کوئٹہ: پاکستان مسلم لیگ(ن) کے صوبائی صدر و سابق اسپیکر جمال شاہ کاکڑ نے کہا ہے کہ بلوچستان کی ترقی کے دعوے محض طفل تسلیاں ہیں، کورونا وائرس کا بہانا بنا کر کوئٹہ سے چلنے والی ٹرنینیں بند کرنا قابل مذمت ہے حکومت اگر سہولت نہیں دے سکتی تو مسافروں کو سستی سواریوں سے محروم بھی نہ کرے، بلوچستان سے ملک بھر میں جانے والی 7میں سے اس وقت صرف ایک ٹرین چلائی جارہی ہے۔
سی پیک سے ترقی دینے والوں سے گزارش ہے کہ فل الحال صرف ٹرینیں ہی بحال کردیں تو کافی ہے، یہ بات انہوں نے اتوار کو اپنے ایک بیان میں کہی ، انہوں نے کہا کہ بلوچستان کو ترقی دینے کی دعویدار حکومت میں سال2020میں کورونا وائرس سے بچائو کی آڑ میں یہ تعداد 1کردی گئی ہے ہمیں کورونا وائرس سے زیادہ حکومتی وائرس سے خطرہ ہے۔
جو رفتہ رفتہ ہمیں پسماندگی کا شکار کر رہی ہے کوئٹہ سے نہ صرف مسافر بلکہ ڈرائی پورٹ سے بھی سامان کی بڑی تعداد کی ترسل ٹرینیوں کے ذریعے ہوتی تھی جو کہ اس وقت بند ہے ٹرین سے صرف مسافر نہیں بلکہ ریلوے اسٹیشن پر کام کرنے والے کلی، ٹرانسپورٹر، اشیاء فروخت کرنے والے افراد بھی بری طرح متاثر اور نان شبینہ کے متحاج ہورہے ہیں ، انہوں نے کہا کہ ریل سستی اور محفوظ سواری ہے جس میں متوسط اور غریب طبقے کے لوگ ، مریض، اور ہر عمر کے لوگ با آسانی سفر کرسکتے ہیں لیکن کورونا وائرس کا بہانا بنا کر بلوچستان سے چلنے والی بولان میل اور نواب اکبر بگٹی ایکسپریس ٹرینیں بھی بند کردی گئی ہیں۔
کیا یہ وائرس صرف بلوچستان سے پھیل رہا ہے جبکہ ملک بھر سے چلنے والی ٹرینیوں کو بتدریج بحال کردیا گیالیکن صوبے کی عوام کو ریل کی سہولت سے محروم کیا جارہا ہے انہوں نے کہا کہ حکومتی غفلت اور غیر سنجیدیگی کی وجہ سے لوگ مہنگے داموں نجی ٹرانسپورٹ کمپنیوں کے ذریعے لوگوں کو سفر کرنے پر مجبور کیا جارہا ہے انہوں نے کہا کہ ہرنائی اور زاہدان ٹریک کا عرصہ دراز سے تکمیل کے باوجودبحال نہ ہونا تشویشناک ہے وفاقی اور صوبائی حکومتیں خواب خرگوش میں سوئی ہوئی ہیں جبکہ عوام یہاں پریشانی کا شکار ہے انہوں نے مطالبہ کیا کہ کوئٹہ سے چلنے والی ٹرینیں فوری طور پر بحال کی جائیں