اسلام آباد: سینیٹ کی خصوصی کمیٹی برائے سی پیک کے ارکان نے گوادرکے گرد باڑ کی تنصیب پر تحفظات کا اظہار کرتے اسے مسترد کر دیا، جبکہ کمیٹی نے وزارت منصوبہ بندی و ترقی حکام کو ہدایت کی کہ کمیٹی کو تفصیلات دی جائیں کہ بلوچستان حکومت سے باڑلگانے کی اجازت کس نے لی ہے؟ کمیٹی نے چیئرمین این ایچ اے کی اجلاس میں عدم موجودگی پربرہمی کا اظہار کیا اور ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے انہیں شوکاز نوٹس جاری کرنے کا فیصلہ ہے۔
کمیٹی ارکان نے کہا کہ جو ماسٹر پلان میں ہے ابھی تک وہ شروع بھی نہیں کیا اور جو ماسٹر پلان میں نہیں ہے وہ بننے والا ہے، آپ گوادر کو کاروباری شہر بنانے والے ہو یا جیل بنانے والے ہو،جیل مت بناؤ، ہم خاردار تار کو مسترد کرتے ہیں،جیل میں جیلر کی بادشاہی ہوتی ہے، اسکا مقصد ہے کہ گوادر کے مکینوں کو اتنا تنگ کیا جائے کہ وہ شہر سے نکل جائیں،انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہورہی ہے۔
جبکہ وزارت منصوبہ بندی حکام نے کمیٹی کوبتایا کہ یہ وفاقی حکومت لگا رہی ہے،وزارت دفاع کا منصوبہ ہے۔جمعہ کو سینیٹ کی خصوصی کمیٹی برائے سی پیک کا اجلاس کنوینر کمیٹی سینیٹر سکندر میندھرو کی صدارت میں ہوا، کنوینر کمیٹی سکندر میندھرو نے کہا کہ کافی ساری میٹنگز ہو گئی ہیں، کوئی چیز کلیئر نہیں ہوئی،وزیر ریلوے سینیٹر اعظم خان سواتی نے کہا کہ سی پیک ہمارا مستقبل ہے۔
سینیٹر عثمان خان کاکڑ نے کہا کہ ڈیرہ اسماعیل خان تا ژوب روٹ کی کیا پوزیشن ہے،کچھ بھی نہیں ہوا ہے، کمیٹی کو متعلقہ حکام نے آگاہ کیا کہ رشکئی اسپیشل اکنامل زون سی پیک کا سب سے اہم سپیشل اکنامک زون ہے، یہ کامیاب ماڈل ہے، اس میں تاخیر نہیں ہے،مارچ میں اس کی رسمی گراؤنڈ بریکنگ ہے، رکن کمیٹی سینیٹر میر کبیر نے کہا کہ اس کمیٹی سے ہم فائدہ نہیں لے سکے، کاغذات بھرے گئے، صرف میٹنگز کرکے وقت ضائع کیا گیا۔اعظم خان سواتی نے کہا کہ ریلوے کی حالت بتاؤں توآپ حیران رہ جائیں گے، ریلوے میں اتنی بڑی تعداد میں لوگ بھرتی ہیں۔
وزارت منصوبہ بندی و ترقی حکام نے کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ گوادر کا ماسٹر پلان بن گیا ہے،359 اسکوئر کلومیٹر اس کا رقبہ ہے، عثمان خان کاکڑ نے کہا کہ ماسٹر پلان میں خاردار تار ہے؟ جس پر وزارت منصوبہ بندی حکام نے جواب دیا کہ ظاہر ہے نہیں ہو گا،عثمان خان کاکڑ نے کہا کہ جو ماسٹر پلان میں ہے ابھی تک وہ شروع بھی نہیں کیا اور جو ماسٹر پلان میں نہیں ہے وہ بننے والا ہے۔
آپ گوادر کو کاروباری شہر بنانے والے ہو یا جیل بنانے والے ہو،جیل مت بناؤ، ہم خاردار تار کو مسترد کرتے ہیں،جیل میں جیلر کی بادشاہی ہوتی ہے،میر کبیر نے کہا کہ اسکا مقصد ہے گوادر کے مکینوں کو اتنا تنگ کیا جائے کہ وہ شہر سے نکل جائیں،انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہورہی ہے،کنوینر کمیٹی نے کہا کہ بلوچستان حکومت سے باڑلگانے کی اجازت کس نے لی ہے؟ کمیٹی کو تفصیلات دی جائیں بلوچستان حکومت سے پوچھ کر بتائیں، سینیٹر میر کبیر نے کہا کہ باڑ لگا کون رہا ہے؟ جس پر وزارت منصوبہ بندی حکام کی جانب سے بتایا کہ وفاقی حکومت لگا رہی ہے۔
یہ وزارت دفاع کا منصوبہ ہے۔عثمان خان کاکڑ نے کہا کہ گوادر،ہوشاب شاہراہ کے ساتھ سے موٹروے کا لفظ حذف کریں یہ موٹروے نہیں ہے،سارے بلوچستان میں ایک فرلانگ بھی موٹروے نہیں ہے اورآئندہ دو سو سال میں کوئی منصوبہ بھی نہیں،کمیٹی نے چیئرمین این ایچ اے کی اجلاس میں عدم موجودگی پربرہمی کا اظہار کیا اور ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے انہیں شوکاز نوٹس جاری کرنے کا فیصلہ کیا۔
کنوینر کمیٹی نے کہا کہ ذمہ دار افسر کو کمیٹی میں آنا چاہیے،یہ آئینی باڈی ہے، جو آدمی منصوبے کی جگہ گیا ہی نہیں وہ بریفنگ دے گا توکیا ہمیں یقین آئے گا، سینیٹر میر کبیر نے کہا کہ ماسٹر پلان ایک کاغذ ہے اسکے نام پر باڑ شروع ہوا ہے۔کنوینر کمیٹی نے کہا کہ کوئی بھی سینیٹر بریفنگ سے مطمئن نہیں ہے۔