|

وقتِ اشاعت :   February 12 – 2021

کوئٹہ: سپریم کورٹ بار ایسوسیشن کے سابق صدر امان اللہ کنرانی نے گزشتہ روز سپریم کورٹ پاکستان کے ایک معزز بنچ نے بلوچستان کے سپریم کورٹ میں واحد جج جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کو عمران خان وزیر اعظم کو دو فریق قرار دے کر عدلیہ کی تاریخ پر دوبارہ نظر ثانی کرنے کی ضرورت کو اجاگر کیا ہے اور بدقسمتی سے پاکستان کی عدلیہ بالعموم سپریم کورٹ میں بالخصوص 2008-2022 تک ایک مخمصہ تھا اور رہے گا۔

یعنی جب جنرل پرویز مشرف نے 3 نومبر 2007 کو بیک جنبش قلم عدالت عالیہ و عظمی کے 101 فاضل جج صاحبان کو غیر فعال کردیا تاہم ایک شرط پر دوبارہ اپنا مقام حاصل کرسکتے تھے کہ وہ دوبارہ حلف اٹھائیں جس سے 3 نومبر 2007 کو انکی برطرفی کو مہر ثبت ہونی تھی مگر کسی جج نے ایسا نہ کیا ۔

تاہم موجودہ چیئرمین نیب جو سپریم کورٹ کے جج تھے نے ایک اور عہدہ حاصل کرکے اس دور میں چیئرمین پریس کونسل کا حلف اٹھا کر اپنی برطرفی کو تسلیم کرلیا باقی جج صاحبان اس وقت تک گھروں میں بیٹھے رہے جب تک آصف علی زرداری صدر اسلامی جمہوریہ پاکستان بنے انھوں نے تمام جج صاحبان سوائے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کو پیشکش کی کہ وہ دوبارہ آئین کے تحت حلف اٹھائیں۔

اور اپنی سابقہ پوزیشن پر بحال ہوجائیں اور 3 نومبر 2007 کے احکامات کے تحت چیف جسٹس عبدالحمید ڈوگرکی سربراہی میں کام کریں پاکستان کے تمام جج صاحبان نے یہ پیشکش قبول کرکے دوبارہ اپنی اپنی سینارٹی پر واپس آگئے مگر سپریم کورٹ کے دو جج صاحبان خلیل رمدے اور چوہدری اعجاز نے اپنے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی بحالی کے بغیر حلف اٹھانے سے انکار کردیا۔

جبکہ بلوچستان سے ایک سپریم کورٹ کے جج نے اس وقت کے چیف جسٹس عبدالحمید ڈوگر سے ملاقات کرکے خواہش ظاہر کی کہ ان کو بھی حلف دے کر بحال کیا جائے مگر اس کی حد تک معذرت کی گئی جنرل کیانی و ایک سرکردہ وکیل و چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کے درمیان ایک غیر تحریری و سینہ بہ سینہ معاہدے کے تحت تین شرائط پر 9 مارچ 2009 کو چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری بحال ہوئے 1-عبدالحمید ڈوگر کی مدت ملازمت 23 مارچ 2009 تک وہ انتظار کریں گے۔

اور اس کی ریٹائر منٹ کے بعد انکی خالی کردہ عہدے پر بحال ہونگے،گویا بالواسطہ انھوں نے 3 نومبر 2007 سے 9 مارچ 2009 کی مدت کے دوران اپنی برطرفی و چیف جسٹس عبدالحمید ڈوگر کی تعیناتی و تقرری کو تسلیم کرتے ہوئے 24 مارچ 2009 سے کام شروع کریں گے 2-جنرل کیانی کی بطور COAS آئین کی حکمرانی کے اندر پہلی بار کسی قانون و قاعدے بغیر تین سالہ توسیع پر عدلیہ خاموش رہے گی 3۔