|

وقتِ اشاعت :   February 10 – 2021

حیدرآباد: نیشنل پارٹی کے سربراہ اور سابق وزیراعلیٰ بلوچستان ڈاکٹر عبدالمالک نے کہا کہ سندھ بلوچستان کے خلاف جو سازشیں ہو رہی ہیں پی ڈی ایم اس کی مذمت اور مذاحمت کر رہا ہے، ہمارا ایک ہی ہدف ہے کہ پاکستان کو آئین اور قانون کے مطابق پارلیمنٹ کی بالادستی کے ذریعے چلایا جائے، پی ڈیم ایم پاکستان کے خلاف ہونے والے ہر سازش کو ناکام بنا دے گا۔

یاد رکھا جائے کہ جو ادارے آج آئین کو نہیں مان رہے کل اگر عوام نے آئین کو نہ مانا تو کیا ہو گا۔وہ پی ڈی ایم کے زیراہتمام ہٹڑی بائی پاس پر جلسہ عام سے خطاب کر رہے ہیں، ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے کہا کہ آج پارلیمنٹ اور آئین کے ساتھ جو سلوک کیا جا رہا ہے وہ ختم ہونا چاہیے، عدلیہ بھی پابند سلاسل ہے اور میڈیا پر بھی قدغن ہے، محنت کشوں کے لئے روزگار اور روٹی مشکل کر دی گئی ہے۔

طلباء یونینوں پر پابندی ہے، انتخابات میں ٹھپے لگتے ہیں، اس طرح ملک نہیں چلے گا، انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں کوئی الیکشن نہیں ہوا ٹھپہ مافیا کو اقتدار دیا گیا، اگر سلیکٹرز نے یہ رویہ تبدیل نہ کیا آئین کی بالادستی کو تسلیم نہ کیا تو پاکستان ایک جمہوری ریاست نہیں بن سکتا، انہوں نے کہا کہ ایسا لگتا ہے کہ بلوچ پختون پنجابی سندھی سرائیکی کے سوال اور مظلوم طبقات کے حقوق کے وسائل کو “زورآور ” حل نہیں کرنا چاہتے۔

سندھ بلوچستان کے خلاف جو سازشیں ہو رہی ہیں پی ڈی ایم ان کی مذمت بھی کر رہا ہے اور مذاحمت بھی ہو رہی ہے، انہوں نے کہا کہ سندھ اور بلوچستان کے جزائر پر وفاق کے قبضے کی کوشش آئین اور قانون کے خلاف ہے سندھ اور بلوچستان کے عوام اس کو ہرگز قبول نہیں کریں گے، انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے سیندیک کے منصوبے میں 50 فیصد غیرملکی اور 48 فیصد حکومت پاکستان کا حصہ ہے ۔

جبکہ بلوچستان کو صرف 2 فیصد حصہ مل رہا ہے، اسی طرح اب سندھ کے سوئی گیس کے وسائل کو لوٹا جا رہا ہے، انہوں نے کہا کہ گوادر پورٹ پر ڈرامہ رچایا جا رہا ہے اس سے بلوچستان کو کچھ نہیں ملے گا کیونکہ 94 فیصد حصہ چین کا ہے اور 7 فیصد وفاقی حکومت کا ہے، یہ شرمناک رویہ ہے کہ ہمارے وسائل غیرآئینی طور پر لوٹے جا رہے ہیں، انہوں نے کہا کہ پاکستان کے خلاف جو بھی سازشیں ہو رہی ہیں ۔

پی ڈی ایم اس کو ناکام بنا دے گا، ہم مظلوم اور محکموم عوام اور اقوام کے ساتھ کھڑے ہیں، انہوں نے کہا کہ آج یہاں عوام کا سیلاب جمع ہے جس پر میں بلاول بھٹو زرداری کو مبادکباد دیتا ہوں اور امید کرتا ہوں کہ نوجوان بلاول پیپلزپارٹی میں ذوالفقار علی بھٹو کی طرح ایسی تبدیلیاں لائیں گے جس سے پارٹی بھی مستحکم ہو اور اس کے ذریعے ساری قومیں مستحکم ہوں، انہوں نے کہا کہ پی ڈی ایم متحد ہے۔

اور ہم سب کا ایک ہی نعرہ ہے کہ پاکستان کے تمام اداروں کو اب آئین اور قانون کے مطابق چلنا پڑے گا، آئین نے ہی اس ملک کو متحد رکھا ہے جو اس کو نہیں مانتے وہ خبردار رہیں کہ اگر ہم نے اور عوام نے بھی آئین کو نہ مانا تو پھر نتیجہ کیا ہو گا۔

انہوں نے کہا کہ پی ڈی ایم کے 26 مارچ کو ہونے والے اسلام آباد لانگ مارچ میں اگر آج یہاں حاضر لوگ ہی شریک ہو جائیں تو دھاندلی زدہ حکومت ہل جائے گی کیونکہ اب اس کے دن گنے جا چکے ہیں۔