوبے کیلئے 6سوارب روپے کاترقیاتی پیکج دیاہے۔
جنہوں نے پندرہ سال پی اینڈڈی کی وزارت رکھی انہوں نے صوبے میں اسکیمات فج کیں مولانامحمدخان شیرانی نے عوام کی آنکھیں کھول دی ہیں اپوزیشن کو آصف زرداری نے دھوکہ دیا اور اپنی بیٹی کی شادی میں بھی نہیں بلایا انہوں نے تو استعفیٰ دینے تھے اپوزیشن لوگوں کو گمرہ کرنے سے گریز کرے ۔بی این پی کے رکن میر اکبرمینگل نے کہاکہ کوئٹہ کراچی شاہراہ پر کوئی ایسا دن نہیں جس دن اس شاہراہ پر حادثہ نہ ہو اس شاہراہ کو جان بوجھ کر پی ایس ڈی پی میں نہیں ڈالا گیا اگر وفاق اس کو مرحلہ وار بناتی تو 4سے5سال میں یہ منصوبہ مکمل ہوتا قومی شاہراہوں پر بسیں زبو حالی کاشکار ہیں۔
گاڑیوں کی حالت چیک کی جائیں اور غفلت کے مرتکب افراد کو سزائیں دی جائیں ،بی این پی کے رکن اسمبلی ثناء بلوچ نے تحریک التواء پر بحث میں حصہ لیتے ہوئے کہاکہ بلوچستان موت کاکنواں بن گیاہے آئے روز حادثات کی وجہ سے قیمتی جانیں ضائع ہورہی ہیں لیکن وفاقی حکومت اس طرف کوئی توجہ نہیں دے رہا انگریز دور میں اس وقت کی آبادی کی مناسبت سے سڑکیں بنائی گئیں ریلوے کی پٹڑی بچھائی گئی ۔
لیکن موجودہ دور میں سوائے موت کے بلوچستان کی عوام کو کوئی سہولت نہیں دیاجارہا انہوں نے تجویز دی کہ بلوچستان کو دوبارہ انگریزوں کو ٹیکے پر دیاجائے کم از کم اموات میں کمی ضرور آئے گی ۔انہوں نے آخر میں بلوچستان کی شاعرہ جہاں آرا تبسم کے کچھ اشعار بھی پڑھے ۔بعدازاں ڈپٹی اسپیکر بلوچستان اسمبلی سرداربابر موسیٰ خیل نے صوبائی اسمبلی اجلاس میں گورنر کا حکم نامہ پڑھ کر اجلاس غیر معینہ مدت تک کیلئے ملتوی کردیا۔